’نیٹو سپلائی کی بحالی ملکی سلامتی کے خلاف‘

Posted by on Jul 17, 2012 | Comments Off on ’نیٹو سپلائی کی بحالی ملکی سلامتی کے خلاف‘

مذہبی جماعتوں کے اتحاد دفاع پاکستان کونسل کے قائدین نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے نیٹو سپلائی کی دوبارہ بحالی کے فیصلے کوعوام مسترد کر چکی ہے۔

افغانستان سے متّصل پاکستان کے سرحدی شہر چمن میں دفاع پاکستان کونسل نےاتوار کی شام دھرنا دیا۔

مولاناسمیع الحق نے کہا کہ ہم نے نیٹو کو یہ پیغام پہنچانا تھا کہ اگر ہم چاہتے تو لاکھوں کی تعداد میں افغانستان میں داخل ہو سکے تھے لیکن ہم پر امن جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کے نیٹو اورامریکی افواج افغانستان سے نکل جائیں تاکہ اس خطے میں دوبارہ امن کے لیے راہ ہموار ہو سکے۔

احتجاجی دھرنے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

دفاع پاکستان کونسل کے مطابق نیٹو سپلائی کی بحالی کا فیصلہ ملکی سلامتی کے خلاف ہے اور اس کو روکنے کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔

دھرنے سے جمعیت علماء اسلام س کے مراکزی صدر مولاناسمیع الحق، جمیعت علماء اسلام نظریاتی کے صوبائی امیر مولانا حنیف اور اورنگزیب فاروقی سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں نے خطاب کیا۔

نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق مقررین نے نیٹوسپلائی کے فیصلے کو پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ جمہوری طریقے سے اس کی بھرپور مخالف جاری رکھیں گے۔

دھرنے کے موقع پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مولاناسمیع الحق نے کہا کہ چمن میں دھرنے کا مقصد افغانستان میں طالبان سے اظہار یکجہتی کرنا تھا۔

اس سے قبل جب دفاع پاکستان کونسل کی ریلی چمن پہنچنے پر جمعیت نظریاتی کے صوبائی صدر مولانا حنیف نے ان کا استقبال کیا۔

اس کےساتھ چمن کی ضلعی انتظامیہ نے نہ صرف مختلف مقامات پر نیٹو کنٹینرز روک لیے گئے بلکہ افغانستان سے آنے والے کنیٹرز کے لیے بھی سرحد کو بند کردیا تھا۔

یہ ریلی کل کوئٹہ سے روانہ ہوئی تھی اور راستے میں بہت سے لوگ میں ریلی میں شامل ہوتے گئے۔

دھرنے کے موقع پر کسی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے حکومت اور مذہبی جماعتوں کے رضاکاروں نے سخت حفاظتی انتظامات کیے تھے۔

اُدھر پاکستان کے تجارتی مرکز کراچی میں نیٹو سپلائی کی بحالی کے خلاف جماعت اسلامی نے ایک ریلی منعقد کی جس کی سربراہی جماعت کے امیر منور حسن نے کی۔

کراچی سے نامہ نگار ارمان صابر کے مطابق ریلی سے جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں نیٹو افواج کو رسد کی ترسیل بحال کرنا قومی مفاد کے خلاف ہے اور یہ پارلیمان کی قرارداد کے بھی منافی ہے۔

جماعت اسلامی نے یہ ریلی بولٹن مارکیٹ سے کیماڑی تک نکالی جبکہ ریلی کے راستوں پر سخت سکیورٹی تعینات کی گئی تھی۔ جماعت اسلامی نے پولیس پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے جماعت کے پندرہ کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here