فوج سے مزید ڈاکٹروں کی درخواست، نئی بھرتیوں کا اعلان

Posted by on Jul 03, 2012 | Comments Off on فوج سے مزید ڈاکٹروں کی درخواست، نئی بھرتیوں کا اعلان

صوبہ پنجاب میں سروس سٹرکچر اور تنخواہوں کے معاملے پر ہڑتال کرنے والے نوجوان ڈاکٹروں کی گرفتاریوں کے بعد پنجاب کے ہسپتالوں میں اگرچہ فوجی ڈاکٹروں نے کام شروع کر دیا ہے تاہم مریضوں کی مشکلات کم ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہیں۔

حکومتِ پنجاب کی درخواست پر فوج کی جانب سے جن ڈیڑھ سو ڈاکٹروں کی خدمات فراہم کی گئی تھیں انہوں نے صوبے کے مختلف ہسپتالوں میں کام شروع کر دیا ہے۔

فوج کے ڈاکٹروں نے او پی ڈی میں مریضوں کا معائنہ کیا جبکہ ان کے ساتھ نئے بھرتی کیے گئے ڈاکٹر بھی موجود تھے تاہم پیر کو لاہور کے ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کی تعداد معمول سے کم رہی۔

 پنجاب حکومت نے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی پوری کرنے کے لیے فوج سے مزید ڈاکٹر بھیجنے کی بھی درخواست کی ہے جبکہ صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان کا کہنا ہے کہ مزید دو ہزار ڈاکٹر بھرتی کیے جا رہے ہیں۔

صوبائی دارالحکومت لاہور میں فوج کے ڈاکٹر پیر کی صبح آرمی کی بسوں کے ذریعے مختلف سرکاری ہسپتالوں میں پہنچے تو وہاں موجود لوگوں نے تالیاں بجا کر اُن کا استقبال کیا۔

“بہت زیادہ مریض ہیں۔ ان کے مقابلے میں اگر آپ ایک یا دو ڈاکٹر لا کر بیٹھا دیتے ہیں تو اس طرح تو عوام کا مسئلہ کبھی حل نہیں ہو گا۔ جب تک مستقل بنیادوں پر یہ معاملہ حل نہ کیا جائے۔”

راولپنڈی کے ایک مریض

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ہپستالوں میں ڈاکٹروں کے کام کے لیے وہ ماحول فراہم کر دیا گیا ہے کہ اب کوئی ڈاکٹروں کو کام کرنے سے نہیں روک سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ جو ڈاکٹر کسی خوف کی وجہ سے ڈیوٹی پر نہیں آرہے تھے اب ان کے لیے ڈیوٹی پر واپس آنے کا بہترین موقع ہے۔

اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے بینظیر بھٹو ہسپتال میں فوجی ڈاکٹروں کے ساتھ ساتھ قریبی اضلاع میں انتظامی عہدوں پر کام کرنے والے ڈاکٹروں اور راولپنڈی میڈیکل کالج کے پروفیسروں کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔

ادھر راولپنڈی میں ہڑتال میں حصہ نہ لینے والے وہ نوجوان ڈاکٹر جو اتوار کی رات تک ہسپتالوں میں کام کر رہے تھے، ینگ ڈاکٹرز ایسوی ایشن کے عہدیداران کی گرفتاریوں کے بعد پیر کو کام پر نہیں آئے۔

بینظیر بھٹو ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کا کہنا ہے کہ رات گئے ہونے والی گرفتاریوں کے بعد ڈیوٹی دینے والے ڈاکٹروں کو ایس ایم ایس پیغامات موصول ہوئے تھے اور وہ اسی وقت کام چھوڑ کر چلے گئے تھے۔

اس ہسپتال کے ڈاکٹر آصف قادر میر کا کہنا ہے کہ ان تعیناتیوں کے بعد او پی ڈی اور ایمرجنسی میں کام دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔

فوجی ڈاکٹروں کے ساتھ نئے بھرتی کیے گئے ڈاکٹروں کو بھی بلا لیا گیا

انہوں نے بتایا کہ ’گورنمنٹ آف پنجاب ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ سے جو چودہ منتخب لیڈی ڈاکٹر تھیں ان میں سے اسّی فیصد نے کام شروع کر دیا ہے۔حکومت نے ہماری ساتھی تنظیموں سے بیس بیس ڈاکٹر راولپنڈی کے تینوں ہسپتالوں کو دیے ہیں۔ پھر راولپنڈی، جہلم اور اٹک کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ ڈپارٹمنٹس سے بھی سترہ اٹھارہ ڈاکٹر آئے ہیں۔ تو ہمارے پاس باہر سے پینتالیس سے پچاس ڈاکٹر آئے ہیں اور ہماری او پی ڈی اور ایمرجنسی کے شعبے پوری طرح کام کر رہے ہیں‘۔

تاہم بینظیر بھٹو ہسپتال میں موجود مریضوں کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات کافی نہیں اور انہیں گھنٹوں انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔

ہسپتال میں موجود ایک مریض نے بتایا کہ ’بہت زیادہ مریض ہیں۔ ان کے مقابلے میں اگر آپ ایک یا دو ڈاکٹر لا کر بیٹھا دیتے ہیں تو اس طرح تو عوام کا مسئلہ کبھی حل نہیں ہو گا۔ جب تک مستقل بنیادوں پر یہ معاملہ حل نہ کیا جائے‘۔

مریضوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ جن فوجی ڈاکٹروں کو تعینات کیا گیا ہے ان پر کام کا بوجھ بہت زیادہ ہے اور مریضوں کو صحیح وقت نہیں دے پا رہے۔

“ہپستالوں میں ڈاکٹروں کے کام کے لیے وہ ماحول فراہم کر دیا گیا ہے کہ اب کوئی ڈاکٹروں کو کام کرنے سے نہیں روک سکے گا۔ جو ڈاکٹر کسی خوف کی وجہ سے ڈیوٹی پر نہیں آرہے تھے اب ان کے لیے ڈیوٹی پر واپس آنے کا بہترین موقع ہے۔”

رانا ثناء اللہ، صوبائی وزیرِ قانون

فوجی ڈاکٹروں کے بارے میں رائے دیتے ہوئے ایک مریض نے کہا کہ ’ڈاکٹر ہے ہی نہیں۔ آرمی کے ڈاکٹر ہیں جن کا دو بجے تک ڈیوٹی کا ٹائم ہے اور ان کو گرمی نے مار دیا اور وہ واپس چلے گئے ہیں‘۔

ادھر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے اہم رہنما ابھی روپوش ہیں جبکہ تنظیم سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر بھی ہڑتال سے لاتعلقی ظاہر کررہے ہیں۔

ڈاکٹروں کی گرفتاری کے بعد صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے حکومتِ پنجاب اور ہسپتال انتظامیہ نے ہنگامی اقدامات تو کر لیے ہیں لیکن ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہ مستقل حل دکھائی نہیں دیتا۔

لاہور کی ایک مقامی عدالت نے ان چار ڈاکٹروں کا چار دن کا جسمانی ریمانڈ دیا ہے جن کے خلاف اتوار کی رات ایک مریض بچے کے علاج سے غفلت برتنے کا الزام تھا۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here