ملک ریاض کے لیے وی وی آئی پی پروٹوکول

Posted by on Jun 29, 2012 | Comments Off on ملک ریاض کے لیے وی وی آئی پی پروٹوکول

 

پاکستان کے سب سے بڑے نجی تعمیراتی ادارے بحریہ ٹاون کے سابق سربراہ ملک ریاض کو اسلام آباد پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مبینہ طور نہ صرف وی وی آئی پیز کا پروٹوکول دے رہے ہیں بلکہ ان کی گرفتاری کے لیے آنے والے راولپنڈی پولیس کے اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔

سپریم کورٹ میں جمعرات کو توہین عدالت کے مقدمے میں پیشی کے موقع پر ملک ریاض کی گرفتاری کے لیے یونیفارم اور سادہ کپٹروں میں پنجاب پولیس کے اہلکار سپریم کورٹ کے باہر موجود تھے لیکن ملک ریاض کی سیکورٹی سکواڈ میں موجود اہلکاروں نے پولیس والوں کو قریب نہیں آنے دیا۔

بات صرف اسلام آباد پولیس کی حد تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ رینجرز کے اہلکار بھی ان کی حفاظت کے لیے مامور ہیں۔

واضح رہے کہ ملک ریاض مختلف مقدمات میں راولپنڈی پولیس کو مطلوب ہیں اور متعقلہ علاقے کی پولیس عدالتی احکامات کی روشنی میں ملک ریاض کی گرفتاری کے لیے چھاپے ما رہی ہے۔ انسداد رشوت ستانی کی عدالت نے ملک ریاض کو گرفتار کر کے دو جولائی کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ملک ریاض کے ساتھ رینجرز کے اہلکاروں کی تعداد بارہ کے قریب ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ رینجزز کے اہلکاروں کی خدمات بطور معاوضہ لی گئی ہیں تاہم سیکرٹری داخلہ اس دعوے کی تصدیق کے لیے دستیاب نہیں تھے جبکہ ملک ریاض کا ذاتی عملہ بھی اس معاملے کا جواب دینے کے لیے دستیاب نہیں تھا۔

ملک ریاض کا سکیورٹی سکواڈ

سپریم کورٹ میں جمعرات کو توہین عدالت کے مقدمے میں پیشی کے موقع پر ملک ریاض کی گرفتاری کے لیے یونیفارم اور سادہ کپٹروں میں پنجاب پولیس کے اہلکار سپریم کورٹ کے باہر موجود تھے لیکن ملک ریاض کی سیکورٹی سکواڈ میں موجود اہلکاروں نے پولیس والوں کو قریب نہیں آنے دیا۔

اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ انسداد دہشت گردی سکواڈ کے پانچ کے قریب اہلکار بھی ملک ریاض کی سکیورٹی پر تعینات ہیں اور ان افراد کی تعیناتی ماضی قریب میں نہیں ہوئی بلکہ گزشتہ کئی برسوں سے یہ اہلکار ان کے ساتھ تعینات ہیں۔

پولیس اہلکار کے مطابق ملک ریاض کے سکواڈ میں نجی سکیورٹی ایجنسی کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ ایک وفاقی وزیر کو اپنے ساتھ انسداد دہشت گردی سکواڈ کے ایک یا دو اہلکاروں کو رکھنے کی اجازت ہے اور اس کے علاوہ حکومت میں شامل کسی بھی شخصیت کے لیے چار پولیس اہلکاروں سے زیادہ اہلکاروں کو تعینات نہیں کیا جاتا۔

اسلام آباد پولیس کے سربراہ بنیامین کا کہناہے کہ اس وقت ملک ریاض کی سیکورٹی پر اسلام آباد پولیس کا کوئی بھی اہلکار تعینات نہیں ہے اور تمام سیکورٹی واپس لے لی گئی ہے۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر نقص امن یا کسی شہری کو جان کا خطرہ ہو تو پھر کسی بھی وقت سیکورٹی فراہم کی جاسکتی ہے۔

“اس وقت ملک ریاض کی سیکورٹی پر اسلام آباد پولیس کا کوئی بھی اہلکار تعینات نہیں ہے اور تمام سیکورٹی واپس لے لی گئی ہے۔ اگر نقص امن یا کسی شہری کو جان کا خطرہ ہو تو پھر کسی بھی وقت سیکورٹی فراہم کی جاسکتی ہے۔”

اسلام آباد پولیس کے سربراہ بنیامین

جب ان سے پوچھا گیا کہ راولپنڈی کی ایک انسداد رشوت ستانی کی عدالت نے ملک ریاض کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں تو کیا ان کی گرفتاری میں اسلام آباد پولیس مدد فراہم کرے گی تو بنیامین کا کہنا تھا کہ اگر قانون کے مطابق مدد مانگی جائے گی تو اسلام آباد پولیس ان کی ضرور معاونت کرے گی۔

دو ہفتے قبل چیف جسٹس کے صاحبزادے ڈاکٹر ارسلان کے مقدمے میں جب ملک ریاض عدالت میں پیش ہوئے تو ان کی پیشی کے دوران شاہراہ دستور کو ایک طرف سے بند کردیا گیا اور جب وہ پیشی کے بعد عدالت سے واپس گئے تو ٹریفک پولیس نے مخالف سمت سے آنے والی ٹریفک روک کر ملک ریاض کی بارہ گاڑیوں پر مشتمل سیکورٹی سکواڈ کو جانے کی اجازت دی۔

آئی جی اسلام آباد پولیس کے دعوے کے برعکس دو روز قبل جب راولپنڈی کی پولیس ملک ریاض کی گرفتاری کے لیے ان کے گھر آئی تو اسلام آباد پولیس کے اہلکار ملک ریاض کے گھر کے باہر جمع ہوگئے اور انہوں نے راولپنڈی پولیس کو قانونی کارروائی کرنے سے روک دیا۔

اسلام آباد پولیس نے یہاں تک ہی بس نہیں کیا بلکہ ملک ریاض کی گرفتاری کے لیے آنے والے راولپنڈی پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔ جن پولیس افسران کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ان میں ڈی ایس پی رینک کا ایک جبکہ انسپکٹر رینک کے دو افسران شامل ہیں تاہم پولیس نے اس مقدمے کی ایف آئی آر کو سیل کردیا۔

اسی مقدمے میں بیان دینے کے لیے جب بحریہ ٹاؤن کے سابق سربراہ لندن سے اسلام آباد آئے تھے تو ایئرپورٹ سے لیکر ان کے اسلام آباد میں واقع گھر تک وی وی آئی پی روٹ لگایا گیا تھا جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید پرشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ وزارت داخلہ نے ملک ریاض کے لیے روٹ لگانے سے متعلق لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here