منشیات کے خلاف جنگ میں ناکامی

Posted by on Jun 02, 2011 | Comments Off on منشیات کے خلاف جنگ میں ناکامی

عالمی رہنماں کی تیارکردہ ایک رپورٹ کے مطابق منشیات کے خلاف عالمی جنگ ناکام ہوچکی ہے۔

منشیات کی پالیسی پر عالمی کمیشن کی رپورٹ میں حکومتوں سے اپیل کی گئی ہے کہ منشیات کی چند اقسام کے بارے میں قانون سازی کی جائے اور منشیات استعمال کرنے والوں کے خلاف فوجداری قوانین ختم کیے جائیں۔

رپورٹ تیار کرنے کے لیے تشکیل دیے گئے انیس رکنی کمیشن میں اقوامِ متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان، میکسیکو، کولمبیا، اور برازیل کے رہنما جبکہ ایک کاروباری شخصیت رچرڈ برینسن، امریکہ کے وفاقی ریزرو بینک کے سابق چیئرمین پال واکر اور یونان کے موجودہ وزیراعظم جارج پاپاندریو بھی شامل تھے۔

وائٹ ہاس نے اِس رپورٹ کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ گمراہ کن ہیں۔

ہم امید کرتے ہیں کہ امریکہ کم سے کم متبادل اقدامات پر غور کرنا شروع کرے گا۔

سیزر گویریا

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ منشیات کے خلاف پالیسی کو منظم جرائم پیشہ گروہوں کی جانب سے ناکام بنایا گیا اور اس دوران ٹیکس دہندہ افراد کے لاکھوں ڈالرز ضائع اور ہزاروں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

اس رپورٹ میں اقوامِ متحدہ کے تخمینہ کا حوالہ دیا گیا ہے جس کے مطابق سنہ انیس سو اٹھانوے سے دوہزار آٹھ کے درمیان دنیا بھر میں افیون استعمال کرنے والوں کی تعداد میں پینتیس فیصد اضافہ، کوکین استعمال کرنے والوں میں ستائیس فیصد، اور کینابِس استعمال کرنے والوں میں ساڑھے آٹھ فیصد اضافہ ہوا۔

رپورٹ میں ایسی حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے جو یہ دعوی کرتی ہیں کہ منشیات کے خلاف جنگ مثر ہے۔

رپورٹ کے مطابق، سیاسی اور عوامی رہنماں میں اتنی جرات ہونی چاہیے کہ جس بات کا وہ نجی محفلوں میں اعتراف کرتے ہیں انہیں عوامی سطح پر بھی تسلیم کریں کہ شواہد سے صاف ظاہر ہے کہ انسدادی حکمتِ عملی منشیات کے مسئلہ کا حل نہیں ہے، اور یہ کہ منشیات کے خلاف جنگ میں نہ کامیابی حاصل ہوئی ہے اور نہ ہی یہ جنگ جیتی جاسکتی ہے۔

منشیات استعمال کرنے والوں کے خلاف فوجداری قوانین ختم کیے جائیں: رپورٹ

رپورٹ نے تجویز دی ہے کہ ایسے منشیات استعمال کرنے والے افراد جو دوسروں کے لیے تکلیف دہ نہیں ہیں، انہیں سزا دینے اور مجرم بنانے کا سلسلہ بند کیا جائے، جبکہ انہیں علاج کی سہولیات بہم پہنچائی جائیں جس سے منظم جرائم کے گروہوں کا قلع قمع ہوگا۔

اس کمیشن نے امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے منشیات کے خلاف پالیسی کے بجائے ایسی پالیسی اپنانی چاہیے جو صحت عامہ اور انسانی حقوق کی بنیاد پر ہو۔

کمیشن کے ایک رکن اور کولمبیا کے سابق صدر سیزر گویریا نے کہا ہم امید کرتے ہیں کہ امریکہ کم سے کم متبادل اقدامات پر غور کرنا شروع کرے گا۔

وائٹ ہاس کے ایک اہلکار گِل کرلیکوسکے نے اِس پینل کی سفارشات کو یکسر مسترد کردیا ہے۔ ان کے بقول جیسا کہ اس رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے اگر منشیات کی دستیابی آسان ہوجائے تو عوام کو محفوظ اور صحت مند رکھنا زیادہ مشکل ہوگا۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here