فوجی امداد مشروط امریکہ

Posted by on Jun 24, 2011 | Comments Off on فوجی امداد مشروط امریکہ

امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا ہے کہ امریکہ اس وقت تک پاکستان کی فوجی امداد برقرار رکھنے پر تیار نہیں ہے جب تک پاکستان دہشت گردی کے خلاف ٹھوس اقدامات نہیں کرتا۔
انہوں نے یہ بات جمعرات کے روز سینیٹ کی ایک کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہی۔
وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کا بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر براک اوباما نے افغانستان کے حوالے سے نئی امریکی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئیکہا کہ امریکہ پاکستان سے شدت پسندی کے خاتمے کے لیے تعاون جاری رکھے گا اور حکومتِ پاکستان پر زور دے گا کہ وہ اس حوالے سے اپنے عزم کی پاسداری کرے۔
دوسری طرف پاکستان کے دفتر خارجہ نے افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی سے متعلق امریکی صدر باراک اوبامہ کی تقریر پر مختصر بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں امن اور استحکام اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کا اشتراک جاری ہے۔
ہیلری کلنٹن نے ان اقدامات کی نشاندہی نہیں کی جس کی وہ پاکستان سے توقع رکھتی ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وقت آ گیا ہے کہ امریکہ اور پاکستان اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے مفادات اور اقدامات میں مطابقت ہو۔
صدر اوباما کے بیان پر اپنے رِد عمل میں پاکستان نے کہا ہے کہ اگلے ہفتے کابل میں جب پاکستان، افغانستان اور امریکہ کے کور گروپ کا اجلاس ہوگا تو اس میں ان امور پر تفصیل سے بات کرنے کا موقع ملے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کے اس بیان سے لگتا ہے کہ وہ فوری طور پر امریکی صدر کی تقریر پر کوئی واضح ردعمل جاری نہیں کرنا چاہتا۔
اس سے پہلے امریکی صدر نے واضح الفاظ میں کہا کہ میں یہ واضح کردوں کہ جب تک میں صدر ہوں امریکہ شدت پسندوں کے لیے محفوظ پناہ گاہوں کو برداشت نہیں کرے گا۔ شدت پسند ہم سے چھپ نہیں سکتے اور نہ ہی بچ سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکی کوششوں میں پاکستان میں موجود شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو بھی شامل کرنا ہے۔ پاکستان کو شدت پسندوں سے سب سے زیادہ خطرہ ہے اور اسی لیے ہم پاکستان پر زور دیں گے کہ وہ اس خطے میں امن کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق صدر اوباما نے اپنی تقریر سے قبل صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کو فون کیا اور ان کو امریکہ کی افغانستان پالیسی پر اعتماد میں لیا۔
ہم افغان حکومت اور سکیورٹی فورسز کو مضبوط بنائیں گے اور امریکہ مصالحت کی کوششوں میں شامل ہو گا۔ لیکن ان مذاکرات کے حوالے سے امریکی موقف واضح ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ مذاکرات افغان حکومت کرے۔ اور جو ان مذاکرات کا حصہ بننا چاہتے ہیں وہ القاعدہ سے روابط ختم کرے۔صدر اوباماصدر اوباما نے اعلان کیا کہ اگلے ماہ سے امریکی فوج کا افغانستان سے انخلا شروع ہو جائے گا اور اگلے سال تک 33000 امریکی فوجیوں کی واپسی ہو جائے گی۔
امریکی صدر نے خطاب میں کہا کہ امریکی فوجیوں کی واپسی اگلے ماہ سے شروع ہو جائے گی اور رواں سال کے آخر تک دس ہزار امریکی فوجی واپس آجائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی فوج کا انخلا مرحلے وار جاری رہے گا۔ امریکی فوج کا مشن جنگی کارروائیوں میں حصہ لینے سے تبدیل ہو کر معاونت کا کردار رہ جائے گا۔ اور سال دو ہزار چودہ تک انخلا مکمل ہو جائے گا۔
یاد رہے کہ افغانستان میں تقریبا ایک لاکھ امریکی فوج تعینات ہے اور براک اوباما کہہ چکے ہیں کہ اس کا انخلا جولائی سے شروع ہو جائے گا۔
افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد، ان پر اٹھنے والے اخراجات اور آپریشن میں امریکیوں کی ہلاکتوں پر امریکی کانگریس اور ذرائع ابلاغ میں تنقید ہوتی رہی ہے۔
پچھلی دہائی میں جنگوں میں کھربوں ڈالر لاگت آئی۔ لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے لوگوں کی بھلائی پر رقم لگائیں۔ ہمیں نئی نوکریاں اور نئی صنعتیں بنانی ہوں گی۔ اب وقت ہے کہ ہم قومی ترقی پر توجہ دیں۔امریکی صدرامریکی فوج کے انخلا کے بارے میں براک اوباما کی جانب سے غور کیے جانے کی خبر ایسے وقت آئی ہے جب ایک روز پہلے ہی امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ، افغانستان میں موجود طالبان کے ارکان سے بات چیت کر رہا ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ امریکہ نے اِن رابطوں کا اعتراف کیا ہے۔
امریکی صدر براک اوباما نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں کہا کہ امریکہ جانتا ہے کہ اس جنگ زدہ ملک میں امن سیاسی حل کے بغیر نہیں آسکتا۔ ہم افغان حکومت اور سکیورٹی فورسز کو مضبوط بنائیں گے اور امریکہ مصالحت کی کوششوں میں شامل ہو گا۔ لیکن ان مذاکرات کے حوالے سے امریکی موقف واضح ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ مذاکرات افغان حکومت کرے۔ اور جو ان مذاکرات کا حصہ بننا چاہتے ہیں وہ القاعدہ سے روابط ختم کرے۔
امریکی معیشت کی بات کرتے ہوئے صدر اوباما نے کہا کہ پچھلی دہائی میں جنگوں میں کھربوں ڈالر لاگت آئی۔ لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے لوگوں کی بھلائی پر رقم لگائیں۔ ہمیں نئی نوکریاں اور نئی صنعتیں بنانی ہوں گی۔ اب وقت ہے کہ ہم قومی ترقی پر توجہ دیں۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here