عدلیہ، اپوزیشن اور میڈیا کےلیے ’سافٹ ٹارگٹ

Posted by on Jun 23, 2012 | Comments Off on عدلیہ، اپوزیشن اور میڈیا کےلیے ’سافٹ ٹارگٹ

پاکستان کے نئے وزیراعظم کے انتخاب میں اڑتیس اراکین قومی اسمبلی نے مختلف وجوہات کی بنا پر ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ راجہ پرویز اشرف کے قائد ایوان منتخب ہونے کا جیسے ہی سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا نے اعلان کیا تو گیلریوں سے ’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘ کے نعرے شروع ہوگئے۔

مقررہ وقت سے تقریباً ایک گھنٹہ تاخیر سے جب اجلاس شروع ہوا اور سپیکر نے نئے قائد ایوان کے انتخاب کا عمل شروع کیا تو مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ فوزیہ وہاب سمیت بعض اراکین کی وفات کی وجہ سے روایت کے مطابق اجلاس کی کارروائی ملتوی کی جائے۔

سید نوید قمر نے کہا کہ وہ معمول کے اجلاس میں ہوتا ہے یہ بدقسمتی سے مخصوص مقصد کے لیے اجلاس بلایا گیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) نے باقی کوئی احتجاج نہیں کیا اور خلاف توقع خاموش رہے۔ جبکہ مولانا فضل الرحمٰن نے وضاحت کی کہ انہوں نے مختلف اداروں میں تناؤ کی کیفیت ختم کرنے کی خاطر خود کو متفقہ امیدوار کے لیے پیش کیا لیکن وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوئے اس لیے وہ دستبردار ہوئے اور فیصلہ کیا ہے کہ وہ ایوان میں موجود ہوتے ہوئے بھی کسی کو ووٹ نہیں دیں گے۔ اس طرح ان کی جماعت کے آٹھ، فاٹا اور بلوچستان کے مولوی عصمت اللہ نے بھی ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

اجلاس میں فاتحہ بھی نہیں کرائی گئی اور جب سپیکر نے کارروائی شروع کی تو مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے بھائی کے ذریعے سپیکر کو چٹ بھیجی۔ سپیکر خاموش ہوگئیں اور سب کی نظریں ان پر تھیں کہ انہوں نے چٹ پڑھی اور بتایا کہ مولانا فضل الرحمٰن وزارت عظمیٰ کے امیدوار سے دستبردار ہوگئے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ دیگر امیدوار بھی دستبردار ہوچکے ہیں اب مقابلہ پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف اور مسلم لیگ (ن) کے مہتاب عباسی کے درمیاں ہوگا۔ اس دوران مسلم لیگ (ن) کے کسی رکن نے آواز لگائی ’راجہ رینٹل‘۔

جب ووٹنگ شروع ہوئی تو آفتاب شیرپاؤ نے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کو ووٹ دیا۔ مسلم لیگ (ن) کے کل بانوے اراکین ہیں جس میں سے چار اراکین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ جس میں خواجہ آصف، انوشہ رحمٰن اور راجہ صفدر ملک سے باہر ہیں اور سردار مشتاق قیادت سے ناراض ہیں۔

ہری پور سے منتخب سردار مشتاق مسلم لیگی قیادت سے ناراض ہیں کیونکہ جب سے گوہر ایوب کو میاں نواز شریف واپس لائے ہیں تو وہ ناراض ہیں اور ان کے بھائی اور خاندان کے دیگر لوگ پیپلز پارٹی میں شامل ہوچکے ہیں۔

مسلم لیگ نواز کے اراکین

مسلم لیگ (ن) کے کل بانوے اراکین ہیں جس میں سے چار اراکین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ جس میں خواجہ آصف، انوشہ رحمٰن اور راجہ صفدر ملک سے باہر ہیں اور سردار مشتاق قیادت سے ناراض ہیں۔ ہری پور سے منتخب سردار مشتاق مسلم لیگی قیادت سے ناراض ہیں کیونکہ جب سے گوہر ایوب کو میاں نواز شریف واپس لائے ہیں تو وہ ناراض ہیں اور ان کے بھائی اور خاندان کے دیگر لوگ پیپلز پارٹی میں شامل ہوچکے ہیں۔

مسلم لیگ (ق) کے فیصل صالح حیات جنہوں نے راجہ پرویز اشرف پر کرائے کے بجلی گھروں میں کروڑوں کی کرپشن کے الزام لگائے تھے، انہوں نے راجہ کو ووٹ نہ دینے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن چوہدری شجاعت انہیں منا کر ایوان میں لائے اور ووٹ دلوایا۔

پاکستان پیپلز پارٹی اور ان کی اتحادی جماعتوں کے اٹھارہ اراکین بھی وزیراعظم کے انتخاب کے موقع پر غیر حاضر رہے۔ فرحت اللہ بابر کے بقول دو اراکین ملک سے باہر تھے باقی سولہ اراکین کی غیر حاضری واضح نہیں۔ تین سو بیالیس اراکین پر مشتمل قومی اسمبلی میں چار نشستیں خالی ہیں۔ باقی ماندہ تین سو اڑتیس اراکین میں سے صرف تین سو نے ووٹ کاسٹ کیا۔ راجہ پرویز اشرف کو دو سو گیارہ اور مہتاب عباسی کو نواسی ووٹ ملے۔

مسلم لیگ (ق) کے چھ اراکین جس میں کشمالہ طارق، ہمایوں سیف اللہ، ارباب ذکاء اللہ، غلام حیدر سمیجو اور کشن چند پروانی بھی شامل ہیں وہ مسلم لیگ (ن) سے مل چکے ہیں اس لیے ووٹ دینے نہیں آئے۔ آئین کے مطابق پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینے والا رکن نااہل ہوسکتا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کو آفتاب شیرپاؤ کے علاوہ کسی اور نے ووٹ نہیں دیا اور یوں صدر آصف علی زرداری انہیں سیاسی طور پر ایک لحاظ سے تنہا رکھنے میں تاحال کامیاب رہے۔ لیکن راجہ پرویز اشرف کی صورت میں انہوں نے عدلیہ، اپوزیشن اور میڈیا کو ایک ’سافٹ ٹارگٹ‘ فراہم کیا ہے جس پر تنقید کے تیر تیزی سے برس سکتے ہیں۔

اس کی اہم وجہ پیپلز پارٹی کی ناکام سیاسی حکمت عملی بتائی جا رہی ہے۔ انہوں نے اپنے طور پر مخدوم شہاب الدین کو حتمی امیدوار قراردیا تھا، راجہ پرویز اشرف اور قمر زمان کائرہ ان کے کورنگ امیدوار تھے۔ لیکن ان کا کھیل اس وقت خراب ہوا جب اقتدار کے اہم کھلاڑیوں نے کاغذات نامزدگی داخل ہونے کے بعد مخدوم کو متنازعہ بنایا اور ان کے گرفتاری وارنٹ جاری کروائے۔

بعد میں چوہدری صاحبان کے ذریعے انہیں امیدوار تبدیل کرنے کا صدرِ پاکستان کو پیغام بھجوایا۔ قمر زمان کائرہ کو چاہتے ہوئے بھی صدر امیدوار نامزد نہیں کرسکے کیونکہ اس پر ایک تو چودھریوں کو تحفظات تھے دوسرا پنجاب میں پیپلز پارٹی کے سینئر لوگ بھی ناراض ہوسکتے تھے اور یہ صدر صاحب اس موقع پر افورڈ نہیں کرسکتے تھے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here