عدالت دائرۂ اختیار سے تجاوز کر رہی ہے

Posted by on Jun 19, 2012 | Comments Off on عدالت دائرۂ اختیار سے تجاوز کر رہی ہے

وزیراعظم کی حمایت میں قومی اسمبلی کی سپیکر کی رولنگ سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل عرفان قادر کا کہنا ہے کہ عدالت اس معاملے میں اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز کر رہی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ عدالت کو کس بات کی جلدی ہے کہ وزیراعظم کے مقدمے کو دیگر زیرِ التوا مقدمات پر فوقیت دی جا رہی ہے۔

 اٹارنی جنرل کا کا کہنا تھا کہ ملک میں توہین عدالت کا کوئی قانون موجود نہیں ہے اس لیے سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ کی طرف سے یوسف رضا گیلانی کو ایسے قانون کے تحت سزا دی گئی جو ملک میں رائج ہی نہیں ہے۔

 سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ درخواست گُزاروں کے مطابق یوسف رضا گیلانی توہین عدالت ک مقدمے میں سزا یافتہ ہیں اس لیے اُنہیں اٹھارہ کروڑ عوام کی نمائندگی کا کوئی حق نہیں ہے۔

اس سے پہلے وزیر اعظم کے وکیل چوہدری اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ عدلیہ کو سپیکر کی رولنگ کے خلاف درخواستوں کی سماعت کا دائرہ اختیار نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ سپیکر کی رولنگ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔

اُنہوں نے کہا کہ اُن کے موکل پر عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے کا الزام تھا جبکہ اُنہیں سزا عدلیہ کی تضحیک کرنے پر دی گئی۔ اُنہوں نے کہا کہ چارج شیٹ میں عدلیہ کو سکینڈ لائزڈ کرنے کا کوئی الزام نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے اعتزاز احسن سے استفسار کیا کہ اُنہیں یہ تمام باتیں اس فیصلے کے خلاف درخواست میں کرنی چاہیے تھے جو اُن کے موکل نے دائر نہیں کی۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے پاس کسی بھی منتخب عوامی نمائندے کو نااہل کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ عرفان قادر کا کہنا تھا کہ ملک کی کوئی بھی عدالت وزیراعظم پر اپنی مرضی نہیں چلا سکتی۔

اُنہوں نے اپنے اس موقف میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ساتھ پولیس اہلکاروں کی بدسلوکی سے متعلق توہین عدالت کا مقدمہ ابھی تک التواء کا شکار ہے اور سپریم کورٹ کے سولہ ججز اس بات پر پرشان ہیں کہ کس قانون کے تحت ذمہ داروں کو سزا دی جائے۔

اُنہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو توہین عدالت کے مقدمے میں عدالتی حکم نہ ماننے پر سزا دی گئی جبکہ فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ اُنہوں نے عدلیہ کے فیصلے کی تضحیک کی ہے

عدالت کو کس بات کی جلدی ہے کہ وزیراعظم کے مقدمے کو دیگر زیرِ التوا مقدمات پر فوقیت دی جا رہی ہے۔”

عرفان قادر

عرفان قادر کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کی سپیکر کی رولنگ کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا اس لیے ان درخواستوں کو مسترد کردیا جائے۔

اس پر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ یہ ملزم کا استحقاق ہے اور شاید ملزم کو یہ خطرہ ہو کہ جو چیز سات رکنی ججز کے فیصلے میں مبہم ہے وہ کہیں نظر ثانی کی اپیل میں واضح نہ ہو جائے۔ ان درخواستوں کی سماعت منگل کے روز تک کے لیے ملتوی کرد ی گئی۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here