وزیراعظم گیلانی کی نااہلی کا نوٹیفیکیشن جاری

Posted by on Jun 20, 2012 | Comments Off on وزیراعظم گیلانی کی نااہلی کا نوٹیفیکیشن جاری

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے عدالت عظمیٰ کے حکم پر وزیراعظم گیلانی کی نااہلی کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔

گزشتہ روز پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی کو نااہل قرار دے دیا تھا۔جس کے بعد الیکشن کمیشن نے عدالت عظمیٰ کے حکم پر وزیراعظم گیلانی کی نااہلی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا ۔ نوٹیفیکیشن کے مطابق یوسف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ کے احکامات کے روشنی میں چھبیس اپریل سے نااہل قرار دیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے نوٹیفیکیشن کے مطابق یوسف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ کے احکامات کے روشنی میں چھبیس اپریل سے نااہل قرار دیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق یوسف رضا گیلانی قومی اسمبلی کے رکن بھی نہیں رہے ہیں۔

یاد رہے کہ سال دو ہزار آٹھ کے عام انتخابات میں یوسف رضا گیلانی قومی اسمبلی کے حلقے ایک سو اکاون ملتان چار سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق خالی ہونے والی اس نشست پر ضمنی انتخاب کا شیڈول آئندہ چند روز میں جاری کر دیا جائے گا۔

دریں اثنا یوسف رضا گیلانی کی بطور وزیر اعظم نااہلی پر امریکہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں جاری سیاسی بحران اس کا اندورنی معاملہ ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان اپنے آئین کے مطابق اس کا حل تلاش کر لے گا۔

امریکہ کی وزرات خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ کا کہنا تھا کہ امریکہ کو یہ توقع نہیں کہ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے سے واشنگٹن اور اسلام آباد کے سفارتی تعلقات متاثر ہو گئے۔

پاکستان میں جاری سیاسی ہل چل سے قطہ نظر امریکی وزرات خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لیے بات چیت جاری رکھے گا۔

گیلانیفیصلے کے مطابق یوسف رضا گیلانی چھبیس اپریل سے ہی قومی اسمبلی کے رکن نہیں رہے

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے یہ فیصلہ وزیرِاعظم کی نااہلی سے متعلق سپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ کے حوالے سے دائر درخواستوں پر سنایا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے چھبیس اپریل کو یوسف رضا گیلانی کو آئین کے آرٹیکل دو سو چار دو کے تحت توہینِ عدالت کا مرتکب پایا تھا اور انہیں عدالت کی برخاستگی تک قید کی سزا سنائی تھی اور اب جبکہ اس فیصلے کے خلاف کوئی اپیل دائر نہیں کی گئی، یوسف رضا گیلانی آئین کے آرٹیکل تریسٹھ ایک جی کے مطابق چھبیس اپریل کے عدالتی فیصلے کے اعلان کے وقت سے قومی اسمبلی کے رکن نہیں رہے۔

عدالت کے مطابق وہ اسی تاریخ سے ملک کے وزیرِاعظم بھی نہیں رہے اور یہ عہدہ اس دن سے خالی تصور کیا جائے۔ عدالت نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بھی حکم دیا ہے کہ وہ چھبیس اپریل سے ہی یوسف رضا گیلانی کی مجلسِ شوریٰ کی رکنیت ختم کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کرے۔

فیصلے کے آخر میں کہا گیا ہے کہ صدرِ پاکستان کے لیے ضروری ہے وہ آئین کے مطابق ایسے اقدامات کریں کہ ملک میں پارلیمانی نظام کے تحت جمہوری عمل جاری رہے۔

دریں اثناء سپریم کورٹ کے ممکنہ فیصلے کے تناظر میں اسلام آباد میں ایوانِ میں پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کا ہنگامی اجلاس بھی منعقد ہوا ہے جس میں صدر اور پیپلز پارٹی کے اہم رہنما شریک ہیں۔

اس سے قبل ان درخواستوں کی سماعت کے دوران پاکستان کے چیف جسٹس جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر توہینِ عدالت کے مقدمے میں سات رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف اپیل کردی جاتی تو ہو سکتا تھا کہ وزیر اعظم کی نااہلی کچھ عرصے کے لیے رک جاتی۔

“قومی اسمبلی کی سپیکر کو آئین کے آرٹیکل تریسٹھ(دو) کے تحت جو اختیارات حاصل ہیں وہ مجلسِ شوریٰ کی کارروائی کو حاصل تحفظ کے تحت نہیں آتے چنانچہ یہ عدالت عدالتی جائزے کا اختیار استعمال کرتے ہوئے پچیس مئی کے حکم (سپیکر کی رولنگ) کی تحقیقات کر سکتی ہے۔”

عدالتی فیصلہ

چیف جسٹس نے ریمارکس میں مزید کہا کہ سات رکنی بینچ کے فیصلے کی سکروٹنی کرنے کا حق کسی کے پاس نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آرٹیکل 248 کا حوالہ نہ تو این آر او کے کیس میں دیا گیا اور نہ ہی توہینِ عدالت کے مقدمے میں۔

اس سے قبل پاکستان کے اٹارنی جنرل عرفان قادر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپیکر کی رولنگ پر قومی اسمبلی میں قرارداد اس لیے لائی گئی کہ خدشہ تھا کہ سپریم کورٹ کوئی اور حکم جاری نہ کردے۔

بینچ میں شامل جسٹس خلجی عارف حسین نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ اگر سپیکر کی رولنگ کارروائی کا حصہ تھی تو پھر قرارداد کیوں لائی گئی۔ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ قرارداد اس لیے لائی گئی کہ خدشہ تھا کہ سپریم کورٹ کوئی اور حکم نہ دے دے۔

عرفان قادر نے مزید کہا کہ اسمبلی کے کسی بھی رکن کو نااہل قرار دینا پارلیمنٹ کا کام ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سات رکنی بینچ کا فیصلہ آئین کے آرٹیکل 248 کی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ آرٹیکل وزیر اعظم امور کو فرائض سرانجام دحنے کے لیے تحفظ فراہم کرتا ہے۔

اٹارنی جنرل عرفان قادر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ وزیراعظم کو عدالت میں طلب نہیں کر سکتی کیونکہ یہ غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔ دلائل دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ سوئس حکام کو مقدمے دوبارہ کھولنے کے حوالے سے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا خط نہ لکھنے کا فیصلہ آئین کے مطابق تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر صورتحال یہی رہی تو حکومت کو ہر قدم اٹھانے سے پہلے سپریم کورٹ سے رجوع کرنا پڑے گا۔

اس معاملے کا آغاز سپریم کورٹ کی جانب سے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو این آر او مقدمے میں عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے پر توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کیے جانے سے ہوا تھا۔

بعد ازاں انہیں اس جرم کا مرتکب قرار دے کر عدالت کی برخاستگی تک کی سزا سنائی گئی تھی تاہم سپیکر قومی اسمبلی نے وزیراعظم کو اس سزا کی بنیاد پر نااہل قرار دینے سے انکار کر دیا تھا۔

اس پر پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف نے وزیراعظم کی اہلیت سے متعلق سپیکر کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی تھیں۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here