فوجی کیمپ پر حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 8

Posted by on Jul 10, 2012 | Comments Off on فوجی کیمپ پر حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 8

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے علاقے گجرات میں سکیورٹی فورسز کے ایک کیمپ پر نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی تعداد آٹھ ہوگئی ہے۔

دریں اثناء کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے فوجی کیمپ پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کیمپ پر حملے میں ہلاکتوں کی تعداد آٹھ ہو گئی ہے جن میں سات فوجی اہلکار اور ایک پولیس اہلکار شامل ہیں۔

پیر کو گجرات میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر ایک حملے میں چھ فوجی اور ایک پولیس اہلکار ہلاک جبکہ پانچ فوجی زخمی ہو گئے تھے۔

گجرات کے ضلعی پولیس افسر بشارت احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ زخمی ہونے والے اہلکاروں میں سے ایک فوجی اہلکار بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

اس حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کا تعلق فوج کے ادارے ائر ڈیفنس سے ہے اور وہ گوجرانوالہ میں تعینات تھے۔

اس سے پہلے پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کے مطابق گجرات میں فوجی کیمپ پر حملے کی کارروائی جرائم پیشہ عناصر کی نہیں بلکہ شدت پسندوں کی دیکھائی دیتی ہے۔

گجرات میں خفیہ ایجنسیوں کے ذرائع نے  بتایا کہ جائے حادثہ سے جو شواہد ملے ہیں ان کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ کارروائی جرائم پیشہ عناصر کی نہیں بلکہ شدت پسند تنظیموں کی دکھائی دیتی ہے ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس واقعہ سے چند روز قبل بھی کچھ نامعلوم افراد نے موٹر سائیکل پر اس علاقے کی نگرانی کی تھی۔

یاد رہے کہ جب سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے کیمپ پر حملہ ہوا تو اُس وقت نیٹو فورسرز کے لیے سپلائی لائن کی بحالی کے حکومتی فیصلے کے خلاف دفاع پاکستان کونسل کا جلوس گجرات میں پڑاو ڈالے ہوئے تھا اور داخلہ امور کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر رحمان ملک کے مطابق اس کونسل میں کالعدم تنظیموں کے نمائندے بھی شامل ہیں۔

دفاع پاکستان کونسل

جب سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے کیمپ پر حملہ ہوا تو اُس وقت نیٹو فوسرز کے لیے سپلائی لائن کی بحالی کے حکومتی فیصلے کے خلاف دفاع پاکستان کونسل کا جلوس گجرات میں پڑاو ڈالے ہوئے تھا اور داخلہ امور کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر رحمان ملک کے مطابق اس کونسل میں کالعدم تنظیموں کے نمائندے بھی شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق حملے کے وقت ان سکیورٹی اہلکاروں کے پاس کوئی قابل ذکر اسلحہ موجود نہیں تھا اور انہوں نے گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے گجرات اور وزیر آباد کے درمیان دریائے چناب کے قریب ایک عارضی کیمپ قائم کیا ہوا تھا اور ان افراد کی ڈیوٹی میں یہ شامل تھا کہ وہ دریا کے پانی کے بہاؤ کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لیں تاکہ گمشدہ پائلٹ کی لاش کی تلاش میں مدد مل سکے۔

فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ حملہ دریائے چناب کے کنارے سکیورٹی فورسز کے ایک ریسکیو کیمپ پر کیا گیا۔ یہ کیمپ تئیس مئی کو پاک فوج کے ایک ہیلی کاپٹر کے گرنے کے بعد اس میں سوار لاپتہ پائلٹ کی تلاش کے لیے لگایا گیا تھا۔

لیفٹیننٹ ذیشان علی کی سربراہی میں عارضی کیمپ قائم کیا گیا تھا۔ حملے میں ہلاک ہونے والوں میں صوبیدار ساجد حسین، نائب صوبیدار غلام رسول، نائیک عبدالروف، آفتاب احمد، باسط علی، شاہد علی اور شیر علی شامل ہیں

ذرائع کے مطابق اس کیمپ میں پندرہ کے قریب سکیورٹی اہلکاروں موجود تھے اور جس وقت حملہ آورں کے سکیورٹی فوسرز کے اہلکاروں پر حملہ کیا تو اُن میں سے اکثریت آرام کر رہی تھی جبکہ باقی افراد ڈیوٹی پر مامور تھے۔

حملہ آوروں کی تلاش

اس واقعہ کے بعد سکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور حملہ آورں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنا شروع کر دیے ہیں تاہم قریب میں گھنے جنگل کی وجہ سے مشکلات درپیش ہیں۔

اس واقعہ کے بعد سکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور حملے میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنا شروع کر دیے ہیں تاہم قریب میں گھنے جنگل کی وجہ سے مشکلات درپیش ہیں اور اس کارروائی میں پولیس کی مدد نہ ہونے کے برابر لی جا رہی ہے۔

پولیس اہلکار کے بقول فائرنگ کی آواز سننے پر علاقے میں گشت پر تعینات ایک پولیس موبائل موقع پر پہنچی تو حملہ آوروں نے اس پر بھی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک پولیس کانسٹیبل ہلاک ہوگیا۔

مقامی پولیس کے مطابق ابھی تک اس واقعہ سے متعلق مقدمہ درج کرنے کے لیے متعلقہ حکام کی طرف سے کوئی درخواست موصول نہیں ہے۔

گجرات کے صدر تھانہ سے پولیس محرر ندیم عباس نے بتایا کہ پیر کو صبح پانچ بجے کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے فوجی اہلکاروں پر اندھا دھند فائرنگ کی جس سے چھ فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ حملے آوروں میں سے دو موٹر سائیکل پر جبکہ چارگاڑی پر سوار تھے۔

دریں اثناء کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان نے فوجی کیمپ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ حملہ تحریک طالبان پنجاب ونگ نے کیا۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here