نیا انتخابی ضابطۂ اخلاق: ایک امتحان

Posted by on Jun 30, 2012 | Comments Off on نیا انتخابی ضابطۂ اخلاق: ایک امتحان

لیکشن کمیشن آف پاکستان نے کچھ روز قبل انتخابات کے دوران امید واروں کے ضابطے سے متعلق دستاویز یعنی ’کوڈ آف کانڈکٹ ‘ جاری کیا جس کو ماہرین نے مثبت قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ اس کا امتحان جولائی میں سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں ہو گا۔

یاد رہے کہ سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ نے اسی ماہ توہینِ عدالت کے مرتکب ہونے کے باعث قومی اسمبلی کی رکنیت کے لیے نااہل قرار دیا تھا۔ ان کی نشست ملتان 151 پر ان کے بیٹے عبدالقادر گیلانی پیپلز پارٹی کی طرف سے امید وار ہیں، جبکہ مسلم لیگ نون کی طرف سے اسحاق بچہ۔

یہ ضابطۂ کار سپریم کورٹ کی ہدایت پر جاری ہوا۔ معمول کے مطابق الیکشن کمیشن اسے عام انتخابات سے قبل ہی جاری کرتا ہے۔ تاہم الیکشن کمشن کی جانب سے نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ ضابطۂ کار اس لیے ایسے وقت جاری کیا گیا ہے کہ اگلے ماہ کی انیس تاریخ کو قومی اسمبلی کی نشست ملتان 151 پر ہونے والے ضمنی انتخاب ’صاف، شفاف، اور بدعنوانی سے پاک‘ ہو۔

 پاکستان میں قانون سازی اور جمہوریت سے متعلق کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم پلڈیٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ الیکشن کمشن کے اس ضابطۂ کار کا امتحان اس ضمنی انتخاب میں ہو گا۔

’یہ بہت اچھی بات ہے کہ الیکشن کمیشن نے اس کی ابتداء ضمنی انتخاب سے کی ہے کیونکہ اس میں کچھ عملی دشواریاں سامنے آسکتی ہیں جن سے عام انتخابات سے پہلے نمٹ لیا جائے گا۔‘

ویسے تو اس سے پہلے 2002 اور 2008 کے انتخابات میں الیکشن کمیشن کے ضابطۂ کار کی خلاف ورزیاں ہوتی رہیں، تاہم بعض ماہرین کے خیال میں اس کی بنیادی وجہ عمل درآمد کا غیر واضح طریقۂ کار تھا۔احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ اس بار ضابطۂ کار پر عمل ہونے کے امکانات زیادہ نظر آرہے ہیں۔

“یہ ضابطہ کار سپریم کورٹ کی ہدایت پر جاری ہوا۔ معمول کے مطابق الیکشن کمیشن اسے عام انتخابات سے قبل ہی جاری کرتا ہے۔ تاہم الیکشن کمشن کی جانب سے نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ ضابطہ کار اس لیے ایسے وقت جاری کیا گیا ہے کہ اگلے ماہ کی انیس تاریخ کو قومی اسمبلی کی نشست ملتان 151 پر ہونے والے ضمنی انتخاب ’صاف، شفاف، اور بدعنوانی سے پاک‘ ہوں”

الیکشن کمیشن کے سابق سیکریٹری کنور دلشاد کی رائے ہے کہ کیونکہ اس ضابطۂ کار کی سپریم کورٹ پشت پناہی کر رہی ہے، اسی لیے امیدوار بھی زیادہ چوکس رہیں گے۔

دو ہزار آٹھ میں بھی امیدواروں پر پابندی تھی کہ وہ قومی اسمبلی کی نشست کی مہم پر پندرہ لاکھ اور صوبائی اسمبلی کے لیے دس لاکھ روپے تک ہی خرچ کر سکتے ہیں۔ کنور دلشاد کہتے ہیں اس ضابطہ کار میں کچھ نئی باتیں ہیں جو گزشتہ کوڈ میں شامل نہیں تھیں۔

