مولانہ حیدری کی تقرری متنازعہ

Posted by on Jun 08, 2011 | Comments Off on مولانہ حیدری کی تقرری متنازعہ

جمیعت علما اسلام (ف) کے سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری کی پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ میں قائد حزب مخالف کے طور پر تقرری متنازعہ بنتی جا رہی ہے اور اس معاملے نے پارلیمانی سیاست کی ایک نئی سمت کا تعین کردیا ہے۔

چند ماہ پہلے جب مولانا فضل الرحمن کی جماعت حکومت سے علیحدہ ہوئی تو پیپلز پارٹی کی حکومت مزید کمزور ہوتے دکھائی دی۔ کیونکہ متحدہ قومی موومنٹ بھی حکومت سے ناراض تھی۔ ایسے میں بعض تجزیہ کاروں نے تو پھر سے حکومت کے گرنے کی باتیں شروع کردی تھیں۔

لیکن بعد میں صدر آصف علی زرداری نے ایسے اپنے سیاسی پتے کھیلے کہ کمزور حکومت راتوں رات مسلم لیگ (ق) کی شمولیت کے بعد مضبوط اور توانا ہوگئی۔

ایسے میں متحدہ قومی موومنٹ بھی چپ چاپ حکومت میں واپس آگئی اور حکومت سے علیحدہ ہونے والی مولانا فضل الرحمن کی جماعت نے بھی حکومت سے دوبارہ خفیہ مفاہمت کی ضرورت محسوس کی۔ جس کی جھلک ایوان بالا سینیٹ میں قائد حزب مخالف کی تعیناتی کے دوران واضح نظر آئی۔

ابتدا میں صدر آصف علی زرداری کی خواہش تھی کہ اسحق ڈار جو دونوں جماعتوں میں ایک پل کا کردار ادا کرتے رہے ہیں، وہ اپوزیشن لیڈر بنیں لیکن مولانا فضل الرحمن کے صدرِ مملکت سے رابطے کے بعد بازی پلٹی اور حکومت نے اپنا وزن مولانا عبدالغفور حیدری کے پلڑے میں ڈال دیا

مسلم لیگ (ق) جب حکومت میں شامل ہوئی تو وسیم سجاد سینیٹ میں قائد حزب مخالف کے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ جس کے بعد جمیعت علما اسلام (ف) نے مولانا عبدالغفور حیدری اور مسلم لیگ (ن) نے اسحق ڈار کے لیے لابیئنگ شروع کردی۔ ابتدا میں صدر آصف علی زرداری کی خواہش تھی کہ اسحق ڈار جو دونوں جماعتوں میں ایک پل کا کردار ادا کرتے رہے ہیں، وہ اپوزیشن لیڈر بنیں۔

لیکن مولانا فضل الرحمن کے صدرِ مملکت سے رابطے کے بعد بازی پلٹی اور حکومت نے اپنا وزن مولانا عبدالغفور حیدری کے پلڑے میں ڈال دیا۔

پہلا کام یہ ہوا کہ چوہدری شجاعت حسین سے چیئرمین سینیٹ کو خط لکھوایا گیا کہ ان کی جماعت مسلم لیگ (ق) حکومت کا حصہ ہے لہذا ان کے کسی سینیٹر کو اپوزیشن لیڈر کے چنا میں ووٹنگ کا حق نہیں ملنا چاہیے۔ دوسرا یہ کہ فاٹا کے پانچ اور بلوچستان کے دو آزاد حیثیت میں منتخب سینیٹرز بھی حکومتی کوششوں سے حیدری صاحب کے ووٹر بنے۔

ایسی صورتحال کی وجہ سے مولانا عبدالغفور حیدری سینیٹ میں اپوزیشن کے لیڈر بن گئے اور حکومت کو اب اس ایوان میںفرینڈلی اپوزیشن مل گئی۔ لیک جب سے وہ اپوزیشن لیڈر کے عہدے پر فائز ہوئے ہیں ان کی تقرری کو چیلینج کیا جا رہا ہے۔

پیر اور منگل دونوں روز ایوان میں مسلم لیگ (ن) اور ان کے ہم خیالوں نے احتجاج کیا مولانا حیدری کو اپوزیشن لیڈر تسلیم نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔

اسحق ڈار اور ان کے حامیوں کا موقف ہے کہ مسلم لیگ (ق) کے پہلے سے اپوزیشن کی نشستوں پر بیٹھنے والے اراکین کی تعداد نو ہے جو ان کی حمایت کرتے ہیں اس لیے اکثریت انہیں حاصل ہے۔ جبکہ مسلم لیگ (ق) کے سینیٹر ایس ایم ظفر کہتے ہیں کہ ان کی جماعت حکومت کا حصہ ہے اس لیے ان کے چند اراکین کو اپوزیشن کا حصہ نہیں سمجھا جاسکتا۔

لیکن پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنما میاں رضا ربانی نے منگل کو کہا کہ یہ ایک قانونی نکتہ ہے اور اس فیصلے سے مستقبل میں بھی روایت بن جائے گی لہذا تمام قانونی ماہرین اس پر رائے دیں اور پھر فیصلہ کریں۔ رضا ربانی نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ نے جب سے مسلم لیگ (ق) کے ناراض اراکین کو اپوزیشن بینچوں پر نشستیں الاٹ کی ہیں اس کے بعد یہ معاملہ اہم ہوگیا ہے۔

میاں رضا ربانی کی اسحق ڈار کے لیے ہمدردی اپنی جگہ بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ حکومت تو حکومت ہوتی ہے اور وہ جو چاہے کرنے کے لیے ایک سو تاویلیں پیش کرسکتی ہے۔

فی الحال تو حکومت کے اس فیصلے سے بظاہر اپوزیشن کے اتحاد میں بھی رکاوٹ پیدا ہوگئی اور ایک حد تک مسلم لیگ (ن) کو سیاسی طور پر تنہا ہوئی ہے۔

جس کا اظہار قومی اسمبلی میں قائد حزب مخالف چوہدری نثار علی خان یہ کہتے ہوئے کر چکے ہیں کہ پرویز مشرف نے بھی ایسٹیبلشمینٹ اور بعض جماعتوں کو اپنے ساتھ ملا کر انتخابات جیتنے کی کوشش کی مگر ناکام رہے اور آصف علی زرداری بھی کامیاب نہیں ہوں گے۔

مولانا عبدالغفور حیدری جو پندرہ فروری انیس سو ستاون کو بلوچستان کے شہر قلات میں پیدا ہوئے اور مولانا فضل الرحمن کے انتہائی قابل بھروسہ شخص سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here