لاپتہ افراد پر رپورٹ منگل کو پیش کریں

Posted by on Jul 10, 2012 | Comments Off on لاپتہ افراد پر رپورٹ منگل کو پیش کریں

سپریم کورٹ نے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو حکم دیاہے کہ خفیہ اداروں سے لاپتہ افراد سے متعلق رپورٹ حاصل کر کے منگل کو عدالت میں پیش کرے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق سماعت کے آغاز پر عدالت میں لاپتہ افراد کے بارے میں رپورٹ پیش کی گئی جس کے مطابق بعض لاپتہ افراد بلوچستان اور بلوچستان سے باہر قائم فراری کیمپوں میں ہیں۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ، جسٹس عارف خلیجی اورجسٹس جواد ایس خواجہ پر مشتمل بینچ نے سوموار کو کوئٹہ رجسٹری میں بلوچستان بدامنی کیس کی دوبارہ سماعت کی۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’یہ فراری کیمپس تو ریاست کو چیلنج کرنے کے مترادف ہیں، ان کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے‘۔

جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل شفیع محمد چانڈیو نے عدالت کو بتایا کہ حکومتی اداروں کو نہ صرف فراری کیمپوں بلکہ ان کے کمانڈروں کا بھی پتہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت برداشت سے کام لے رہی ہے کیونکہ ساتھ ساتھ سیاسی معاملات بھی چل رہے ہیں تاکہ ان لوگوں کو قومی دھارے میں لایا جا سکے ۔

عدالت نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے حوالے سے عدالتی احکامات پر عملدرآمد کے لیے کیے گئے اقدامات پر مکمل عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بازیابی اور تفتیش کے حوالے سے پولیس کی کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے ۔

انہوں نے کہا کہ عسکریت پسند فوج اور ایف سی کے لوگوں کو مار رہے ہیں لیکن ان کی کوئی بات نہیں کرتا ہے۔ ان کے مطابق فرنٹیئر کور نے چھبیس ایف آئی آر درج کروائی ہیں ان پر بھی کارروائی ہونی چاہیے۔

“انٹیلی جنس کے لوگ’ کور‘ میں کام کرتے ہیں ہم نہیں چاہتے کہ ان کے نام ایکسپوز ہوں کیونکہ اس سے مسائل پیدا ہوں گے لیکن جب کسی کے خلاف شواہد آتے ہیں تو پھر ہم کیا کریں ۔ شواہد آنے پر ہم یہی نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ یہ لوگ ملوث ہیں۔”

چیف جسٹس افتخار چوہدری

اس موقع پر چیف سیکرٹری بلوچستان بابر بعقوب فتح محمد نے عدالت کو بتایا کہ لاپتہ افراد کے مسئلے کو سٹریٹجک لیول پر اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم کے ساتھ اس سلسلے میں ان کے تین اجلاس ہوئے تھے۔

نوشکی سے لاپتہ ایک شخص کے بارے میں چیف جسٹس نے کہا کہ اس کے بارے میں تو جوڈیشل انکوائری میں یہ کہا گیا ہے کہ وہ ایف سی کے پاس ہے جس پر فرنٹیئرکور کے وکیل راجہ ارشاد نے کہا کہ فرنٹیئرکور ایک ڈسپلنڈ فورس ہے اس پر بےبنیاد الزام لگایا جا رہا ہے۔

جس پر جسٹس خواجہ نے کہا کہ ’ہم یہ نہیں کہتے کہ فرنٹیئرکور خدانخواستہ ملک دشمن ہے۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ فرنٹیئرکور کی بلوچستان میں پچاس ہزار کی نفری ہے۔ ان میں سے پچاس لوگ ایسے ہو سکتے ہیں جو شاید غلط کام کر رہے ہیں‘۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ’انٹیلی جنس کے لوگ کور میں کام کرتے ہیں ہم نہیں چاہتے کہ ان کے نام ایکسپوز ہوں کیونکہ اس سے مسائل پیدا ہوں گے لیکن جب کسی کے خلاف شواہد آتے ہیں تو پھر ہم کیا کریں ۔ شواہد آنے پر ہم یہی نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ یہ لوگ ملوث ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ہر تیسرے لاپتہ شخص کے حوالے سے یہ کہا جاتا ہے کہ اسے ایف سی نے اٹھایا ہے‘۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ کوئی نتیجہ برآمد ہو، ہمیں کوئی نتیجہ دکھایا جائے۔

“ہم یہ نہیں کہتے کہ فرنٹیئرکور خدانخواستہ ملک دشمن ہے۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ فرنٹیئرکور کی بلوچستان میں پچاس ہزار کی نفری ہے۔ ان میں سے پچاس لوگ ایسے ہو سکتے ہیں جو شاید غلط کام کر رہے ہیں‘۔”

جسٹس جواد ایس خواجہ

عدالت کو بتایا گیا کہ چار مزید لاپتہ افراد بازیاب ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے ان کے ناموں کو لاپتہ افراد کی فہرست سے خارج کردیا گیا ۔ بارکھان سے تعلق رکھنے والے تفتیشی افسر نے بتایا کہ انہوں نے گلزار مری سے پوچھا تھاکہ انہیں کس نے اٹھایا لیکن انہوں نے بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ بتانے پر خدشہ ہے کہ انہیں پھر سے اٹھایا جائے گا۔

عدالت نے بعض دیگر لاپتہ افراد کی درخواستوں کی سماعت منگل تک ملتوی کرتے ہوئے چیف سیکرٹری بلوچستان اور ہوم سیکرٹری کو ہدایت کی کہ وہ تمام ایجنسیوں کے علاقائی سربراہان کا اجلاس بلا کر لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنائیں ۔

نوشکی سے لاپتہ شخص عبدالمالک کے بارے میں عدالت نے کہا کہ سیشن جج نے یہ آبزرویشن دی ہے کہ ایف سی ان کے لاپتہ ہونے میں ملوث ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت تک انہیں پیش کیا جائے ورنہ قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here