پارلیمان، عدلیہ بالادستی کی لڑائی نیا رخ اختیار کرے گی

Posted by on Jul 07, 2012 | Comments Off on پارلیمان، عدلیہ بالادستی کی لڑائی نیا رخ اختیار کرے گی

 

پاکستان کی حکومت نے توہین عدالت کے پرانے قوانین منسوخ کرکے جو نیا قانون پارلیمان سے منظور کرانے کے لیے تیار کیا ہے، اس کے بعض نکات ایسے ہیں جن سے بظاہر لگتا ہے کہ وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو ممکنہ نااہلی اور ملک ریاض کو ریلیف دلانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

لیکن ’جوڈیشل ایکٹوزم‘ کے حامی تو اب بھی اس بات کے خواہاں ہیں کہ راجہ پرویز اشرف کو بارہ جولائی کو ہی عدالت چلتا کردے۔ لیکن ظاہر ہے کہ عدالت کو قوانین کے تحت چلنا ہے اس لیے شاید وہ جلد بازی نہ کرے۔ لیکن حکومت نے جس طرح راتوں رات کابینہ سے تمام اتحادیوں کے وزراء کی موجودگی میں متفقہ منظوری حاصل کی اور چھ جولائی کو قومی اسمبلی اور نو جولائی کو سینیٹ کا اجلاس بلایا ہے اس سے تو لگتا ہے کہ انہیں بڑی جلدی ہے کہ توہین عدالت کا قانون جتنا جلد ہوسکے منظور کرائے۔

فی الوقت یہ کہنا تو قبل از وقت ہوگا کہ حکومت اپنی حکمت عملی میں کامیاب ہوگی یا نہیں لیکن اس سے حکومت اور عدلیہ میں تناؤ کا نیا سلسلہ شروع ہوگا اور سپریم کورٹ میں ایک نیا سٹیج سجے گا۔

بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ نیٹو سپلائی کھولنے کے بعد سے حکومت کو ایک نئی ’لائف لائن‘ ملی ہے اور اب کی بار وہ اپنے وزیرِ اعظم کو بچانے کے لیے ایسی خاموشی نہیں اختیار کرے گی جیسی یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کے معاملے میں کی تھی۔

حکومت والے یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ایک منتخب وزیر اعظم کی سپریم کورٹ کے ہاتھوں نااہلی متنازع بنی اور عدلیہ پر ملک کے اندر اور باہر باالخصوص امریکی اور یورپی میڈیا میں سخت تنقید ہوئی، جس سے وہ راجہ پرویز اشرف کی نااہلی میں جلد بازی کے بجائے تحمل سے کام لے گی۔

سب کو معلوم ہے

نئے مسودے میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص جج کے بارے میں سچائی بیان کرتا ہے جوکہ ان کی عدالتی سرگرمیوں کے بارے میں نہیں تو وہ توہین عدالت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ عدالتی فیصلوں کے بارے میں مناسب الفاظ میں تبصرہ کرنا بھی توہین عدالت نہیں ہوگا۔ حال ہی میں کس جج کے خلاف کس نے سچائی بیان کی ہے یہ تو سب کو معلوم ہے۔

آپ اگر کابینہ سے منظور کردہ توہین عدالت کے بل کے مسودے کا جائزہ لیں تو اس میں واضح طور پر لکھا ہے کہ آئین کی شق دو سو اڑتالیس کی ذیلی شق ایک کے تحت جن عوامی عہدے رکھنے والے اشخاص کو استثنیٰ حاصل ہے، ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی نہیں ہوسکے گی۔

وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ صدر، وزیراعظم، گورنر، وزراء اعلیٰ، وفاقی اور صوبائی وزراء کے خلاف سرکاری امور کے بارے میں توہین عدالت کی کارروائی نہیں ہوگی۔

توہین عدالت کے نئے قانون میں کئی تبدیلیاں کی گئی ہیں اور مجوزہ بل کے تحت سپریم کورٹ کے توہین عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کی مدت تیس روز سے بڑھا کر ساٹھ روز کی گئی ہے۔ جبکہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل تیس روز کے اند ر ہوگی۔

ایک اہم شق یہ بھی ہے کہ توہین عدالت کا کوئی فیصلہ یا عبوری حکم اس وقت تک حتمی تصور نہیں ہوگا جب تک اس کے خلاف اپیل اور نظر ثانی کی درخواستوں پر حتمی فیصلہ نہیں آتا۔ شکر ہے کہ میاں نواز شریف کی طرح یہ شق نہیں شامل کی کہ توہین عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر ہوتے ہی از خود سزا کا فیصلہ معطل تصور ہوگا۔

