طالبان قیادت کہاں؟

Posted by on May 31, 2011 | Comments Off on طالبان قیادت کہاں؟

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے پاکستان میں شدت پسندی کی مختلف کارروائیاں کرنے کا دعوی تو کیا ہے تاہم تنظیم کے قائدین اب میڈیا سے رابطہ نہیں کر رہے ہیں۔

تحریک طالبان کی قیادت کی اس حکمت عملی کے کئی وجوہات ہو سکتے ہیں۔

اس وقت پاکستان کے قبائلی علاقوں میں طالبان شدت پسندوں کے تین بڑے گروہ موجود ہیں جن میں تحریک طالبان پاکستان، حافظ گل بہادر اور ملا نذیر گروپ کے طالبان شامل ہیں۔

اس کے علاوہ علاقے میں جلال الدین حقانی، پنجابی طالبان اور القاعدہ کے جنگجو بھی بتائے جاتے ہیں۔

صرف تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کا ہی میڈیا سے رابط منقطع نہیں ہوا ہے بلکہ تحریک کے مرکزی ترجمان اعظم طارق بھی منظر سے غائب ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے نائب ترجمان احسان اللہ احسان بھی اب بیان نہیں دیتے ہیں بلکہ پاکستان میں حالیہ دنوں میں ہونے والے شدت پسندی کے واقعات کی ذمہ داری کوئی دوسرا شخص احسان اللہ احسان کے نام سے قبول کرتا ہے۔

حافظ گل بہادر، ملا نذیر اور جلال الدین حقانی گروپ کے طالبان کی طرف سے اسامہ بن لادن کے ہلاکت پر افسوس اور مذمتی بیان تو سامنے آئے تھے لیکن انہوں نے تحریک طالبان پاکستان کی طرح بدلہ لینے کا اعلان نہیں کیا تھا۔

حافظ گل بہادر اور ملا نذیر گروپ کے اپنے علیحدہ علیحدہ ترجمان ہیں جبکہ تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان اور نائب ترجمان کے علاوہ ہر علاقے میں ایک مقامی ترجمان بھی ہوتا ہے۔

حافظ گل بہادر اور ملا نذیر گروپ کے طالبان پاکستان میں کوئی کارروائی نہیں کرتے ہیں تاہم تحریک طالبان پاکستان نے پاکستان کے خلاف ہی کارروائیاں کرنے کا اعلان کر رکھا ہے اور شدت پسندی کے تقریبا ہر ایک واقعہ کی ذمہ داری بھی قبول کرتے چلے آ رہے ہیں۔

لیکن اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے اعلان کے بعد سے تحریک طالبان پاکستان کے قائدین نے بہت احتیاط شروع کر دی ہے۔

افغان طالبان کمانڈر جلال الدین حقانی

صرف تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کا ہی میڈیا سے رابطہ منقطع نہیں ہوا ہے بلکہ تحریک کے مرکزی ترجمان اعظم طارق بھی منظر سے غائب ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے نائب ترجمان احسان اللہ احسان بھی اب بیان نہیں دیتے ہیں بلکہ پاکستان میں حالیہ دنوں میں ہونے والے شدت پسندی کے واقعات کی ذمہ داری کوئی دوسرا شخص احسان اللہ احسان کے نام سے قبول کرتا ہے۔

ضلع ہنگو میں جمعہ کو ہونے والے خودکش حملے کی ذمہ داری درہ آدم خیل میں طالبان شدت پسند کے ایک جنگجو نے احسان اللہ احسان کے نام سے قبول کی تھی۔ اسی طرح سنیچر کو دو مختلف واقعات کی ذمہ داری دو مختلف افراد نے بی بی سی کو ٹیلیفون کر کے احسان اللہ احسان کی طرف سے قبول کی۔

سنچیر کو ایک واقعہ سوات میں ہوا تھا جس میں عوامی نیشنل پارٹی کے مقامی صدر مظفر علی ہلاک ہوئے تھے اور دوسرا واقعہ باجوڑ ایجنسی میں ہوا تھا جس میں ایک قبائلی سردار سیمت پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

باجوڑ ایجنسی سے فقیر محمد کے ایک کمانڈر نے باجوڑ واقعہ کی ذمہ داری احسان اللہ احسان کے نام سے قبول کی۔

ایک سوال کے جواب میں کمانڈر نے بتایا کہ احسان اللہ احسان کسی پہاڑی علاقے میں چلے گئے ہیں اور ان کا رابط آپ لوگوں سے ممکن نہیں ہے۔

اس تمام صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو ایک مبہم سی صورتحال نظر آتی ہے جو کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ تحریک کے اصل ترجمان کی جگہ پر کسی اور کا ان کے نام سے مختلف واقعات کی ذمہ داری قبول کرنا تحریک کی جانب سے کوئی نئی منصوبہ بندی ہو سکتی ہے اور دوسری صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ذرائع ابلاغ میں مسلسل رہنے کے بعد اصل ترجمان اب حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے روپوش ہو گئے ہیں۔

اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد جیسے ہی تحریک کے بعض رہنماوں کی جانب سے دھمکیاں بڑھ گئی ہیں ویسے ہی سکیورٹی فورسز نے بھی ان کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز نے بنوں سے میرانشاہ جانے والی مرکزی شاہراہ کے اوپر سے کئی چیک پوسٹوں کو خالی کر دیا ہے

دوسری جانب اسامہ بن لادن کے ہلاکت کے بعد امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کے پاکستان کے پہلے دورے کے بعد شمالی وزیرستان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز نے بنوں سے میرانشاہ جانے والی مرکزی شاہراہ کے اوپر سے کئی چیک پوسٹوں کو خالی کر دیا ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق چوکیاں خالی کرنے کی وجہ سے خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کی تیاریوں کا حصہ ہے تاہم ابھی تک سرکاری طور پر شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائیاں شروع کرنے کے حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

مقامی میڈیا پر چلنے والی خبروں کے مطابق شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی افغان طالبان کمانڈر جلال الدین حقانی اور تحریک طالبان پاکستان کے خلاف ہوگی۔

اب اگر دیکھا جائے تو تحریک طالبان پاکستان کے جنگجووں صرف شمالی وزیرستان میں نہیں بلکہ تمام قبائلی علاقوں میں موجود ہیں۔

اگر سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان میں جلال الدین حقانی اور تحریک طالبان کے خلاف کارروائی شروع کی تو حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان بھی متاثر ہونگے کیونکہ شمالی وزیرستان میں تحریک طالبان کے نسبت حافظ گل بہادر گروپ زیادہ مضبوط ہے اور اس گروپ میں شامل لوگ بھی زیادہ تر مقامی آبادی کے لوگ بتائے جاتے ہیں۔

مبصرین کے خیال میں تحریک طالبان پاکستان کے جنگجو شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن شروع ہوتے ہی وہاں سے نکل جائیں گے کیونکہ تحریک طالبان پاکستان میں شامل زیادہ تر جنگجووں کا تعلق جنوبی وزیرستان کے محسود قبائل سے ہے۔

یہ لوگ جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے بعد سے صرف شمالی وزیرستان میں ہی نہیں بلکہ تمام قبائلی علاقوں میں تقسیم ہوگئے ہیں۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here