ملک ریاض کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس

Posted by on Jun 14, 2012 | Comments Off on ملک ریاض کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس

 

سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کے سابق سربراہ ملک ریاض کی منگل کو کی جانے والی پریس کانفرنس پر انہیں توہینِ عدالت میں اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ کے ذرائع کے مطابق جج صاحبان نے اس پریس کانفرنس کی ویڈیو ریکارڈنگ طلب کی ہے اور فل کورٹ اجلاس میں اس کا جائزہ لیا جائے گا۔

اُنہوں نے کہا کہ چونکہ عدالتوں میں سولہ جون سے گرمیوں کی چھٹیاں ہو رہی ہیں اس لیے ان امور کو نمٹانے کے لیے یہ اجلاس طلب کیا گیا ہے۔

اس سے قبل سپریم کورٹ کے رجسٹرار ڈاکٹر فقیر حسین نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ اس اجلاس میں سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور ماتحت عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کو فوری نمٹانے کے علاوہ انتظامی امور بھی زیر غور آئیں گے۔

عدالت نے نوٹس میں کہا کہ کیوں نہ ان کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی جائے۔

ملک ریاض نے اپنی نیوز کانفرنس میں موقف اختیار کیا تھا کہ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدرے کو ارسلان افتخار کے ملک ریاض سے مالی فوائد حاصل کے کے معاملے کا پہلے سے علم تھاآ ان کا الزام تھا کہ ڈاکٹر ارسلان افتخار نے پوری سپریم کورٹ کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ تاہم بعد ازاں سپریم کورٹ کے رجسٹرار فقیر حسین نے اس بات کی تردید کر دی تھی۔

جسٹس شاکر اللہ جان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ تشکیل دیا ہے۔ جو بدھ کو اس معاملے کی سماعت کرے گا۔

سپریم کورٹ کے جج شاکر اللہ جان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بدھ کو اس از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔

اظہار وجوہ کا نوٹس آئین کے آرٹیکل 204 اور توہینِ عدالت ایکٹ کے سیکشن تین اور سپریم کورٹ رولز کے سیکشن سترہ کے تحت جاری کیا گیا۔

جسٹس شاکر اللہ جان چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بعد سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج ہیں۔

بدھ کی صبح چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے جج صاحبان کا ایک غیر رسمی اجلاس منعقد ہوا ہے جس میں ملک ریاض کی پریس کانفرنس کا معاملہ زیرِ بحث آیا۔

سپریم کورٹ کے ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں بحریہ ٹاؤن کے سابق سربراہ ملک ریاض کی پریس کانفرنس میں چیف جسٹس اور سپریم کورٹ پر عائد کیے گئے الزامات بھی زیرِ بحث آئیں گے۔

 

 

 

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here