نئے بل کے کچھ نکات کا تعلق تو ماضی قریب میں رونما ہونے والے واقعات سے ہے۔ جیسا کہ توہین عدالت کے نئے مجوزہ قانونی مسودے میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی جج کے خلاف سکینڈلائیز کرنے کا معاملہ ہوگا تو وہ جج وہ مقدمہ نہیں سن سکتا۔ کسی جج کی عدالتی کارروائی سے ہٹ کر ان کے خلاف اگر کوئی معاملہ آتا ہے تو وہ پوری عدالت کو سکینڈلائیز کرنا نہیں تصور ہوگا۔

نئے مسودے میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص جج کے بارے میں سچائی بیان کرتا ہے جوکہ ان کی عدالتی سرگرمیوں کے بارے میں نہیں تو وہ توہین عدالت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ عدالتی فیصلوں کے بارے میں مناسب الفاظ میں تبصرہ کرنا بھی توہین عدالت نہیں ہوگا۔ حال ہی میں کس جج کے خلاف کس نے سچائی بیان کی ہے یہ تو سب کو معلوم ہے۔

مندرجہ بالا نکتہ تو ملک ریاض کے ’ارسلان گیٹ‘ کے مقدمے میں عدالت کی اس رائے سے جڑا نظر آتا ہے جس میں جج صاحبان کہتے رہے ہیں کہ یہ پوری عدلیہ کو سکینڈلائیز کرنے کے مترادف ہے۔ اس سے بھی اہم ایک اور نکتہ یہ ہے کہ اگر چیف جسٹس کو سکینڈ لائیز کرنے کا معاملہ آئے گا تو چیف جسٹس کے فرائض دو سب سے سینئر جج نمٹائیں گے۔

دلچسپ نکتہ

جہاں تک پارلیمان کی کارروائی کی بات ہے تو اس بارے میں ایک دلچسپ نکتہ ہے۔ جس کے تحت پارلیمان کے دونوں ایوانوں یا صوبائی اسمبلی میں اگر کوئی ایسی بات ہوتی ہے جو سپیکر یا چیئرمین سینیٹ کارروائی سے حذف کرتے ہیں تو وہ باتیں بطور ثبوت کہیں پیش نہیں ہوں گی اور اس بارے میں توہین عدالت کی کارروائی بھی نہیں ہوگی۔

انٹرا کورٹ آرڈر یا عبوری حکم کے خلاف اپیل سپریم کورٹ کے ملک میں موجود تمام ججوں پر مشتمل بڑا بینچ سنے گا۔ اگر کسی فریق کی اپیل نصف ججوں نے سنی تو اس کے خلاف اپیل یا نظر ثانی کی درخواست فل کورٹ سنے گا۔ یعنی توہین عدالت کے معاملے میں اب پوری کورٹ مصروف ہوگی باقی معاملات بھاڑ میں جائیں۔

قانونی مسودے میں یہ بھی ہے کہ عدالت کے سامنے دوران سماعت توہین کرنے والے شخص کو عدالت حراست میں لینے کا حکم دے سکتی ہے لیکن اُسی روز انہیں ضمانت پر رہا کرنے کی پابند ہوگی۔ لیکن ان کے خلاف اگر بعد میں مقدمہ چلتا ہے تو انہیں مزید سزا دی جاسکتی ہے۔

اس کا مطلب تو حکومت مخالف یہ بھی نکال سکتے ہیں کہ اسمبلی میں ججوں کے بارے میں کھل کر بولیں اور آخر میں اُسے کارروائی سے حذف کرادیں۔

بظاہر تو لگتا ہے کہ سپریم کورٹ پارلیمان کی اس قانون سازی کو بھی کالعدم قرار دے سکتی ہے اور ملک میں پارلیمان اور عدلیہ کی بالا دستی کی لڑائی ایک نیا رخ اختیار کرے گی اور ایسے میں حکومت کچھ بھی کرسکتی ہے کیونکہ انتخابات قریب ہیں۔

جہاں تک پارلیمان کی کارروائی کی بات ہے تو اس بارے میں ایک دلچسپ نکتہ ہے۔ جس کے تحت پارلیمان کے دونوں ایوانوں یا صوبائی اسمبلی میں اگر کوئی ایسی بات ہوتی ہے جو سپیکر یا چیئرمین سینیٹ کارروائی سے حذف کرتے ہیں تو وہ باتیں بطور ثبوت کہیں پیش نہیں ہوں گی اور اس بارے میں توہین عدالت کی کارروائی بھی نہیں ہوگی۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here