میڈیا خبر رساں سے خبر ساز بن چکا ہے؟

Posted by on Jun 16, 2012 | Comments Off on میڈیا خبر رساں سے خبر ساز بن چکا ہے؟

 

پاکستان کے ایک نجی چینل کی انٹرویو ویڈیو کیا سامنے آئی ملک کے میڈیا میں جیسے کہ بھونچال آگیا۔ نجی چینل دنیا ٹی وی نے کہا ہے کہ یہ ویڈیوز چینل کو بند کروانے کی ایک سازش کے تحت لیک کی گئی ہیں، جبکہ سپریم کورٹ نے اس انٹرویو کا از خود نوٹس لے لیا ہے۔

میڈیا کا سب سے بڑا احتساب مارکیٹ خود کرتی ہے۔ اگر ہمیں اس بات کا غرور ہوکہ ہماری کرسی پکی ہے، لوگ ہمیں دیکھتے ہیں اور ہم مسلسل جھوٹ بول سکتے ہیں تو یہ ہم خود سے جھوٹ بول رہے ہوں گے۔”

طلعت حسین

 

بعض لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد ٹی وی میزبانوں کے باہمی اختلافات اور نفرتیں بھی کھل کر سامنے آ گئی ہیں۔

انٹرنیٹ پر ایسی فہرست بھی شائع ہوئی ہے جس میں نامور کالم نگار اور اینکرز کے نام شامل ہیں جنہوں نے مبینہ طور پر ملک ریاض سے پلاٹ، گاڑیاں اور پیسے وصول کیے ہیں۔اس مبینہ فہرست کی ان تمام اینکرز نے اپنے اپنے پروگراموں میں بھرپور تردید بھی کی ہے جبکہ بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ کی جانب سے بھی اس فہرست کو جعلی قرار دیا گیا ہے۔

پروگرام کی ایک میزبان مہر بخاری نے اپنے پروگرام میں اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایسا تمام ٹاک شوز پر ہوتا ہے تو ان پر کیوں تنقید کی جا رہی ہے۔ ’یہ سب کرتے ہیں۔‘

ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ توجہ انصاف خریدے جانے کے معاملے سے ان اداروں کے فروخت ہو جانے پر مرکوز ہوگئی ہے جن کا کام لوگوں تک متوازن معلومات فراہم کرنا ہے۔

مہر کے مطابق پروگرام کے دوسرے میزبان مبشر لقمان کو معطل کر دیا گیا ہے جبکہ نجی چینل دنیا ٹی وی نے اندرونی تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں کہ یہ ویڈیو ’چوری‘ کیسے ہوئی اور یوٹیوب پر کیسے آئی۔

ضابطۂ اخلاق کوئی ایسی چیز نہیں جو ہمیں معلوم نہ ہو۔ کم از کم تین ضابطے موجود ہیں لیکن مسئلہ ہی ہے کہ واحد پلیٹ فارم نہیں ہے لہٰذا متفقہ ضابطۂ اخلاق نہیں ہے۔”

عدنان رحمت

 

تقریباً دس سال قبل جب نجی چینلز کو خبریں اور حالاتِ حاضرہ کے پروگرام نشر کرنے کی اجازت دی گئی تھی، تو ایک طرح سے پاکستان میں میڈیا کا انقلاب آیا۔ ٹاک شوز نے ڈراموں سے بڑھ کر لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لیا، اور اینکرز ایسی طاقت کی طرح ابھرے جن کے اثر کو تولا نہیں جا سکتا پر ظاہر ضرور تھا۔

