طنزیہ ویڈیوز ہٹانے کی درخواست مسترد

Posted by on Jun 19, 2012 | Comments Off on طنزیہ ویڈیوز ہٹانے کی درخواست مسترد

گوگل کی ٹرانسپیرنسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے کمپنی سے یو ٹیوب سے پاکستانی سیاست دانوں    اور فوج کے بارے میں طنزیہ ویڈیوز ہٹانے کو کہا تھا۔

تاہم گوگل نے حکومتِ پاکستان کی اس درخواست کو رد کردیا تھا۔

گوگل کی تازہ ترین ٹرانسپیرنسی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی وزارت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے گوگل سے درخواست کی تھی کہ چھ ایسی ویڈیوز ہٹائی جائیں جن میں پاکستانی سیاست دانوں اور فوج کو طنز کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

گوگل نے پاکستان کے علاوہ ہسپانوی حکومت کی بھی دو سو ستر ایسے ’سرچ‘ نتائج کو ہٹانے کی درخواست رد کر دی تھی جو صارفین کو شہروں کے میئر حضرات اور سرکاری وکلاء سمیت عوامی شخصیات کے بارے میں لکھے گئے بلاگز اور مضامین پر لے جاتے تھے۔

اس کے علاوہ کینیڈین پاسپورٹ آفس کی درخواست بھی مسترد کی گئی جس میں اس ویڈیو کو اس لیے ہٹانے کے لیے کہا گیا تھا جس میں ایک شخص پاسپورٹ پر پیشاب کر کے اسے کموڈ میں بہا دیتا ہے۔

گوگل کے سینیئر پالیسی تجزیہ کار ڈورتھی چو کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی کو سیاسی آراء کے سلسلے میں موصول ہونے والی درخواستوں کی تعداد پر تشویش ہے۔

“یہ صرف اس لیے خطرے کی گھنٹی نہیں کہ آزادی اظہار خطرے میں ہے بلکہ اس لیے بھی ان میں سے کچھ درخواستیں ایسے ممالک سے آئی ہیں جن پر آپ شک بھی نہیں کرتے یعنی ایسی مغربی جمہوریتیں جہاں عموماً سنسر شپ کی بات نہیں ہوتی۔”

ڈورتھی چو، گوگل

 

 

اس رپورٹ میں گوگل نے یہ بھی بتایا ہے کہ اس نے برطانوی پولیس ایسوسی ایشن کی درخواست پر یو ٹیوب سے 6 سو چالیس ایسی ویڈیوز ہٹا دی ہیں جو مبینہ طور پر دہشت گردی کو فروغ دیتی تھیں۔

یہ ویڈیوز سنہ دو ہزار گیارہ میں ہٹائی گئی تھیں اور گوگل کا کہنا ہے کہ برطانوی چیف پولیس آفیسرز کی ایسوسی ایشن کی درخواست پر گوگل نے پانچ ایسے اکاؤنٹ بھی بند کردیے جن کا تعلق ان مشتبہ ویڈیوز سے تھا۔

گوگل کے بقول اس کو جولائی سنہ دو ہزار گیارہ سے دسمبر تک 461 عدالتی حکام موصول ہوئے جن کا تعلق 6989 ویڈیوز سے تھا۔گوگل کے مطابق ان میں سے 68 فیصد احکامات کی تعمیل کی گئی۔

کمپنی کے مطابق ان احکامات کے علاوہ ان کو 546 غیر رسمی درخواستیں بھی موصول ہوئیں جن میں سے 43 فیصد کو مانا گیا۔

ان کے مطابق ’یہ صرف اس لیے خطرے کی گھنٹی نہیں کہ آزادی اظہار خطرے میں ہے بلکہ اس لیے بھی ان میں سے کچھ درخواستیں ایسے ممالک سے آئی ہیں جن پر آپ شک بھی نہیں کرتے یعنی ایسی مغربی جمہوریتیں جہاں عموماً سنسر شپ کی بات نہیں ہوتی‘۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here