عدلیہ کا رویہ نہیں بدلے گا

Posted by on Jun 21, 2012 | Comments Off on عدلیہ کا رویہ نہیں بدلے گا

پاکستان میں جمعہ کو نئے وزیراعظم کا انتخاب کیا جائےگا اور پانچ امیدواروں میں سے جو بھی نیا وزیراعظم منتحب ہو گا اسے نہ صرف بجلی کی لوڈشیڈنگ اور مہنگائی جیسے مسائل کا سامنا ہوگا بلکہ بیشتر قانونی چیلنجز بھی اس کا انتظار کر رہے ہیں۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی کا امیدوار کامیاب ہوتا ہے جس کے قوی امکانات ہیں تو ملک میں سیاسی بحران جاری رہے گا۔

 سابق وزیر قانون خالد رانجھا کا کہنا تھا کہ ’پارلیمان اور عدالت عظمیٰ کے درمیان تنازع کی فضا ہے جس کی وجہ سے پارلیمان کے لیے اپنے فرائض سرانجام دینا مشکل ہو گا‘۔

صدر زرداری پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ نیا وزیراعظم بھی بینظیر کی قبر کا ٹرائل نہیں ہونے دے گا یعنی صدر کے خلاف مقدمات کھولنے کے لیے سوئس حکام کو خط نہیں لکھے گا اور خط نہ لکھنے کی صورت میں یوسف رضا گیلانی کی طرح نئے وزیراعظم بھی’گھر‘ جائیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا ’عین ممکن ہے کہ آئندہ وزیراعظم بھی صدرِ پاکستان کے خلاف خط نہ لکھیں اور ان کے ساتھ بھی وہی سلوک ہو جو سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے ساتھ ہوا‘۔

سابق وزیر قانون ایس ایم ظفر کے مطابق ’چونکہ چھبیس اپریل سے یوسف رضا گیلانی کو نااہل قرار دیا گیا ہے اس لیے اس دوران کیے گئے تمام فیصلوں کو قانونی اور آئینی شکل دینا ،نئے وزیر اعظم کے لیے بڑا چیلنج ثابت ہوگا‘۔

“پاکستان کے آئین لکھنے والوں کو یہ ادراک ہی نہیں تھا کہ عدلیہ اس حد تک جا سکتی ہے کہ وہ کسی منتخب وزیراعظم کو نااہل قرار دے تاہم نئے وزیراعظم کے ساتھ عدلیہ کا رویہ نہیں بدلے گا۔”

خالد رانجھا

ایس ایم ظفر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’اگر وہ اپنے آپ کو باخبر وزیراعظم ثابت کرنا چاہتے ہیں تو انہیں خط لکھنا چاہیے اور اگر وہ عدالتی حکم کا انتظار کرتے ہیں تو پھر انہیں بھی عہدے سے سبکدوش ہونا پڑے گا‘۔

اس سلسلے میں خالد رانجھا کہتے ہیں ’پاکستان کے آئین لکھنے والوں کو یہ ادراک ہی نہیں تھا کہ عدلیہ اس حد تک جا سکتی ہے کہ وہ کسی منتخب وزیراعظم کو نااہل قرار دے تاہم نئے وزیراعظم کے ساتھ عدلیہ کا رویہ نہیں بدلے گا‘۔

ایس ایم ظفر نے کہا کہ ’نئے وزیر اعظم کو مسٹر گیلانی جتنا وقت نہیں ملے گا بلکہ ان کے مقدمہ اگر عدالت میں آتا ہے تو وہ بہت جلدی نمٹا دیا جائے گا‘۔

حکمران جماعت پیپلزپارٹی کا موقف ہے کہ ان کی جماعت کا کوئی بھی رکن صدر پاکستان کے خلاف خط نہیں لکھے گا تو پھر سوال یہی ہے کہ ان کے نئے وزیر اعظم کو کتنے دن کے لیے وزارت سنبھالنے دی جائے گی؟

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here