لندن میں فسادات تھم گئے،مانچسٹر میں لوٹ مار جاری

Posted by on Aug 10, 2011 | 1 Comment

لندن میں فسادات تھم گئے،مانچسٹر میں لوٹ مار جاری
برطانیہ کے مختلف شہروں میں مسلسل چوتھی شب ہنگاموں اور لوٹ مار کا سلسلہ جاری رہا اور اسی دوران امریکہ کی حکومت نے برطانیہ سفر کرنے والے اپنے شہریوں کے لیے خصوصی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
مانچسٹر کے پولیس کمانڈر نے کہا ہے کہ پولیس کو بدامنی پھیلانے والے مجرمانہ ذہنیت کے گروہوں سے غیر معمولی تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
قبل ازیں لندن میں سولہ ہزار پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کے بعد فسادات کا سلسلہ تھم گیا تھا۔
برطانوی دارالحکومت لندن میں سنیچر سے شروع ہونے والے فسادات تھم گئے ہیں اور منگل کی رات بارہ بجے تک کسی ناخوشگوار واقعے کی کوئی اطلاع نہیں ملی تھی۔ شہر میں ہنگاموں اور لوٹ مار پر قابو پانے کے لیے بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات ہیں۔
ابھی تک پولیس نے لندن میں پانچ سو ساٹھ افراد کوگرفتار کیا ہے اور ان میں سے ایک سو پانچ افراد پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔ منگل اور بدھ کی درمیانی شب لندن کے علاقے کروائیڈن میں زخمی ہونے والا ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے۔
منگل کو مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیے جانے والے افراد کی عمریں بیس سال کے قریب تھیں اور ان میں اکثریت ماضی میں کسی مجرمانہ کارروائی میں ملوث نہیں رہے ہیں۔
مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش ہونے والے بعض افراد نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔
لندن میں حالات پر قابو پانے کے لیے پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔
ادھر لندن کے بعض علاقوں میں لوگ اپنے علاقوں کی حفاظت کے لیے باہر نکل آئے ہیں۔ اینفیلڈ کے علاقے میں کئی سو افراد اپنے علاقے کی حفاظت کے لیے سڑکوں پر مارچ کر رہے ہیں۔ لندن کے ساتھ ہال میں سکھ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد گردوارے کی حفاظت کے لیے وہاں موجود ہیں۔
دوسری طرف انڈیپینڈنٹ پولیس کمپلینٹ کمیشن نے کہا ہے کہ انہیں ابھی تک ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جن سے پتا چلتا ہوں کہ لندن کے علاقے ٹوٹینہم میں جمعرات کے روز پولیس فائرنگ سے ہلاک ہونے والے شخص مارک ڈگن کے پاس سے ملنے والی پستول سے گولی چلائی گئی ہو۔

سکاٹ لینڈ یارڈ کے مطابق فسادات کے دوران اب تک پانچ سو تریسٹھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان میں سے ایک سو پانچ افراد پر لوٹ مار کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
انہیں ابھی تک ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جن سے پتا چلتا ہوں کہ لندن کے علاقے ٹوٹینہم میں جمعرات کے روز پولیس فائرنگ سے ہلاک ہونے والے شخص مارک ڈگن کے پاس سے ملنے والی پستول سے گولی چلائی گئی ہوپولیس کمپلینٹ کمیشنادھر برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے لندن اور ملک کے دیگر شہروں میں فسادات کے بعد پارلیمان کا اجلاس طلب کر لیا ہے اور پولیس کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں۔
پیر اور منگل کی درمیانی شب لندن کے جنوبی علاقوں پیکہم اور کروئیڈن، مغربی علاقے ایلنگ اور مشرقی علاقے ہیکنی میں لوٹ مار اور فسادات کے واقعات پیش آئے ہیں۔
برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اٹلی میں موسم گرما کی چھٹیاں مختصر کر کے واپس وطن پہنچے ہیں۔ ایک حکومتی ترجمان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
وزیر داخلہ ٹریسا مے نے کہا تھا کہ ٹوٹنہم سے شروع ہونے فسادات ناقابل برداشت ہیں اور ان میں حصہ لینے والوں کو نتائج بھگتنے پڑیں گے۔
واضح رہے کہ لندن میں سنیچر کو شمالی لندن کے علاقے ٹوٹنہم میں ایک شخص کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد فسادات کا سلسلہ شروع ہوا تھا جو اب مختلف علاقوں تک پھیل چکا ہے۔
لندن شہر میں صورتحال سے نمٹنے کے لیے سترہ سو پولیس افسران کی اضافی نفری کو تعینات کیا گیا۔ لندن پولیس کو برٹش ٹرانسپورٹ پولیس کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں سے نو پولیس فورسز کی مدد حاصل ہے۔
پیر کو لندن کے مشرقی علاقے ہیکنی میں فسادات کا سلسلہ شروع ہوا جو شام تک کروئیڈن، پیکہم، لوئیشم اور برکسٹن تک پھیل گیا۔ پیر کی رات اینفیلڈ، والتھم سٹوو، بارکنگ اور ایلنگ براڈوے میں بھی بدامنی کے واقعات پیش آئے اور فسادات کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہا۔
سر اور چہروں کو ڈھانپیہوئے نوجوانوں نے جہاں شہر کے مختلف علاقوں میں زبردست لوٹ مار کی اور املاک کو نقصان پہنچایا وہیں پولیس اہلکاروں پر حملہ بھی کیا۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here