نئے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے مشاورت جاری

Posted by on Jun 20, 2012 | Comments Off on نئے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے مشاورت جاری

پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے ملک کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو نااہل قرار دیے جانے کے بعد ان

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق اس اجلاس میں تازہ سیاسی بحران پر غور کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ جمہوری تسلسل برقرار رکھنے کے لیے آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت جاری رکھی جائے گی۔

کے متبادل کے انتخاب کے لیے سیاسی مشاورت کا عمل جاری ہے۔

ملک کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے منگل کو تحفظات کے باوجود عدالتی فیصلہ تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا اور اب اس کی پارلیمانی پارٹی کا ہنگامی اجلاس بدھ کی شام چار بجے ایوان صدر اسلام آباد میں منعقد ہو رہا ہے جس میں عدالتی فیصلے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کے علاوہ نئے وزیراعظم کی نامزدگی پر بھی غور ہوگا۔

منگل کی شب ایوانِ صدر میں ہی صدر آصف علی زرداری کی صدارت میں پیپلز پارٹی کی اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کا اجلاس ہوا جس میں نااہل ہونے والے وزیراعظم گیلانی بھی شریک ہوئے۔

ملک کے نئے وزیراعظم کے لیے پاکستانی ذرائع ابلاغ میں وزیرِ دفاع چودھری احمد مختار اور مخدوم شہاب الدین کے نام گردش کر رہے ہیں لیکن تاحال اس بارے میں جماعت کی جانب سے کوئی اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔

منگل کو فیصلہ آنے کے بعد پریس کانفرنس میں پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا تھا کہ نئے وزیراعظم کے نام کا فیصلہ بدھ کو جماعت کے اہم اجلاس میں کیا جائے گا۔

چیف جسٹس افتخار چوہدری کی سربراہی میں پاکستان کی سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے منگل کو وزیرِاعظم کی نااہلی سے متعلق سپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ کے حوالے سے دائر درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے یوسف رضا گیلانی کو نااہل قرار دے دیا تھا۔

یوسف رضا گیلانی سپریم کورٹ کے احکامات کے روشنی میں چھبیس اپریل سے رکنِ قومی اسمبلی نہیں رہے

اس فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے عدالت عظمیٰ کے حکم پر وزیراعظم کی نااہلی کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کیا جس کے مطابق یوسف رضا گیلانی سپریم کورٹ کے احکامات کے روشنی میں چھبیس اپریل سے رکنِ قومی اسمبلی نہیں رہے۔ وزیراعظم کی نااہلی کے ساتھ ہیں ملک کی وفاقی کابینہ بھی تحلیل ہوگئی ہے۔

:پاکستان کا اندرونی معاملہ

ادھر یوسف رضا گیلانی کی بطور وزیر اعظم نااہلی پر امریکہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں جاری سیاسی بحران اس کا اندورنی معاملہ ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان اپنے آئین کے مطابق اس کا حل تلاش کر لے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کئی ماہ سے ہم حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے ہوئے ہیں اور بعض جو مشکل ایشوز ہیں، انہیں حل کے لیے کوششیں کرتے رہے ہیں تو ہمیں امید ہے کہ ہم یہ عمل جاری رکھ سکیں گے لیکن ظاہر ہے پاکستان کو اپنے داخلی معاملات سے اندرونی طور پر ہی نمٹنا ہے‘۔

امریکہ کی وزرات خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ کا کہنا تھا کہ امریکہ کو یہ خدشہ نہیں کہ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے سے واشنگٹن اور اسلام آباد کے سفارتی تعلقات متاثر ہو گئے۔

پاکستان میں جاری سیاسی ہل چل سے قطع نظر امریکی وزرات خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لیے بات چیت جاری رکھے گا۔

بعد ازاں انہیں اس جرم کا مرتکب قرار دے کر عدالت کی برخاستگی تک کی سزا سنائی گئی تھی تاہم سپیکر قومی اسمبلی نے وزیراعظم کو اس سزا کی بنیاد پر نااہل قرار دینے سے انکار کر دیا تھا۔

اس پر پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف نے وزیراعظم کی اہلیت سے متعلق سپیکر کے فیصلےکے خلاف سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی تھیں۔

خیال رہے کہ حکومت اور عدلیہ میں اس حالیہ کشیدگی کا آغاز سپریم کورٹ کی جانب سے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو این آر او مقدمے میں صدر کے خلاف سوئس عدالتوں کو خط لکھنے کے عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے پر توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کیے جانے سے ہوا تھا۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here