’نیٹو سپلائی کی بندش تک احتجاج جاری رہے گا‘

Posted by on Jul 15, 2012 | Comments Off on ’نیٹو سپلائی کی بندش تک احتجاج جاری رہے گا‘

ان کا کہنا تھا کہ نیٹو سپلائی مسلم دنیا اور امت مسلمہ کی تباہی کی جانب پہلا قدم ہے، ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام کا مستقبل داؤ پر لگنے نہیں دیا جائے گا۔

کوئٹہ سے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق دفاع پاکستان کونسل نے سنیچر کو کوئٹہ سے چمن تک لانگ مارچ کیا۔ لانگ مارچ سے کوئٹہ، کچلاک اور یارو میں مولانا سمیع الحق، حافظ فضل، عبدالمتین اخوندزادہ، مولانا امیر حمزہ، عبدالقادر لونی، شیخ یعقوب، مولانا محمود الحسن قاسمی اور عبدالستار چشتی نے خطاب کیا۔

دفاع پاکستان کونسل کے رہنماوں نے نیٹو سپلائی کی بحالی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی ڈالروں نےحکمرانوں کو اس قدر اندھا کر دیا ہے کہ انہوں نے عوامی خواہشات، ملکی وقار اور پارلیمانی سفارشات نظر انداز کر کے جمہوریت کا جنازہ نکال دیا ہے۔لانگ مارچ کے شرکاء کا کہنا تھا کہ حکمرانوں کے پاس امریکی تعلقات منقطع کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں اور اگر اب بھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو اس کے

انتہائی تباہ کن اور خطرناک نتائج سامنے آئیں گے۔

مقررین نے حکمرانوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نیٹو سپلائی کی بحالی کا فیصلہ کر کے نہ صرف پارلیمان کے وقار بلکہ عوام کے جذبات کو مجروح کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ نیٹو سپلائی کی بحالی کا فیصلہ بھی ملکی سلامتی اور عوامی مینڈیٹ کے منافی ہے جس کے انتہائی خطرناک اور تباہ کن نتائج سامنے آئیں گے۔

“ایسی اسمبلی کا کوئی جواز نہیں جس کا پاکستان کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اس نے نہ تو ملک کی خودمختاری کا دفاع کیا اور نہ ہی عوام کے حقوق کا تحفظ کرسکی بلکہ ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام اور خطہ کے مستقبل کے فیصلہ کا اختیار شیری رحمان، حنا ربانی کھر اور ہلری کلنٹن کو دے دیا جو تباہ کن اور بھیانک ہوگا۔”

دفاع پاکستان کونسل

مقررین کے مطابق نیٹو سپلائی بحال کر کے حکمرانوں نے نہ صرف ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام کا مستقبل بلکہ خطہ کے امن و استحکام کو داو پر لگا دیا ہے۔

امریکہ جو ایک عالمی دہشت گرد ہے اس نے ہمیشہ امت مسلمہ کا خون بہایا۔ فلسطین، افغانستان اور عراق میں بے گناہ مسلمانوں کا خون امریکہ اور اسلام دشمن قوتوں کی دہشت گردی کے خلاف گواہی دے رہا لیکن اس کے باوجود ہمارے حکمرانوں نے نیٹو سپلائی کی بحالی کا فیصلہ کیا۔

نیٹو سپلائی کے ذریعے اسلحہ اور گولہ بارود لایا جائے گا جومسلمانوں، دینی مدارس اور مساجد کے خلاف استعمال ہوگا، ڈرون حملے ہوں گے، خود کش حملوں اور دہشت گردی کا نیا سلسلہ شروع ہوگا۔

مقررین کا کہنا تھا کہ حکمرانوں کو ملک کے وسیع تر مفاد میں فیصلہ کرتے ہوئے نیٹو سپلائی کو بند کرنا ہوگا۔سپلائی لائن کھولنے سے حالات سنبھلنے کی کوئی توقع نہیں بلکہ دہشت گردوں کو راستہ فراہمم کرنے سے خطے میں بدامنی بڑھے گی۔

مقررین کے مطابق عوام نے حالات کی سنگینی کے باوجود لانگ مارچ میں شرکت کر کےحکمرانوں کے خلاف فیصلہ دیدیا ہے۔ ہم امریکہ کے لیے افغانستان کے مسلمانوں کے خون سے اپنے ہاتھ نہیں رنگیں گے اور نیٹو سپلائی کی بندش تک ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔

مقررین نے حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسی اسمبلی کا کوئی جواز نہیں جس کا پاکستان کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اس نے نہ تو ملک کی خودمختاری کا دفاع کیا اور نہ ہی عوام کے حقوق کا تحفظ کرسکی بلکہ ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام اور خطہ کے مستقبل کے فیصلہ کا اختیار شیری رحمان، حنا ربانی کھر اور ہلری کلنٹن کو دے دیا جو تباہ کن اور بھیانک ہوگا۔

حکمرانوں کے پاس صرف ایک ہی راستہ ہے کہ امریکہ اور اسلام دشمن ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع کرتے ہوئے ملکی سلامتی اور عوام کے وسیع تر مفاد میں نیٹو سپلائی کو فوری طور پر بندی کریں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے احتجاج کا مقصد حکمرانوں کی غلط پالیسیوں اور فیصلوں کے خلاف عوام کو بیدار اور متحرک کرنا تھا اور ہم اس میں کامیاب رہے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here