قائد اعظم کو قتل کیا گیا، الطاف حسین

Posted by on Sep 12, 2012 | Comments Off on قائد اعظم کو قتل کیا گیا، الطاف حسین

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے قائد الطاف حسین نے الزام عائد کیا ہے کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو قتل کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جو افراد آج پاکستان میں فرقہ واریت کو ہوا دے رہے ہیں، لوگوں کو بسوں سے اتار کر، شناختی کارڈ دیکھ کر قتل کررہے وہ قائد اعظم کو دوبارہ قتل کررہے ہیں۔

الطاف حسین کے بقول ’قائد اعظم نے ملاؤں کے لیے پاکستان نہیں بنایا تھا وہ رنگ نسل مذہب فرقہ واریت سے پاک ملک بنانا چاہتے تھے جس کا اظہار انہوں نے بارہا اپنی مختلف تقریروں خطابات میں کیا۔قائد اعظم نے جوگندر ناتھ منڈل کو اپنی کابینہ میں پہلا وزیر قانون بنایا جو ہندو تھے، سر ظفر اللہ کو وزیر خارجہ بنایا جو احمدی (قادیانی) تھے لیکن ان کے بعد پاکستان کے لوگوں نے احمدی ہونے کی بنیاد پر ڈاکٹر عبدالسلام جیسے سائنسدانوں کے ساتھ کیا سلوک کیا۔‘

پاکستان کے بانی محمد علی جناح کی چونسٹھویں برسی کے موقع پر ایم کیو ایم کے زیرِ اہتمام مقامی ہوٹل میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین نے کہا کہ قائد اعظم فرقہ واریت کے خلاف تھے۔

“قائد اعظم فرقہ واریت کے خلاف تھے۔انہوں نے ملاؤں کے لیے پاکستان نہیں بنایا تھا وہ رنگ نسل مذہب فرقہ واریت سے پاک ملک بنانا چاہتے تھے”

ایم کیو اینم کے قائد الطاف حسین

مجاہد بریلوی نے پاکستان کی قومی سیاست میں سول و فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ان کھلاڑیوں کا ذکر کیا جن کی سازشوں نے ملک کو جمہوریت کی پٹڑی سے اتارا اور پینسٹھ برس تک اپنے مقاصد کے لیے پاکستان کو مشکلات میں دھکیلے رکھا جبکہ خواجہ رضی حیدر نے قائد اعظم کے ان افکار کا ذکر کیا جو تمام مذاہب اور فرقوں کے ماننے والوں کے لیے ایک وطن کی تعمیر و تشکیل کے لیے رہنمائی کرتے ہیں۔

نامہ نگار جعفر رضوی کے مطابق سیمینار سے جن دیگر دانشوروں اور مقررین نے خطاب کیا ان میں ڈاکٹر فرمان فتحپوری، بائیں بازو کے ممتاز سیاستداں معراج محمد، بی بی سی اردو سے منسلک صحافی محمد حنیف، سلیم صافی، مجاہد بریلوی اور خواجہ رضی حیدر بھی شامل ہیں۔

محمد حنیف نے کہا کہ ’جب انہیں اس سیمنیار میں شرکت کی دعوت ملی تو انہیں یاد آیا کہ قائد اعظم محمد علی جناح کو بیماری کی حالت میں بلوچستان کے علاقے زیارت سے ایک ایمبولینس میں ڈال کر کراچی لایا جارہا تھا اور تاریخ سے متعلق بعض حلقے شبہ ظاہر کرتے ہیں کہ انہیں ایک خراب ایمبولینس میں اسی لیے لایا جارہا تھا تاکہ وہ بروقت ہسپتال نہ پہنچ پائیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس ایمبولینس میں پیٹرول کم تھا لیکن انہیں یہ خیال بھی آیا کہ اگر آج قائد اعظم زندہ ہوتے اور بلوچستان کے کسی علاقے سے کراچی لائے جارہے ہوتے،تو انہیں بھی بس سے اتار کر شناختی کارڈ دیکھنے کے بعد قتل کیا جاسکتا تھا۔‘

محمد حنیف نے کہا کہ ’آج بھی شناخت کارڈ بنائے جاتے وقت ہر پاکستانی کو فارم بھرتے وقت ریاست کو یہ یقین دہانی کروانی پڑتی ہے کہ وہ قادیانی، احمدی یا ان کے کسی ذیلی فرقہ کا پیروکار نہیں ہے‘۔ محمد حنیف نے زور دیا کہ قائد اعظم نے ایسی کسی ریاست کا خواب نہیں دیکھا تھا۔

معراج محمد خان کا کہنا تھا کہ قائد اعظم نے ملاؤں اور کٹھ ملاؤں کے لیے پاکستان حاصل نہیں کیا تھا، نہ ہی سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کی بدعنوانی کے لیے بنایا تھا۔

“آج قائد اعظم کے پاکستان میں ایک ہزار روپے ارب کی بدعنوانی ہوتی ہے، اگر محض دو سو ارب روپے تعلیم کی مد میں خرچ ہوجائیں تو ہم بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے ممالک سے پیچھے نہ ہوں۔ پاکستان میں آج بھی امیر بچے کانونٹ جیسے اعلیٰ سکولوں اور غریب بچے پیلے سکول میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔”

معراج محمد خان

معراج محمد خان نے کہا کہ آج قائد اعظم کے پاکستان میں ایک ہزار روپے ارب کی بدعنوانی ہوتی ہے، اگر محض دو سو ارب روپے تعلیم کی مد میں خرچ ہوجائیں تو ہم بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے ممالک سے پیچھے نہ ہوں۔ پاکستان میں آج بھی امیر بچے کانونٹ جیسے اعلیٰ سکولوں اور غریب بچے پیلے سکول میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

سلیم صافی نے کہا کہ قائد اعظم نہ شیعہ تھے، نہ سنی، نہ پٹھان تھے نہ پنجابی۔ انہوں نے پشاور میں اسلامیہ کالج کی تعمیر کے لیے اپنی ذاتی رقم خرچ کی، پھر مزید جائیداد وقف کی جس سے کالج کو چلانے کے اخراجات برداشت کیے اور اس کالج میں خان عبدالغفار خان کے خانوادے کے بھی درجنوں طلباء فیض یاب ہوئے جو اس وقت پاکستان اور قیام پاکستان کا مخالف رہا تھا۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here