مخدوم شہاب الدین وزارتِ عظمیٰ کے لیے نامزد

Posted by on Jun 21, 2012 | Comments Off on مخدوم شہاب الدین وزارتِ عظمیٰ کے لیے نامزد

پاکستان کے صدر اور برسرِ اقتدار جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے ٹیکسٹائل کے وزیر مخدوم شہاب الدین کو وزارتِ عظمیٰ کے عہدے کے لیے نامزد کر دیا ہے جبکہ راجہ پرویز اشرف کو متبادل امیدوار کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ دونوں امیدوار جمعرات کو اپنے کاغذاتِ نامزدگی الیکشن کمیشن میں جمع کرائیں گے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے وزارتِ عظمیٰ کے لیے نامزد امیدواروں کا اعلان بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب سرکاری ٹی وی پر کیا گیا۔

مخدوم شہاب الدین کا تعلق جنوبی پنجاب کے ضلع رحیم یار خان سے ہے اور وہ حلقہ ایک سو چورانوے سے رکن قومی اسمبلی ہیں۔ مخدوم شہاب الدین سابق وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو اور سابق وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی کی کابینہ میں وزیر رہ چکے ہیں۔

اس سے قبل پاکستان میں نئے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے قومی اسمبلی کی سپیکر نے شیڈول جاری کر دیا تھا، جس کے مطابق کاغذات نامزدگی جمعرات کو دوپہر دو بجے تک داخل کیے جاسکتے ہیں۔

صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی اپنی اتحادی جماعتوں کی قیادت اور پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی سے مشاورت کے بعد یہ بیان جاری کیا گیا۔ بدھ کو ایوان صدر میں پارلیمانی پارٹی کے دو گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس میں صدر نے ممکنہ امیدوار کی کسی کو بھنک بھی ہونے نہیں دی۔

صدرِ مملکت نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کہا کہ ’نیا امیدوار ایسا ہوگا جو آپ کی توقعات پر پورا اترے گا‘۔

قومی اسمبلی کے تین سو بیالیس اراکین ووٹ ڈالیں گے اور سادہ اکثریت کے لیے ایک سو بہتر ووٹ درکار ہیں۔ اگر اتحادی جماعتوں نے پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دیا تو وہ با آسانی جیت جائیں گے کیونکہ ایسی صورت میں انہیں دو سو سے زائد اراکین کی حمایت حاصل ہوگی۔

پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں صدر نے ممکنہ امیدوار کی کسی کو بھنک بھی ہونے نہیں دی

قومی اسمبلی کے اعلامیے کے مطابق کہا گیا تھا کہ کاغذات نامزدگی اسمبلی کے سیکریٹری کے پاس داخل ہوں گے اور تین بجے سہ پہر سپیکر قومی اسمبلی ان کی جانچ پڑتال کے بعد امیدواروں کی فہرست جاری کریں گی۔

ادھر اسلام آباد میں سیاسی رابطوں اور جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے۔ مسلم لیگ (ن) حکومت کی اتحادی جماعتوں سے رابطے میں ہیں اور انہیں پیشکش کی ہے کہ اگر وہ اپنا امیدوار سامنے لائیں تو وہ ان کی حمایت کے لیے تیار ہے۔

امیدواروں کے دستبردار ہونے کے بعد جمعرات کی شام تک امیدواروں کی حتمی فہرست جاری ہوگی اور جمعہ کی شام کو ساڑھے پانچ بجے خفیہ رائے شماری ہوگی۔

وزیراعظم کے انتخاب میں الیکشن کمیشن کا کوئی عمل دخل نہیں۔ کمیشن صرف انہیں دو بیلٹ باکس فراہم کرے گا۔ ریٹرنگ افسر کا کام قومی اسمبلی کے سیکریٹری کریں گے۔

میری اور گیلانی کی رہنمائی

“مجھ پر بھروسہ رکھیں ۔۔۔ پہلے بھی کبھی آپ کو مایوس نہیں کیا ۔۔۔ آئندہ بھی نہیں کروں گا ۔۔۔ نیا امیدوار ایسا ہوگا جو آپ کی توقعات پر پورا اتریں گے ۔۔۔ میری اور گیلانی صاحب کی رہنمائی میں کام کریں گے۔‘”

صدر آصف علی زرداری

اجلاس میں شریک اراکین نے بی بی سی کو بتایا کہ صدر نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر انہیں تحفظات ہیں لیکن جمہوری نظام کو چلانے کی خاطر انہوں نے فیصلہ قبول کیا۔

صدر نے کہا کہ ’مجھ پر بھروسہ رکھیں ۔۔۔ پہلے بھی کبھی آپ کو مایوس نہیں کیا ۔۔۔ آئندہ بھی نہیں کروں گا ۔۔۔ نیا امیدوار ایسا ہوگا جو آپ کی توقعات پر پورا اتریں گے ۔۔۔ میری اور گیلانی صاحب کی رہنمائی میں کام کریں گے۔‘

صدرِ مملکت نے حزب مخالف کے مولانا فضل الرحمٰن سے رابطہ کرکے اپنے امیدوار کی حمایت کے لیے بات چیت کی۔ جبکہ مسلم لیگ (ن) بھی مولانا سے رابطے میں ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے ایک سینیئر رہنما نے کہا کہ اگر دیگر جماعتوں سے ان کا کسی امیدوار پر اتفاق نہیں ہوتا تو پھر مسلم لیگ (ن) اپنا امیدوار سامنے لائے گی اور سردار مہتاب عباسی ان کے ممکنہ امیدوار ہوں گے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here