معاملہ وزیر داخلہ کی دوہری شہریت کا

Posted by on Jul 02, 2012 | Comments Off on معاملہ وزیر داخلہ کی دوہری شہریت کا

پاکستان کی سپریم کورٹ نے ارکان پارلیمان کی دوہری شہریت کیس میں وزیر اعظم کے مشیر برائے داخلہ امور رحمان ملک پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کے بارہا کہنے کے باوجود اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی انہوں نے برطانوی شہریت چھوڑنے کی دستاویز عدالت میں جمع نہیں کراوئیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ملک کے اہم عہدوں پر ایسے افراد کو تعینات نہیں کیا جاسکتا جنہوں نے کسی دوسرے ملک کی وفاداری کا حلف اٹھایا ہو۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ مشیر داخلہ رحمان ملک سمیت تین ارکان پارلیمان کی رکنیت معطل کرچکی ہے اور ان تینوں کا تعلق حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے۔ رحمان ملک ان دنوں برطانیہ کے نجی دورے پر ہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ارکان پارلیمان کی دوہری شہریت سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کی۔

رحمان ملک کے وکیل انور منصور نے عدالت میں اپنے مؤکل رحمان ملک کا پاکستانی پاسپورٹ اور دیگر دستاویزات پیش کیں جس کے مطابق رحمان ملک ان دستاویزات پر دیگر ملکوں کا دورہ کرچکے ہیں۔

انور منصور کا کہنا تھا کہ کسی بھی رکن پارلیمان کی رکنیت اس وقت منسوخ کی جا سکتی ہے جب وہ پارلیمان کا رکن بننے کے بعد کسی دوسرے ملک کی شہریت اختیار کرے۔ انہوں نے کہا کہ انتخاب لڑنے سے پہلے کسی بھی رکن پارلیمان کو دوہری شہریت رکھنے پر معطل نہیں کیا جاسکتا۔

انور منصور کا کہنا تھا کہ کسی بھی رکن پارلیمان کی رکنیت اس وقت منسوخ کی جا سکتی ہے جب وہ پارلیمان کا رکن بننے کے بعد کسی دوسرے ملک کی شہریت اختیار کرے۔ انہوں نے کہا کہ انتخاب لڑنے سے پہلے کسی بھی رکن پارلیمان کو دوہری شہریت رکھنے پر معطل نہیں کیا جاسکتا۔

 مطابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ انہوں نے گزشتہ سماعت کے دوران کہا تھا کہ عدالت میں برطانوی ادارے کی وہ مستند دستاویزات پیش کی جائیں جس میں انہوں نے رحمان ملک کی برطانوی شہریت چھوڑنے سے متعلق درخواست کو قبول کرتے ہوئے انہیں سرٹیفکیٹ جاری کیا ہو۔

انور منصور کا کہنا تھا کہ کسی بھی رکن پارلیمان کی رکنیت اس وقت منسوخ کی جا سکتی ہے جب وہ پارلیمان کا رکن بننے کے بعد کسی دوسرے ملک کی شہریت اختیار کرے۔ انہوں نے کہا کہ انتخاب لڑنے سے پہلے کسی بھی رکن پارلیمان کو دوہری شہریت رکھنے پر معطل نہیں کیا جاسکتا۔

انور منصور کا کہنا تھا کہ کسی بھی رکن پارلیمان کی رکنیت اس وقت منسوخ کی جا سکتی ہے جب وہ پارلیمان کا رکن بننے کے بعد کسی دوسرے ملک کی شہریت اختیار کرے۔ انہوں نے کہا کہ انتخاب لڑنے سے پہلے کسی بھی رکن پارلیمان کو دوہری شہریت رکھنے پر معطل نہیں کیا جاسکتا۔

انور منصور کے مطابق الیکشن کمیشن بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق تو دیتا ہے تاہم کسی ایسے شخص کو پارلیمان کا رکن بننے پر قدغن کیوں ہے؟ جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ یہ پابندی پاکستان کے آئین میں موجود ہے اور اگر پارلیمان اس میں ترمیم لانا چاہے تو اسے اختیار حاصل ہے۔

رحمان ملک کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل نے سنہ دو ہزار آٹھ میں برطانوی شہریت چھوڑنے سے متعلق درخواست دائر کی تھی جس پر بینچ میں موجود جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں پاکستانی ہائی کمیشن کی خدمات بھی حاصل کی جاسکتی تھیں۔

عدالت نے مقدمے کی سماعت منگل تک کے لیے ملتوی کر دی۔

انور منصور کا کہنا تھا کہ کسی بھی رکن پارلیمان کی رکنیت اس وقت منسوخ کی جا سکتی ہے جب وہ پارلیمان کا رکن بننے کے بعد کسی دوسرے ملک کی شہریت اختیار کرے۔ انہوں نے کہا کہ انتخاب لڑنے سے پہلے کسی بھی رکن پارلیمان کو دوہری شہریت رکھنے پر معطل نہیں کیا جاسکتا۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here