فوج کے سربراہ کو عدالت میں طلب کیا جانا چاہیے

Posted by on Jun 12, 2012 | Comments Off on فوج کے سربراہ کو عدالت میں طلب کیا جانا چاہیے

بلوچستان کی بگڑتی ہوئی صورت حال سے متعلق مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ اب فوج کے سربراہ اشفاق پرویز کیانی کو بلا کر پوچھا جائے کہ کیا ملک کو اس طرح چلانا ہے۔

 سپریم کورٹ نے آئی جی ایف سی میجر جنرل عبیداللہ خٹک کی طرف سے کی جانے لاپتہ افراد سے متعلق کی جانے والی پریس کانفرنس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک باورد جنرل کو پریس کانفرنس نہیں کرنی چاہیے تھی۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پیر کے روز بلوچستان میں امن وامان کی صورت حال سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی تو اٹارنی جنرل عرفان قادر نے صوبے سے لاپتہ ہونے والے افراد سے متعلق ایک رپورٹ عدالت میں پیش کی ۔ اس رپورٹ کے مطابق صوبے سے ایک سو تئیس افراد لاپتہ ہوئے ہیں جن میں سے اکثریت کا سراغ لگا لیا گیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی رجسٹری برانچ میں لاپتہ افراد سے متعلق 76 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔

ینچ میں موجود جسٹس جواد ایس خواجہ نے خفیہ ایجنسیوں اور سیکورٹی اداروں کے وکیل راجہ ارشاد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نہ تو ادارے اُن کے دشمن ہیں اور نہ ہی یہ ادارے سپریم کورٹ کے مخالف ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اس صوبے میں ٹارگٹ کلنگ کا ہر دوسرا کیس ایف سی کے کھاتے میں ڈالا جا رہا ہے۔ اُنہوں نے خفیہ ایجنسیوں کے وکیل کو مخاھطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگوں کا ٹرائیل کریں اُنہیں قتل نہ کریں۔

یاد رہے کہ ایف سی کے سربراہ نے چند روز قبل سپریم کورٹ میں بیان دیا تھا کہ شدت پسند اُن کے ادارے کا یونیفارم پہن کر کارروائیاں کرتے ہیں جبکہ بلوچستان پولیس کی جانب سے ایک ویڈیو فلم عدالت میں دیکھائی گئی تھی جس میں دیکھایا گیا تھا کہ ایف سی کے اہلکار تین افراد کو زبردستی گاڑی میں ڈال کر لیکر جار ہے تھے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ صوبے میں امن وامان قائم کرنے کے لیے ایک چھ رکنی کمیٹی قائم کردی گئی ہے جو حالات کا جائزہ لینے کے بعد اس کے سدباب کے لیے تجاویز بھی دیں گے۔

مقدمے کی سماعت کے دوران ایک اور موقع پر عدالت نے فرنٹیئر کور اور خفیہ اداروں سے کہا کہ وہ لوگوں کا ٹرائل کریں انھیں قتل نہ کریں۔

بلوچستان میں امن وامان اور ٹارگٹ کلنگ سے متعلق مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ جو افراد صوبے میں موجود فرنٹئیر کور کے خلاف شہادتیں دیتے ہیں تو چند روز کے بعد اُن کی لاشیں ملتی ہیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ صوبے کے حالات بہتر ہونے کی بجائے خراب سے خراب تر ہوتے جارہے ہیں اور گُزشتہ دو روز کے دوران تیس افراد کو قتل کردیا گیا اور ان وارداتوں میں ملوث افراد کو گرفتار بھی نہیں کیا گیا۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here