طلعت حسین کا بھی دعویٰ ہے کہ پاکستان میں صرف اینکرز کو نہیں بلکہ بڑے بڑے میڈیا گروپس کو خریدا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ انہوں نے اکا دکا افراد کو ملا رکھا ہے لیکن ملک ریاض کے بارے میں تو بڑے بڑے میڈیا ہاؤسز کو ملا رکھا ہے۔ ’اس بابت ثبوت نظر آتا ہے اور بولتا ہے۔ اگر ایک گروپ ملک ریاض کو خصوصی توجہ دے گا تو سوال تو اٹھیں گے کہ کس بنیاد پر یہ کچھ کیا جا رہا ہے۔ انسانیت کی فلاح کے لیے تو یہ نہیں ہو رہا ہوگا؟ صحافتی اصول بھی پامال ہو رہے ہیں تو کس وجہ سے یہ ہو رہا ہے‘۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ میڈیا خبر رساں سے خبر ساز بن چکا ہے۔ تاہم اس معاملے میں حامد میر کہتے ہیں کہ صرف اینکرز پر انگلیاں کیوں اٹھائی جا رہی ہیں، اخباروں اور چینلز کے مالکان سے یہی سوال کیوں نہیں کیے جا رہے؟

میڈیا امور کے تجزیہ نگار عدنان رحمت کا سوال ہے کہ کیا ضابطۂ اخلاق پر اتفاق ہو پائے گا یا نہیں۔ ’ضابطۂ اخلاق کوئی ایسی چیز نہیں جو ہمیں معلوم نہ ہو۔ کم از کم تین ضابطے موجود ہیں لیکن مسئلہ ہی ہے کہ واحد پلیٹ فارم نہیں ہے لہٰذا متفقہ ضابطۂ اخلاق نہیں ہے‘۔

دوسری جانب طلعت حسین کہتے ہیں کہ میڈیا کا احتساب عوام کریں گے۔ ’میڈیا کا سب سے بڑا احتساب مارکیٹ خود کرتی ہے۔ اگر ہمیں اس بات کا غرور ہوکہ ہماری کرسی پکی ہے، لوگ ہمیں دیکھتے ہیں اور ہم مسلسل جھوٹ بول سکتے ہیں تو یہ ہم خود سے جھوٹ بول رہے ہوں گے‘۔

’بڑے بڑے ٹی وی چینلز پر اشتہار چل رہے ہیں دس دس پندرہ پندرہ منٹ کے اور ان کے پیسے مالکان کھا رہے ہیں اینکرز نہیں۔ آپ نے بھی مجھ سے اینکرز کے بارے میں سوال کیا ہے۔ اینکرز پر انگلی اٹھانا آسان ہوتا ہے کیونکہ پیشہ ورانہ جلن بھی ہوتی ہے۔ اس جلن کی وجہ سے لوگ غلط الزامات بھی عائد کر رہے ہیں۔‘

کیا دنیا ٹی وی اور اس کی لیک ہوئی ویڈیوز سے احتساب ہوگا اور کس طرح ہوگا، تصحیح کا عمل شروع ہو گا، تو کس طرح ہو گا؟ کئی دہائیوں سے پاکستانی ذرائع ابلاغ میں ضابطہ اخلاق کی تشکیل کی باتیں ہوتی رہتی تھی، تاہم، کچھ ہوتا نہیں تھا۔

احتساب، شفافیت اور اعتماد ۔۔۔ یہ الفاظ صحافی اکثر سیاست دانوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ کیا اینکرز، اخبارات اور چینلز کے مالکان اور صحافی اپنے کہے پر عمل کر پائیں گے؟

بڑے بڑے ٹی وی چینلز پر اشتہار چل رہے ہیں دس دس پندرہ پندرہ منٹ کے اور ان کے پیسے مالکان کھا رہے ہیں اینکرز نہیں۔ آپ نے بھی مجھ سے اینکرز کے بارے میں سوال کیا ہے۔ اینکرز پر انگلی اٹھانا آسان ہوتا ہے کیونکہ پیشہ ورانہ جلن بھی ہوتی ہے۔ اس جلن کی وجہ سے لوگ غلط الزامات بھی عائد کر رہے ہیں۔”

حامد میر

 

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here