’لاپتہ افراد کے مسئلے کو انا کا مسئلہ نا بنائیں‘

Posted by on Jul 12, 2012 | Comments Off on ’لاپتہ افراد کے مسئلے کو انا کا مسئلہ نا بنائیں‘

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کے مسئلے کو انا کا مسئلہ نہ بنایا جائے اور اگر لاپتہ افراد کو منظرعام پر نہیں لایاجاتا تو وہ تمام لوگ گرفتار ہوں گے جو لوگوں کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنے کے ذمہ دار ہیں۔

کوئٹہ سے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق جمعرات کوعدالت کے حکم کے باوجود نوشکی سے لاپتہ عبدالمالک کو پیش نہیں کیا گیا۔ ایف سی کے وکیل راجہ ارشاد نے کہا کہ ایف سی کے پاس لاپتہ افراد کی تفتیش کے حوالے سے کوئی طریقہ کار نہیں ہے جس پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ سیشن جج نوشکی نے تفتیش کی ہے اور شواہد کے مطابق یہ شخص ایف سی کے پاس ہے۔

چیف جسٹس نے ایف سی کے وکیل کو کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے افسر گرفتار ہوں اور پولیس کے سامنے پیش ہوں۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ اگر لاپتہ افراد پیش نہیں کیے جائیں گے تو پھر ہم کہیں گے کہ متعلقہ کمانڈرز کو بلاؤ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایف سی دلچسپی نہیں لے رہی۔

انہوں نے ایف سی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ قول نہیں عمل چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم آئی جی ایف سی اور ڈی آئی جی ایف سی کا احترام کرتے ہیں ان کو یہاں ہونا چاہئے تھا ۔ راجہ ارشاد نے کہا کہ وہ یہاں ضرور آتے لیکن آئی جی ایف سی شہر سے باہر ہیں جبکہ ڈی آئی جی ایف سی آپریشنل ذمہ داریوں کے حوالے سے باہر ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم بلوچستان میں آئین اور پولیس کی رٹ قائم کرنا چاہتے ہیں حالانکہ یہ ہمارا کام نہیں ہے۔ راجہ ارشاد نے کہا کہ رٹ صوبائی حکومت نے قائم کرنی ہے ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ اس وقت ہوگی جب آپ مداخلت نہیں کریں گے ۔

ایجنسیوں کے وکیل منیر پراچہ نے کہا کہ دونوں متعلقہ اداروں کو کہیں کہ تحقیقات کرائیں۔ جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ جب دونوں ادارے کچھ نہیں کر رہے ہیں تو پھر ہم کیا کریں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے چھ سات لاپتہ افراد کے کیسوں کا سیمپل ڈرا کیا ہے ورنہ ہم سب کیسوں میں آرڈر کراسکتے تھے لیکن ہم نہیں چاہتے کہ لوگوں کے لیے پریشانی ہو۔

عدالت نے جمعرات کو لاپتہ افراد کو پیش کرنے کا حکم دیا تھا اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی جس پر چیف جسٹس نے چیف سیکریٹری بلوچستان سے کہا کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہیں ہو رہا ہے ۔ چیف سیکریٹری نے کہا کہ ایجنسیوں کی صورتحال آپ کے سامنے ہے ۔ ’میں نے اپنی طرف سے بھرپور کوشش کی ہے اور انہیں عدالت کی تشویش سے آگاہ کیا ہے۔‘

چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری سے کہا کہ ہمیں نتائج دیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر لاپتہ لوگوں کو بازیاب نہیں کرایا جائے گا تو پھر قانون اپنا راستہ لے گا اور پھر ہم کہیں گے جو لوگ بھی ان کو لے کر گئے تھے ان کو گرفتار کرو۔

انہوں نے کہا کہ اسے انا کا مسئلہ نہ بنائیں ورنہ ہم حکم جاری کریں گے جس کے نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔ ایف سی کے وکیل نے کہا کہ ایک ہفتے کا موقع دیا جائے ہم تمام معلومات دیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ لوگ لاپتہ ہیں ہمیں یہ لوگ چاہئیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعظم کی بڑی مہربانی کہ کوئی بلوچستان کو دیکھ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم جو بات کر رہے ہیں وہ آئین اور قانون کی کمانڈ ہے جس پر صوبائی سیکرٹری داخلہ نصیب اللہ بازئی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ہم نے ڈپٹی کمشنروں اور ایف سی ہیڈ کوارٹرکو کہا ہے کہ جہاں کارروائی کرنی ہے اس کا کیا طریقہ کار ہوگا ۔ ایف سی کے وکیل راجہ ارشاد نے کہا کہ ایف سی آزادنہ طور پر کام نہیں کر رہی بلکہ وہ سویلین حکومت کے ماتحت کام کرتی ہے۔

عدالت نے لاپتہ افراد کے کیسز کی سماعت جمعہ تک ملتوی کردی۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here