ماروی میمن اسمبلی سے مستعفی

Posted by on Jun 23, 2011 | Comments Off on ماروی میمن اسمبلی سے مستعفی

مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والی رکن قومی اسمبلی ماروی میمن نے حکومتی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے احتجاجا قومی اسمبلی اور اپنی جماعت کی رکنیت سے استعفی دے دیا ہے۔
مارچ دو ہزار آٹھ میں پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کی خواتین کے لیے مخصوص نشست پر منتخب ہونے والی ماروی میمن نے بدھ کو پارٹی ہدایات کے برعکس آئندہ برس کے وفاقی بجٹ کے خلاف ووٹ دیا اور نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے اپنا استعفی پڑھ کر سنایا۔
بعد میں صحافیوں سے بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت وفاقی حکومت میں شامل ہوگئی ہے اور وہ کوششوں کے باوجودہ پارٹی قیادت کو ایسا کرنے سے نہیں روک سکیں۔ ماروی میمن کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ق) کی قیادت ذاتی مفادات کے لیے کام کر رہی ہے اور حکومت میں شامل ہو کر عوامی امنگوں کی نفی کی گئی۔
ماروی میمن نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے غریبوں سے کھانے اور جینے کا حق چھین لیا ہے، وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرنے والی حکومت کے ساتھ نہیں چل سکتیں اور ان کا استعفی بارش کا پہلا قطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ انہوں نے جماعتی ڈسپلن کی خلاف ورزی کی ہے تو ان کی ذمہ داری بنتی تھی کہ وہ اس کے اثرات کا اعلان بھی خود کریں۔
پاکستان میں استعفوں کی روایت نہیں ہے تو اگر میں نے کسی اصولی موقف پر کوئی قدم اٹھایا ہے تو ضروری ہے میں اس کے نتائج کا بھی سامنا خود کروں اور قیمت ادا کروں لیکن یہ بہت چھوٹی قیمت ہے۔
اپنے استعفے میں انہوں نے اس فیصلے کی دس وجوہات بیان کی ہیں جن میں سرفہرست حکومت کی ملکی خودمختاری کا دفاع کرنے میں ناکامی یعنی ایبٹ آباد واقعہ کا رونما ہونا بھی شامل تھا۔
مسلم لیگ (ق) کے پارلیمانی رہنما فیصل صالح حیات نے اس فیصلے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے یاد دلایا کہ وہ سندھ کی ہوتی ہوئی پنجاب سے کیوں مخصوص نشست پر منتخب ہوئی۔ انہیں اس وقت ان کے ضمیر نے نہیں جھنجھوڑا؟ انہوں نے پنجاب کے فنڈز بھی سندھ میں خرچ کیے۔ ان کی پنجاب میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔
فیصل صالح حیات نے ان پر تین سال کے دوران جماعت کے احکامات کی مسلسل خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے اکثر اپنی آزاد بات کی جو پارٹی پالیسی سے متصادم تھی۔ ان کو اس وقت بھی ان کے ضمیر نہیں نہیں جھنجھوڑا؟
بی بی سی کے ایک سوال کے جواب میں کہ کیا جماعت کے اندر ناراضی کچھ زیادہ ہے، فیصل صالح حیات نے اس سے انکار کیا۔ بات ناراضی کی نہیں ہے۔ ہر جماعت میں اختلاف ہوتا ہے۔ لوگوں کی مختلف آرا ہوتی ہیں۔ لیکن جب جماعت کوئی فیصلہ کرتی ہے تو اتفاق رائے سے چلتی ہے۔ اگر کسی نے چھوڑنا ہے تو چھوڑ دے۔ بات واضح ہے۔
حکمراں پیپلز پارٹی کے رکن اور وفاقی وزیر مذہبی امور سید خورشید شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ماروی میمن کو یاد دلایا جائے کہ وہ ایک فوجی آمر پرویز مشرف کی حمایت تو کرتی رہیں اس وقت انہیں اس بات کا خیال نہیں آیا تھا۔ ان کا اخلاق آج معلوم ہوگا اگر وہ پرویز مشرف کے خلاف کھل کر سامنے آئیں۔ وہ محض پوائنٹ سکورنگ کر رہی ہیں۔
ایک سوال پر ماروی میمن کا کہنا تھا کہ فی الحال کسی دوسری جماعت میں شمولیت کا نہیں سوچا ہے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here