لشکر گاہ آج افغان فوج کے حوالے، پہلا کڑا امتحان

Posted by on Jul 20, 2011 | Comments Off on لشکر گاہ آج افغان فوج کے حوالے، پہلا کڑا امتحان

افغانستان میں برطانوی فوج پرتشدد واقعات کا شکار صوبے ہلمند کے دارالحکومت لشکر گاہ کا کنٹرول آج افغان سکیورٹی فورسز کے حوالے کرنے جا رہی ہے۔
دریں اثنا بھارت نے افغانستان سے انخلا کے امریکی منصوبے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اس سے پہلے اتحادی فوج نیٹو قدرے پرامن صوبے بامیان اور صوبے لغمان کے دارالحکومت مہترلام کا کنٹرول افغان سکیورٹی فورسز کے حوالے کر چکی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان سکیورٹی فورسز کو لشکر گاہ میں امن قائم رکھنے کے حوالے سے ایک سخت چینلج کا سامنا ہو گا کیونکہ یہاں طالبان اب بھی سرگرم ہیں۔

بدھ کو برطانوی فوج نے جو علاقہ افغان سکیورٹی فورسز کے حوالے کرنا ہے وہاں دو دن پہلے پیر کو ایک چیک پوسٹ پر حملے میں سات پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے اور اس سے پہلے سنیچر کو ایک برطانوی فوجی معمول کے گشت کے دوران ہلاک ہو گیا تھا۔بدھ کو برطانوی فوج نے جو علاقہ افغان سکیورٹی فورسز کے حوالے کرنا ہے وہاں دو دن پہلے پیر کو ایک چیک پوسٹ پر حملے میں سات پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے اور اس سے پہلے سنیچر کو ایک برطانوی فوجی معمول کے گشت کے دوران ہلاک ہو گیا تھا۔
بعض اطلاعات کے مطابق برطانوی فوجی کو افغان سکیورٹی فورس کی وردی میں ملبوس ایک شخص نے گولی مار کی ہلاک کیا تھا۔
افغان صدر حامد کرزئی کی جانب سے مارچ میں کیے گئے اعلان کردہ منصوبے کے مطابق صوبہ ہلمند سات علاقوں میں سے تیسرا علاقہ ہو گا ہے جس کا کنٹرول اب مقامی فوج کو دے دیا جائے گا۔
دیگر چار علاقوں میں صوبہ کابل، پنج شیر، ہیرات اور صوبہ مزار شریف شامل ہیں۔
افغانستان میں تعینات غیر ملکی فوج کا اعلان کے مطابق سال دو ہزار چودہ تک انخلا ہونا ہے۔

افغان صدر کرزئی کے سکیورٹی ذمہ داریوں کے حوالے کے بعد پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے
افغان صدر کے اعلان کے بعد افغانستان میں پرتشدد کارروائیوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اس اعلان کے چند ہفتوں بعد ہی صوبہ مزار شریف میں ایک مظاہرے کے دوران اقوام متحدہ کے سات اہلکاروں کو ہلاک کر دیا گیا۔
اس کے علاوہ کئی اہم شخصیات اور مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان میں دارالحکومت کابل میں واقع عالی شان ہوٹل پر حملے میں بائیس افراد ہلاک ہوئے۔
افغانستان میں نیٹو کی کمانڈ کے تحت برطانیہ کے دس ہزار فوجیوں میں سے اکثریت صوبہ ہلمند میں تعینات ہے۔
افغانستان سے برطانوی فوج کے اعلان کردہ منصوبے کے مطابق سال دو ہزار چودہ تک نکل جانا ہے تاہم چند روز پہلے برطانوی پارلیمان کے اراکیکن نے خبردار کیا تھا کہ وقت سے پہلے افغانستان سے فوج بلانے سے اتحادی افواج خطرناک حد تک کمزور پڑ جائیں گی۔
افغان سکیورٹی فورسز کی صلاحیت پر شکوک

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں ہلاکتوں میں اضافے کے برعکس امریکی فوج کی مزید تعیناتی اور ہزاروں کی تعداد میں افغان پولیس اور فوجیوں کی بھرتی کی وجہ سے ملک کے مختلف حصوں میں سکیورٹی کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔
تاہم افغان پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کی شدت پسندی کے نمٹنے کی صلاحیت کو غیر معیاری قرار دیا جا رہا ہے اور خدشے ظاہر کیا جا رہے کہ طالبان کی جانب سے حال ہی میں شروع کی جانے والی موسم بہار کی کارروائیوں کا مقابلہ نہیں کر پائیں گے۔
اس طرح کے خدشات صوبہ ہلمند میں سنحیدہ نوعیت کے ہیں کیونکہ یہاں پر سکیورٹی ذمہ داریوں میں افعان پولیس نے اہم کردار ادا کرنا ہے اور اس میں بدعنوانی اور نچلی سطح کے اہلکاروں میں جذبے کی کمی ہے۔
انخلا کے مصنوبے پر بھارت کی تشویش

امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کے دور بھارت کے موقع پر بھارتی حکام نے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے منصوبے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
بھارت کے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا کے مطابق امریکی انخلا کے منصوبے سے افغانستان شدت پسندوں کا مرکز بن سکتا ہے اور امریکہ کو اس ضمن میں لاحق خطرات پر نظر رکھنا ہو گی۔
امریکہ کے لیے یہ ضروری ہے کہ افغانستان کی حقیقی صورتحال کو اس طرح دیکھے جس طرح سے ہم دیکھتے ہیں، ہم حوصلہ افزائی کر سکتے ہیں اگر افغانستان طالبان کی پشت پناہی میں جاری شدت پسندی کو اپنے طور پر شکست دینے کے قابل ہو جائے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here