“تازہ ضابطہ کار میں الیکشن کمشن کی تین رکنی ٹیم ، جس میں کیمرہ مین شامل ہو گا، ہر روز مہم کی نگرانی کرے گی اور رپورٹ روزانہ صوبائی الیکشن کمشنر کو پیش کرے گی۔ اس کے علاوہ مہم کے اخراجات کے لیے امیدوار ایک علیحدہ بینک اکاؤنٹ کھولیں گے جن کی تفصیلات انتخابی مہم کے عرصے میں ہر ہفتے الیکشن کمیشن کے اہلکار کو بھیجی جائیں گی”

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ پندرہ اور دس لاکھ کی مقررہ رقم حقیقت کے بر عکس ہے اور اس پر عمل کرنا بھی مشکل ہے۔

احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ ’صوبائی اسمبلی کی مہم پر اندازوں کے مطابق پچاس لاکھ روپے سے کم خرچ نہیں ہوتے۔ قومی اسمبلی کے لیے کم سے کم ایک کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں اور بہت سے حلقوں میں اس سے کہیں زیادہ خرچ ہوتا ہے۔‘

احمد بلال محبوب کی تجویز ہے کہ قانون میں رقم مقرر نہ کی جائے اور اسے افراطِ زر کی شرح کے ساتھ منسلک کر دیا جائے۔

تازہ ضابطۂ کار میں الیکشن کمشن کی تین رکنی ٹیم ، جس میں کیمرہ مین شامل ہو گا، ہر روز مہم کی نگرانی کرے گی اور رپورٹ روزانہ صوبائی الیکشن کمشنر کو پیش کرے گی۔ اس کے علاوہ مہم کے اخراجات کے لیے امیدوار ایک علیحدہ بینک اکاؤنٹ کھولیں گے جن کی تفصیلات انتخابی مہم کے عرصے میں ہر ہفتے الیکشن کمیشن کے اہلکار کو بھیجی جائیں گی۔

 ادھر پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما خرم دستگیر کہتے ہیں کہ اس ضابطہ کار پر حقیقتاً عمل تب ہی ہو گا جب الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داری نبھائے گی۔

’اگر ووٹروں کو پولنگ سٹیشن تک بس کے ذریعے پہنچانے پر پابندی لگ گئی ہے تو الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر حلقے میں پولنگ سٹیشنوں کی تعداد دُگنی کر دے۔ اس طرح ووٹر کو پولنگ سٹیشن تک پہنچنے کے لیے ٹرانسپورٹ کی ضرورت نہیں پڑے گی۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ دیہی اور شہری حلقوں میں اخراجات کی نوعیت میں فرق ہے۔

’دیہی حلقوں میں ٹرانسپورٹ پر زیادہ خرچ ہوتا ہے جبکہ اشتہارات پر نہیں۔ میرا حلقہ شہری ہے، اور یہاں اشتہاروں پر بہت اخراجات ہوتے ہیں۔ نہ صرف امیدوار بلکہ ان کے حمایتی بغیر اس کے کہ امیدوار ان کو رقم فراہم کریں، خود اشتہار شہر میں لگا دیتے ہیں۔‘

سابق سکریٹری کنور دلشاد کہتے ہیں کہ امید وار جب بھی اپنے اخراجات کی تفصیل فائل کرتے ہیں تو وہ مقررہ رقم کی حد میں ہی ہوتی ہے۔ اسی لیے اگر کوئی امیدوار دھاندلی کرنا چاہتا ہو، وہ کوئی نہ کوئی طریقہ نکال سکتا ہے۔ اس کا حل یہی ہے کہ خلاف ورزی کرنے والے امید واروں کو انتخاب سے قبل ہی نا اہل قرار دیا جائے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت اور بنگلہ دیش، جن کا سیاسی کلچر پاکستان سے ملتا جُلتا ہے، میں ایسی مثالیں ہیں جہاں انتخابی مہم کے دوران بے ضابطگیوں اور بدعنوانی پر کامیابی سے قابو پایا گیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ آیا جولائی میں الیکشن کمشن اور امید وار کس حد تک اسے پاکستان میں کامیاب بنا سکتے ہیں۔

’الیکشن کمیشن کو اس جماعت کے سربراہ کو بُلا کر جواب طلب کرنا چاہیے اور خلاف ورزی کرنے والے امیدوار کو نا اہل قرار دے کر نظام سے نکالنا چاہیے۔ ورنہ ہمارے ملک میں امید وار کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیتے ہیں۔‘

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here