وزیر اعظم کی نااہلی کے بعد احتجاج ختم

Posted by on Jun 21, 2012 | Comments Off on وزیر اعظم کی نااہلی کے بعد احتجاج ختم

وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کے عدالتی فیصلے نے پنجاب میں ہونے والے پرتشدد احتجاجی مظاہروں پر برف گرا دی ہے۔

بجلی کی لوڈ شیڈنگ پر پنجاب میں دو روز تک ہونے والے مظاہروں کے بعد بدھ کو حالات نسبتا” پُر امن رہے۔

پنجاب میں بجلی کا بحران اپنی جگہ پر اسی طرح قائم ہے تاہم شدید گرمی میں لوڈ شیڈنگ سے ستائے ان لوگوں کا غصہ عدالتی فیصلے کے بعد اچانک ٹھنّا ہو گیا۔

بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف پر تشدداحتجاجی مظاہروں کا سلسلہ دو روز قبل شروع ہوا تھا اور منگل کی صبح بھی اس میں شدت دیکھی گئی تھی۔

مظاہرین ڈنڈے اٹھائے گھروں سے باہر سڑکوں پر تھے کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کا فیصلہ آ گیا اور پھر آہستہ آہستہ احتجاجی مظاہرے کم ہوگئے۔

کئی لوگ بجلی کی بندش سے تنگ تو بہت زیادہ ہیں لیکن وہ اپنے روز گار کی وجہ سے ان مظاہروں میں شریک نہیں ہوتے۔ان لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر احتجاجی مظاہروں میں جائیں گے تو بچوں کو دو وقت کی روٹی کہاں سے دیں گے تاہم ان لوگ کا خیال ہے کہ یوسف رضا گیلانی کی نا اہلی کا فیصلہ مظاہروں میں کمی کا باعث بنا ہے۔

اردو روزنامہ ایکسپریس کے مدیر ایاز خان کے بقول انہیں جو اطلاعات ملی ہیں ان کے مطابق بدھ کے روز پنجاب بھر میں مظاہروں کی شدت میں غیر معمولی کمی ہوئی ہے۔

مظاہروں کی شدت میں کمی کی وجہ بتاتے ہوئے صحافی ایاز خان نے کہا کہ لوگ پیپلز پارٹی کی حکومت کو بجلی کی بندش کا ذمہ دار سمجھتے ہیں اور وزیر اعظم کی نااہلی کا فیصلہ آنے کے بعد ان کا غصہ کم ہوگیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی حکومت کے خاتمے کے بعد ان مظاہروں کے پیچھے جو سیاسی قوتیں تھیں ان کا بظاہر کسی حد تک ہدف مکمل ہوگیا ہے۔ یاد رہے کہ صوبہ پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف نے مظاہرین کی حمایت کا اظہار کیا تھا اور یہ بیان بھی دیا تھا کہ وہ پولیس کو مظاہرین کو منتشر کرنے کا احکامات نہیں دیں گے۔

بجلی کا بحران آج بھی اسی طرح ہے اور عام لوگوں اس بات پر حیران ہیں کہ لوڈ شیڈنگ کی شدت میں تو کوئی کمی نہیں ہوئی تو پھر آخر مظاہرے کیوں رک گئے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی نا اہلی کے فیصلے نے اگرچہ احتجاجی مظاہروں پر برف گرا دی ہے لیکن اگر بجلی کی بندش میں کمی نہ ہوئی تو چند دن میں لوگ پھر گھروں سے باہر ہوں گے اور اس بار ہو سکتا ہے کہ ان مظاہروں کی شدت گزشتہ مظاہروں سے زیادہ ہو۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here