وزیراعظم کا انتخاب 22 جون کو

Posted by on Jun 20, 2012 | Comments Off on وزیراعظم کا انتخاب 22 جون کو

پاکستان کے نئے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس 22 جون کی شام بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پارلیمان میں اکثریتی جماعت پیپلز پارٹی کے سنیئر رہنما خورشید شاہ نے بدھ کو اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اُمیدوار جمعرات کو کاغذات نامزدگی جمع کرائیں گےاور”نئے وزیراعظم کے نام کا حتمی فیصلہ صدر آصف علی زرداری کریں گے”۔

’’جو انتظامی فیصلے ہیں ان میں بہت سارے فیصلوں پر ذرا دیکھنا پڑے گا،عدالت کو تفصیلی فیصلے میں اس پر کچھ کرنا پڑے گا کیوں کہ جج بھی تعینات ہوئے ہیں چیف جسٹس بھی تعینات ہوئے ہیں۔ انتظامی فیصلے سینکڑوں ہوئے ہیں، کئی معاہدے ہوئے دیگر ممالک سے جو اس وقت سے دوروں میں یوسف رضا گیلانی نے کیے ہیں یا (ان فیصلوں کو تحفظ دینے کے بارے میں) پارلیمان کو قانون سازی کرنی پڑے گی 26 اپریل سے 2012ء سے لے کر 19 جون تک۔‘‘

عدالت عظمٰی نے بدھ کو وزیراعظم یوسف گیلانی کواُن کے منصب اورپارلیمان کی رکنیت سے یہ کہہ کرنا اہل قرار دے دیا تھا کہ وہ یہ حق اُسی روز کھو چکے تھےجب 26 اپریل کو اُن پرتوہین عدالت کا جرم ثابت ہونے پر اُنھیں عدالت کی برخاستگی تک کی سزا سنائی گئی تھی۔

دریں اثناء معزول وزیراعظم کے وکیل سینٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ اُن کے موکل نےعدالت عظمٰی کے فیصلے کو تسلیم کرلیا ہے اس لیے وہ اس کے خلاف اپیل دائر کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

’’ہمیں اس فیصلے پر تحفظات ہیں، ہم اس پر عمل درآمد کریں گے, تسلیم کریں گے۔ یوسف رضا گیلانی نااہل ہو گئے ہیں 26 اپریل سے اس کو تسلیم کرتے ہیں، ہمارے تحفظات موجود ہیں کہ تین ججوں نے سات ججوں کے بینچ کے فیصلے میں ترمیم کر دی ہے۔‘‘

عدالت عظمٰی نے مسٹر گیلانی کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دیا تھا کیونکہ اُنھوں نےعدلیہ کے احکامات کے برعکس صدرزرداری کےخلاف بدعنوانی کے مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے سوئس حکام کو خط نہیں لکھا۔

لیکن اعتزاز احسن کہتے ہیں کہ عدالت عظمٰی ملک کے نئے وزیراعظم کو بھی عدالتی فیصلے پرعمل درآمد کے حکم دے گی۔

’’میرا خیال ہے کہ جب نیا وزیراعظم آئے گا تو اس کو بھی ایک نیا حکم نامہ غالباً جائے گا سپریم کورٹ کے امپلیمنٹیشن بینچ سے کہ خط لکھا جائے تو اب وہ (نیا وزیر اعظم) فیصلہ کرے گا کہ خط لکھے یہ نہ لکھے۔‘‘

اُنھوں نے اپنے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ سوئس حکام کو خط لکھنے میں کوئی ہرج نہیں لیکن خط نہ لکھنا جرم نہیں ہے تاوقتیکہ کے آصف علی زرداری صدر پاکستان ہیں۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ 26 اپریل سے تصور کیا جائے گا کہ وزیراعظم گیلانی بھی نہیں اور ان کی کابینہ بھی نہیں  رہی۔ اُنھوں نے کہا کہ اس عرصے کے دوران پارلیمان کے فیصلے محفوظ ہیں۔

سپریم کورٹ کے احاطے میں بدھ کو صحافیوں سے گفتگو میں اُنھوں نے کہا کہ توہین عدالت کے مقدمے میں سات رکنی بینچ نے اُن کے موکل کو نااہل قرار نہیں دیا تھا اور اس فیصلے کے خلاف پیپلز پارٹی کی قیادت نے اپیل دائر کرنے سے گریز کیا تھا کیونکہ انھیں ایسے ہی فیصلے کی توقع تھی جو ایک روز قبل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سنایا۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here