مصری اور پاکستانی عدلیہ سب سے متحرک

Posted by on Jun 28, 2012 | Comments Off on مصری اور پاکستانی عدلیہ سب سے متحرک

امریکی جریدے فارن پالیسی نے پاکستان کی عدالتِ عظمٰی کو سیاست میں مداخلت کرنے والی دنیا کی دوسری سب سے متحرک عدالت قرار دیا ہے۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نےرواں سال 19 جون کو اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کیس میں سزا ملنے پر نااہل قرار دیاتھا۔

صرف وزیرِ اعظم کو نااہل نہیں کیا گیا بلکہ جب آصف زرداری نے مخدوم شہاب الدین کو امیدوار نامزد کیا تو ایک نچلی عدالت سے ان کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کر دیےگئے۔

جریدے کے مطابق وزیرِ اعظم کی نااہلی فوج کی پشت پناہی کی حامل سپریم کورٹ اور انتظامیہ کے درمیان طاقت کی کشمکش کی ایک مثال ہے۔

مصر کی آئینی سپریم کورٹ نے14جون کو ملکی پارلیمنٹ کو تحلیل کرکے ملک کو ایک نئے بحران میں دھکیل دیا تھا، اس فیصلے سے پہلے 10 امیدواروں کو صدارتی انتخابات میں شرکت سے روکا گیا جبکہ حسنی مبارک کے وزیرِ اعظم احمد شفیق کو انتخابات میں شرکت کی اجازت دی گئی۔

جریدے کے مطابق پاکستان کی سپریم کورٹ نے حکومت کے خلاف متعدد فیصلے سنائے ہیں اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور زرداری حکومت کے درمیان 2009ء سے محاذ جنگ گرم ہے۔

اب راجہ پرویز اشرف پیپلز پارٹی کے وزیراعظم ہیں اور ان کے بھی سوئس حکام کو خط لکھنے کے معاملے پر عدلیہ سے ٹکراؤ کے پورے امکانات ہیں، ان پر پہلے ہی وفاقی وزیر پانی و بجلی کی حیثیت سے کرپشن اوررشوت لینے کے الزامات عائد ہیں۔

فارن پالیسی میگزین کی اس فہرست میں پر مصر کی اعلیٰ عدلیہ کو پہلے نمبر پر رکھا گیا ہے۔

جریدے کا کہنا ہے کہ مصری سپریم کورٹ میں تمام جج حسنی مبارک کے تعینات کردہ ہیں جو اخوان المسلمون کو اقتدار میں دیکھنا نہیں چاہتے۔ اخوان المسلمین نے پارلیمانی انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں جیتی تھیں۔

چوتھے نمبر پر بھارت کی سپریم کورٹ ہے جو ملکی سیاست اور شہریوں کی روزمرہ کی زندگیوں کے معاملات میں مداخلت کرتی رہتی ہے۔ بھارت کی سپریم کورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق عدالت ان معاملات میں مداخلت کرسکتی ہے جن میں عوام کا مفاد ہو۔اب راجہ پرویز اشرف پیپلزپارٹی کے وزیراعظم ہیں اور ان کے بھی سوئس حکام کو خط لکھنے کے معاملے پر عدلیہ سے ٹکراؤ کے پورے امکانات ہیں، ان پر پہلے ہی وفاقی وزیر پانی و بجلی کی حیثیت سے کرپشن اوررشوت لینے کے الزامات عائد ہیں۔

بھارت کی سپریم کورٹ نے جن امور میں مداخلتی فیصلے دیے ان میں نوکریوں کے معاملات سے لے کر امداد کی فراہمی سمیت کئی امور شامل ہیں۔ اس کے کچھ فیصلوں کے خلاف عوامی ردِ عمل بھی سامنے آیا ہے جیسے کہ دوہزار چھ میں نئی دہلی میں قریباً چھیالیس ہزار غیرقانونی طور پر تعمیر دکانوں کو منہدم کرنے کا فیصلہ تھا۔

گزشتہ سال نومبر میں سپریم کورٹ نے پارلیمان کی وزیرِ اعظم سے جواب طلب کرنے کی کوشش کو رد کردیا تھا جس کے بعد امیر نے پارلیمنٹ توڑ دی تھی۔ دوہزار چھ سے اب تک کویت کی پارلیمنٹ چار مرتبہ توڑی جاچکی ہے۔

فارن پالیسی جریدے کے مطابق پانچواں نمبر پر کویت ہے جہاں کی اعلٰی عدالت نے مصر کی طرح 20 جون کو اسلام پسندوں کو پارلیمنٹ میں غلبہ حاصل کرنے سے روک دیا۔

اب راجا پرویز اشرف پیپلزپارٹی کے وزیراعظم ہیں اور ان کے بھی سوئس حکام کو خط لکھنے کے معاملے پر عدلیہ سے ٹکراؤ کے پورے امکانات ہیں، ان پر پہلے ہی وفاقی وزیر پانی و بجلی کی حیثیت سے کرپشن اوررشوت لینے کے الزامات عائد ہیں۔”

کویت کی عدالت کے پانچوں ججز کو امیرِ کویت صباح احمد الصباح مقرر کرتے ہیں۔

تیسرے نمبر پر اسرائیلی سپریم کورٹ کو رکھا گیا ہے جس نے حال ہی میں فلسطینی علاقوں میں یہودی آباد کاروں کے مکانات کو یکم جولائی تک گرانے کا حکم دے کر اسرائیلی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اسرائیلی سپریم کورٹ واحد کورٹ ہے جو اپنی ریاست اور فوج کے خلاف ان افراد کی درخواست بھی منظور کرتی ہے جو اس کے شہری نہیں ہوتے۔

اس سال فروری میں ہونے والے انتخابات میں پارلیمان کی پچاس مین سے چونتیس نشستیں حکومت مخالف چھ جماعتوں نے حاصل کرلیں جس کے بعد سپریم کورٹ نے انتخابات کالعدم قرار دے کر سابقہ پارلیمان بحال کر دی۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here