میمو کمیشن رپورٹ: سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بحث چھڑ گئی

Posted by on Jun 12, 2012 | Comments Off on میمو کمیشن رپورٹ: سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بحث چھڑ گئی

جوڈیشل کمیشن کی جانب سے متنازع میمو کیس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوجی سربراہ کو لکھا گیا میمو حقیقی تھا اور اس کے خالق امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی تھے۔

کمیشن کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش ہونے کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس رپورٹ کے حوالے سے بحث شروع ہو گئی ہے۔ مندرجہ ذیل چند ٹوئٹر پیغامات ہیں

:سابق سفیر حسین حقانی

صبح 11 بجے: ’ کمیشن کی کارروائی یکطرفہ تھی اور مجھے نہیں سنا گیا۔ میرے وکیل کمیشن کی رپورٹ کو چیلنج کریں گے۔ میمو کمیشن کی رپورٹ دیگر اہم ایشوز پر سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ یہ رپورٹ قانونی نہیں سیاسی ہے۔

کمیشن عدالت نہیں ہے اور وہ جو کہتے ہیں کہ کمیشن نے بےقصور یا جرم ثابت کیا ہے وہ لوگ غلط ہیں۔ جنہوں نے فوجی آمروں کی حکومت کی توثیق کی اور ان کو آئین تبدیل کرنے کی اجازت دی وہ میری یا کسی اور کی حب الوطنیکا تعین نہیں کرسکتے۔‘

:صبح 11.19، فرح ناز اصفحانی نے دوبارہ ٹوئٹ کیا

صبح 11.19: ’یہ بے تکی ٹوئٹ ہے۔ حسین حقانی کو کب مجرم قرار دیا گیا تھا؟

:فرح ناز اصفحانی نے دوبارہ ٹوئٹ کیا

’ایس علی رضا شاہ: انہیں حقائق جاننے کی ذمہ داری دی گئی تھی، مگر انہوں نے فیصلے اور فتوے سنائے اور دعوے کیے‘

:صبح 11.42، کلم نگار ہما یوسف نے حسین حقانی کو ٹوئٹ کیا

صبح 11.42: ’حسین حقانی پر الزام ہے کہ وہ جوہری ہتھیار پر سویلین کنٹرول اور دوستانہ پاک امریکہ تعلقات چاہتے تھے۔ ان الزامات سے وہ غدار کیسے بنے؟‘

:سلمان مسعود، نیو یارک ٹائمز

صبح 11.45: ’یہ کیا اتفاق کی بات ہے کہ میمو کشمن کی رپورٹ اسی دن جاری کی جاتی ہے جب ملک ریاض عدالت میں پیش ہو رہے ہیں۔‘

:کامران شفیع، کالم نگار

صبح 11.50: ’میمو کمشن نے حسین حقانی کو قصوروار ٹہرایا۔ کوئی حیرانگی نہیں ہوئی!!! میں امید کرتا ہوں کہ سپریم کورٹ اس بات پر غور کرے کہ میمو کمشن کے ذریعے ارسلان کیس سے توجہ ہٹائی جا رہی ہے۔ اس کو ثابت کیا جا سکتا ہے۔‘

:فراز خان

دوپہر 12.18: ’جب سے میمو کمشن کی رپورٹ منظرِ عام پر آئی ہے حسین حقانی ٹی وی دیکھ رہے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ وہ منصور اعجاز کا سٹوپڈ ڈسکو وڈیو دیکھ رہے ہیں۔‘

:عثمان قاسم

دوپہر 12.19: ’ہمیں معلوم ہے کہ وزیرِ اعظم ہاؤس اور آپ کی ٹیم نے آپ کی حمایت کرنے والے سیکنڑوں آرٹیکل شائع کروائے تھے، جس کے لیے پیپلز پارٹی نے رقم مختص کی تھی۔‘

:سعید شاہ

دوپہر 12.20: وکیل زاہد بخاری نے پہلے ریمنڈ ڈیوس، پھر حسین حقانی اور اب ملک ریاض کی نمائندگی کی ہے۔ دلچسپ ہے۔

:سیف اللہ سیفی

دوپہر 12.21: ’ارسلان کیس پر مسلم لیگ نون سو رہی تھی، اور اب میمو کمیشن پر پھٹ پڑا۔‘

:سید عباس حیدر

دوپہر 12.21: ’آج حسین حقانی میمو کمشن کی رپورٹ کے بعد اپنے ٹوٹر اکاؤنٹ سے لوگوں کو بلاک کر رہے ہوں گے۔ میمو کمشن کو معلوم ہوا کہ بلیک بیری پیغامات میں ’باس‘ کون تھا؟

:ڈاکٹر آفاق احمد

دوپہر 12.27: ’وزیر اعلیٰ شہباز نے میمو کمیشن کے بعد بڑی جلدی انگلیاں اٹھائی ہیں۔کیا پہلے سے منصوبہ بنا ہوا تھا؟‘

:شرمیلا فاروقی

دوپہر 12.30: ’فلم ہٹ ہو گئی! میمو ٹوئٹر پر انتہائی مقبول‘

:عباس ناصر

دوپہر 12.45: ’ججوں نے آئی ایس آئی کے وکیلوں کے کہنے پر حقانی کو’غدار‘ قرار دیا ہے۔ اب آئی ایس آئی کو بھی چاہیے کہ ملک ریاض سے کہیں کہ ارسلان کو بےقصور حب الوطن قرار دے۔‘

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here