ضابطۂ اخلاق مفادات و ترجیحات کا شکار

Posted by on Jun 16, 2012 | Comments Off on ضابطۂ اخلاق مفادات و ترجیحات کا شکار

پاکستان میں میڈیا کی صنعت میں وسیع پیمانے پر توسیع تو ہوئی ہے لیکن اس کے ضابطۂ اخلاق پر نہ تو آج تک اتفاق ہوسکا اور نہ ہی اس پر عملدرآمد کا کوئی نظام بن سکا۔

بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ جب تک غلط معلومات دینے کے خلاف سول سوسائٹی اور عام لوگ متعلقہ ادارے اور افراد کے خلاف آواز نہیں اٹھائیں گے تب تک مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنےکی شرط پر کہا کہ تاحال متفقہ ضابطہ اخلاق نہ آنے اور اس پر عملدرآمد نہ ہونے کا ذمہ داری گزشتہ اور موجودہ حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ ان کے بقول حکومت نے ٹی وی لائسنس پہلے دیے اور قوانین بعد میں بنائے، جو کہ ایسا ہے کہ کسی کو بندوق پہلے دے دیں اور لائسنس بعد میں۔

شفقت عباسی کہتے ہیں کہ پریس کونسل کے ضابطہ اخلاق کے مطابق صحافیوں کو پیسے دینے یا پیسے لے کر کوئی پروگرام کرنے پر پابندی ہے اور اس کی سزا بھی ہے۔ لیکن ان کے بقول اگر کسی کے خلاف کارروائی کی جائے تو وہ اظہار رائے کی آزادی کا شور مچاتا ہے۔

لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی میں حکومتیں میڈیا کا بازو مروڑنے کے لیے ضابطۂ اخلاق متعارف کرنے کی کوششیں کرتی رہی ہیں وہاں ذرائع ابلاغ کے مالکان اپنے کاروباری مفادات کو اظہار رائے کی آزادی کی چادر میں لپیٹتے رہے ہیں۔

پاکستان میں اخبارات اور ویب سائٹس کے خلاف شکایات سننے والے ادارے ’پریس کونسل آف پاکستان‘ کے چیئرمین اور لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج راجہ شفقت عباسی کہتے ہیں کہ اخباری مالکان ہوں یا ایڈیٹرز کی کونسل، صحافتی تنظیمیں ہوں یا حکومت کے مختلف ادارے ان کے اپنے اپنے ضابطہ اخلاق ہیں جو کہ نہیں ہونے چاہیئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اور اخباری مالکان کی تنظیموں کے اپنے مفادات اور ترجیحات کی وجہ سے آج تک متفقہ ضابطہ طے نہیں ہو سکا۔ ان کے بقول ٹی وی چینلز کی بہتات کی وجہ سے غیر صحافی افراد کو بطور ٹی وی میزبان بھرتی کیا گیا ہے، جسے ان کی تنظیم صحافی ماننے کو تیار نہیں اور ان ہی کی وجہ سے مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں۔

امین یوسف کہتے ہیں کہ صحافت سے کرپشن کا خاتمہ ہونا چاہیے اور جو لوگ بھی رشوت لینے میں ملوث ہیں انہیں بے نقاب کرکے ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

صحافیوں کی ملکی سطح کی ایک تنظیم ‘پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس’ یا ‘پی ایف یو جے’ کے سیکرٹری جنرل امین یوسف کہتے ہیں کہ انیس پچاس میں جب یہ تنظیم بنی اس وقت سے ضابطۂ اخلاق بنایا گیا اور صحافی اس پر عمل کرتے ہیں۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here