عدالتی فیصلے سے مطمئن نہیں: عاصمہ جہانگیر

Posted by on Jun 19, 2012 | Comments Off on عدالتی فیصلے سے مطمئن نہیں: عاصمہ جہانگیر

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر نےکہا ہے کہ وہ عدالتی فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں تاہم پارلیمان اور حکومتی جماعت کو فیصلہ تسلیم کرنا چاہیے۔

لاہور میں بی بی سی کے نامہ نگار عباد الحق سے بات کرتے ہوئے عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ حکمران جماعت پیپلز پارٹی عدالتی فیصلے کو تسلیم کرے اور نیا وزیر اعظم چنے۔

عاصمہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ جب سے عدلیہ بحال ہوئی ہے اس نے اداروں کو بار بار دھچکا لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی لیکن بقول ان کے حکومت کی بقاء اسی میں ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کو تسلیم کرتی رہے۔

سپریم کورٹ بار کی سابق صدر نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اگر عدالتی فیصلوں کو تسلیم نہیں کیا جاتا تو اس سے تصادم کی صورت حال پیدا ہوگی جس سے ’سوفٹ کو‘ ہونے کا خطرہ ہے۔

ان کے بقول چیف جسٹس پاکستان کے بیٹے ارسلان افتخار کا معاملہ ایک سازش کا حصہ لگتا ہے کیونکہ سپریم کورٹ نے بڑی تیزی سے جمہوری نظام کی بساط لپٹنے کا آغاز کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلہ جمہوریت کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے کیونکہ جب عدلیہ ہی آمر ہو جائے تو حالات آمریت سے زیادہ بدتر ہو جاتے ہیں۔

عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ آمریت سے ڈر نہیں لگتا لیکن جب قانون کے سہارے آمریت آئے تو اس سے خوف آتا ہے۔

سپریم کورٹ بار کی سابق صدر نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ عدلیہ، پارلیمان اور اپوزیشن ایک دوسرے کو کمزور کرنے کے لیے خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہے ہیں۔

ایک سوال پر عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ ’جمہوریت خطرے میں ہے‘ کہ عنوان سے شائع ہونے والے کالم میں انہوں نے جو بات کی ہے اس کی ایک کڑی آج سب نے دیکھ لی ہے۔

عاصمہ جہانگیر نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ لگتا ہے کہ انتخابات نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب وہ زمانہ نہیں رہا جب کھلم کھلا مارشل لاء لگادیا جائے۔ لیکن ایک سویلین چہرے کے پیچھے فوجی بیٹھے ہوتے ہیں اور اس کی اب بدبو آنی شروع ہوگئی ہے۔

ان کے بقول عدالتی فیصلے کے باوجود پارلیمان اس کو تسلیم کرے اور نیا وزیر اعظم لائے تاکہ کل کو کوئی یہ بات نہ لکھ سکے کہ سیاست دانوں کی وجہ سے جہموریت پٹڑی سے اتری ہے۔

عاصمہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ ’جہاں سے جمہوریت کے پٹڑی سے اترنے کا آغاز ہوا ہے وہیں الزام بھی جانا چاہیے۔‘

ایک سوال پر وکیل رہنما عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ بار ایسوسی ایشنز ’سوفٹ کو‘ کے خلاف ضروری کوشش کریں تاہم وکلا تنظیموں میں دھڑے بندی موجود ہے۔

ان کےبقول وکلا کے ایک بڑے گروپ کے رہنما نے تحریک انصاف کی طرف سے مقدمے کی پیروی کی اور عدالتی فیصلے کے بعد چیف تیرے جان نثار کے نعرے بھی لگے۔

سپریم کورٹ بار کی سابق رہنما نے کہا کہ وکلا رہنما ایک غیر جانبدار موقف اختیار کریں اور یہ اندیشہ ہے کہ ایسے رہنماؤں کو کچھ دیر کے بعد پیچھے دھکیل دیا جائے۔

عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ معاملات خراب سے خراب ہوتے جارہے ہیں اور بقول ان کے عدلیہ ایکسپوز ہوئی ہے، لیکن اس نے یہ فیصلہ کیا کہ جس راستے پر وہ چلے ہیں اسی راستے پر چلنا چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ سیکنڈل کے آنے کے بعد کچھ مجبوری بھی ہے کیونکہ اسٹیبلشمنٹ پہلے ٹریلر دکھاتی ہے اور بعد میں فلم چلائی جاتی ہے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here