عدالت عظمٰی: نئے وزیرِ اعظم سے جواب طلبی

Posted by on Jun 28, 2012 | Comments Off on عدالت عظمٰی: نئے وزیرِ اعظم سے جواب طلبی

 

پاکستان کی سپریم کورٹ نے صدر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات کی بحالی کے لیے سوئس حکام کو خط لکھنے کے حوالے سے نئے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف سے جواب طلب کیا ہے۔

سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود سوئس حکام کو خط لکھنے سے مسلسل انکار کرنے پر عدالت عظمٰی نے حال ہی میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو عدلیہ کے احکامات کی حکم عدولی کے جرم میں توہین عدالت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ان کو بطور رکن پارلیمان نا اہل قرار دے دیا تھا۔

جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اٹارنی جنرل عرفان قادر کو ہدایت کی کہ وہ (سوئس حکام کو خط لکھنے) سے متعلق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف سے پوچھ کر ان کے موقف سے عدالت کو آگاہ کریں۔ جس سے عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان ایک نئی محاذ آرائی کا بظاہر آغاز ہو گیا ہے۔

مقدمے کی آئندہ سماعت اب 12 جولائی کو ہوگی۔

متنازع قومی مصالحتی آرڈیننس ’این آر او‘ کو کالعدم قرار دینے کے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ سابق وزیر اعظم کو ’’سوئس حکام‘‘ کو خط نا لکھنے پر سزا ہو چکی ہے اور توقع ہے کہ نئے وزیر اعظم سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کریں گے۔

 

وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف

معزول وزیر اعظم گیلانی نے عدالت کی حکم عدولی کا دفاع کرتے ہوئے یہ موقف اپنائے رکھا کہ ملک کا آئین انھیں صدر کے خلاف فوجداری مقدمات بحالی کی اجازت نہیں دیتا اور نئے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے بھی حالیہ دنوں میں اپنے پیش رو کے اس موقف کی تائید کی ہے۔

سپریم کورٹ نے دسمبر 2009ء میں قومی مصالحتی آرڈیننس یا این آر او کو کالعدم قرار دینے کے بعد اس متنازع قانون کے تحت ہزاروں افراد بشمول آصف علی زرداری کے خلاف اندرون و بیرون ملک ختم کیے گئے بدعنوانی کے مقدمات کی بحالی کا حکم دیا تھا۔ لیکن اس پر مکمل طور پر عمل درآمد میں تاخیر کا نوٹس لیتے ہوئے رواں سال سپریم کورٹ نے ایک تین رکنی بینچ تشکیل دیا جو ’این آر او‘ کے خلاف عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کی نگرانی کر رہا ہے۔

وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے بدھ کو اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایک بار پھر یہ عندیہ دیا ہے کہ حکومت خلاف آئین کچھ نہیں کرے گی۔

اُدھر لاہور ہائی کورٹ نے صدر زرداری کے بیک وقت دو عہدوں کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت مکمل کرنے کے بعد صدر مملکت کو پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کا عہدہ چھوڑنے کے لیے پانچ ستمبر تک کی مہلت دی ہے۔

’’اس کے اوپر ہمارے موقف کی پہلے ہی وزیر اعظم صاحب نے وضاحت کر دی ہے کہ ہم آئین اور قانون کے پابند ہیں۔ انشا اللہ جو آئین و قانون کے مطابق ہو گا وہ کریں گے۔‘‘

 

صدر آصف علی زرداری جو حکمران پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بھی ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ نے گزشتہ سال اپنے ایک فیصلے اس توقع کا اظہار کیا تھا کہ صدر آصف علی زرداری بطور سربراہ مملکت ایوان صدر میں سیاسی سرگرمیاں ترک کر دیں گے۔

 

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینج نے بدھ کو اپنے فیصلے میں کہا کہ صدر مملکت کا عہدہ اس امر کا متقاضی ہے کہ وہ اپنے فرائض سیاسی وابستگی سے بالا تر ہو کر انجام دیں۔

وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے اس بارے پر اپنے فوری ردعمل میں کہا کہ ہے اس معاملے پر ان کی جماعت آئین و قانون کے مطابق اپنا جواب ضرور دے گی۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here