میں خیریت سے ہوں، صدر صالح

Posted by on Jun 04, 2011 | Comments Off on میں خیریت سے ہوں، صدر صالح

یمن کے صدر علی عبداللہ صالح نے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے اپنے صوتی بیان میں کہا ہے کہ صدارتی محل پر حملے میں سات افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

حملے کے چھ گھنٹے کے بعد، جس میں صدر صالح زخمی ہوئے ہیں، نشر ہونے والے اس مختصر بیان میں صرف ان کی آواز سنائی گئی جس میں انہوں نے اس حملے کا الزام اپنے قبائلی دشمنوں پر لگاتے ہوئے کہا کہ وہ خیریت سے ہیں۔

صدر صالح نے اپنی فوج سے کہا کہ وہ ان کے قبائلی مخالفین کا مقابلہ کرے۔

اس سے پہلے دارالحکومت صنعا سے اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ صدر صالح اور کچھ حکومتی اہلکار صدراتی محل پر حملے میں معمولی زخمی ہو گئے ہیں۔ حملے میں محل پر دو گولے پھینکے گئے تھے جس میں وزیر اعظم اور پارلیمان کے سپیکر سمیت حکمران جماعت کے کچھ اعلی اہلکار بھی زخمی ہوگئے تھے۔

حکومت کے ایک وزیر ہشام شرف نے کہا تھا کہ پارلیمان کے سپیکر ان افراد میں شامل ہیں جو شدید زخمی ہوئے ہیں۔

یمن میں حکام نے کہا تھا کہ علی عبداللہ صالح خیریت سے ہیں اور جلد قوم سے خطاب کریں گے۔

اس سے قبل یمنی صدر کی حامی فوج نے صنعا میں صدر علی عبداللہ صالح کے حامیوں اور قبائلی رہنماں کی زیرِ قیادت صدر کے مخالفین پر جو کئی دنوں سیاحتجاج کر رہے ہیں، گولی چلائی تھی۔

شہر میں ایک بڑی یونی ورسٹی کے کیمپس کے قریب بھی جہاں صدر کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین دھرنا دیے ہوئے ہیں، وہاں بھی توپ خانے اور گولہ باری ہونے کی اطلاعت دی ہے۔

صدر کی حمایت اور مخالفت میں جمعہ کو بعد دوپہر بھی مزید مظاہروں کا امکان ہے۔

گزشتہ رات قبائلیوں نے جو اپوزیشن کے ساتھ ہیں، سرکاری فوج سے جھڑپیں کیں جو زیادہ تک شہر کے شمالی حصے تک محدود رہیں۔ ادھر امریکہ نے تشدد کے خاتمے کے لیے خلیج میں ایک ایلچی روانہ کیا ہے۔ یمن میں تشدد خانہ جنگی کے کنارے تک پہنچ گیا ہے۔

یمن میں جنوری میں شروع ہونے والی مزاحمت میں تین سو پچاس لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں سے ایک سو پینتیس گزشتہ دس دنوں میں ہلاک ہوئے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here