نئے صوبوں کےکمیشن پر اختلافات

Posted by on Sep 05, 2012 | Comments Off on نئے صوبوں کےکمیشن پر اختلافات

پاکستان کی سیاسی جماعت مسلم لیگ (ن) نے صوبہ پنجاب میں مزید دو صوبے قائم کرنے کے لیے بنائے گئے پارلیمانی کمیشن کو مسترد کرتے ہوئے پارلیمان کے بجائے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں قومی کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے مسلم لیگ (ن) کو بات چیت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اپنے نئے اراکین شامل کرنا چاہتے ہیں تو حکومت تیار ہے لیکن نئے صوبوں کے قیام کے لیے حکومت نے آئین اور قانون کے تحت پارلیمانی کمیشن تشکیل دیا ہے، اُسے سیاست کی نذر نہ کیا جائے۔

یہ مطالبہ مسلم لیگ (ن) کے سرکردہ رہنما خواجہ سعد رفیق نے منگل کو قومی اسمبلی میں وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی موجودگی میں نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کیا۔

نہوں نے کہا کہ ’وزیراعظم مداخلت کریں اور ماضی میں جس طرح کئی فیصلے اتفاق رائے سے کیے گئے ہیں، یہ معاملات بھی اس جذبے سے حل کیا جائے‘۔

“وزیراعظم مداخلت کریں اور ماضی میں جس طرح کئی فیصلے اتفاق رائے سے کیے گئے ہیں، یہ معاملات بھی اس جذبے سے حل کیا جائے۔”

خواجہ سعد رفیق

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق منگل کو قومی اسمبلی میں نجی کارروائی کا دن تھا اور پینتیس نکاتی ایجنڈے میں سے صرف تین نکات پر کارروائی ہوئی اور دیگر نکات پر اراکین کی غیر موجودگی اور عدم دلچسپی کی وجہ سے کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔

حالانکہ وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ وہ رمشا مسیح کیس اور ملک کے مختلف شہروں میں شیعہ برادری کے قتل میں ملوث گروہوں کے بارے میں تفصیلات پیش کریں گے لیکن انہوں نے اس بارے میں کوئی بات نہیں کی۔

خواجہ سعد رفیق نے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی تعریف کی اور کہا کہ وہ ایک سیاسی کارکن کے ناطے سیاسی معاملات سیاسی انداز میں طے کریں گے۔

انہوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ نئے صوبوں کے قیام کے لیے پارلیمان کے کمیشن کے بجائے کسی غیر متنازع ٹیکنو کریٹ یا سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں مستقل کمیشن بنائیں جو پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں میں انتظامی بنیاد پر نئے صوبے بنانے کا بھی مجاز ہو۔

“وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نئے صوبوں کے قیام کے لیے پارلیمان کے کمیشن کے بجائے کسی غیر متنازعہ ٹیکنو کریٹ یا سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں مستقل کمیشن بنائیں جو پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں میں انتظامی بنیاد پر نئے صوبے بنانے کا بھی مجاز ہو۔”

خواجہ سعد رفیق

وزیر قانون نے کہا کہ قومی اسمبلی نے جنوبی پنجاب کے نام سے نیا صوبہ بنانے کی قرارداد منظور کی جس کے بعد پنجاب اسمبلی نے جنوبی پنجاب اور بہاولپور کے نام سے دو صوبے بنانے کی قرارداد منظور کی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کمیشن بنائے۔ ان کے بقول صدرِ پاکستان نے آئین کی شق چھپن کے تحت سپیکر قومی اسمبلی کو پیغام بھیجا کہ وہ کمیشن بنائیں۔

جس پر پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن جمشید دستی نے کہا کہ یہ مسئلہ جنوبی پنجاب کا ہے تو مسلم لیگ (ن) کے جنوبی پنجاب سے منتخب لوگ اس پر بات کریں۔ انہوں نے کہا کہ ’مسلم لیگ (ن) کی یہ منافقانہ چال ہے کہ وہ ہزارہ صوبے کی بات بھی کرتی ہے‘۔ ان کے بقول تیسری بار وزیراعظم بننے کی پابندی ختم کرانے کے لیے میاں نواز شریف نے عوامی نیشنل پارٹی سے جب بات کی تھی تو ہزارہ صوبے کو انہوں نے خود دفن کردیا تھا۔

فاروق نائیک نے بتایا کہ سپیکر نے چیئرمین سینٹ سے بات کی اور انہوں نے سینٹ میں اپوزیشن لیڈر اسحٰق ڈار کی مشاورت سے نام تجویز کیے۔ ان کے بقول سپیکر قومی اسمبلی نے پنجاب اسمبلی کے سپیکر سے بھی نام مانگے لیکن تاحال انہوں نے کسی کو نامزد نہیں کیا۔

پرویز مشرف کے دور میں وزیر مملکت برائے قانون رہنے والے مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی زاہد حامد نے کہا کہ پنجاب اسمبلی نے قومی کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا تھا نا کہ پارلیمانی کمیشن۔ ان کے بقول حکومت کا قائم کردہ کمیشن ٹھیک نہیں ہے۔

جمشید دستی نے کہا کہ ’جنوبی پنجاب کے حالات بہت ابتر ہیں اور وہاں لوگ، کتے اور گدھے ایک ہی تالاب سے پانی پیتے ہیں اس لیے جنوبی پنجاب کا صوبہ بننا ضروری ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’پنجاب کے کرپٹ افسران جنوبی پنجاب میں تعیناتی کے دوران مالدار بن جاتے ہیں لیکن وہاں کوئی کام نہیں کرتے۔‘

“جنوبی پنجاب کے حالات بہت ابتر ہیں اور وہاں لوگ، کتے اور گدھے ایک ہی تالاب سے پانی پیتے ہیں اس لیے جنوبی پنجاب کا صوبہ بننا ضروری ہے”

جمشید دستی

اس دوارن افسرِ صدارت ندیم افضل چن نے جمشید دستی کا مائک بند کرادیا لیکن وہ مسلسل بولتے رہے اور مسلم لیگ (ن) اور پنجاب حکومت پر سخت نکتہ چینی کرتے رہے۔

تہمینہ دولتانہ نے بات کرنا چاہی لیکن انہیں موقع نہیں مل سکا۔ ان کی ساتھی انوشہ رحمٰن نے جمشید دستی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت نے پانچ برسوں میں جنوبی پنجاب میں پانچ سو ارب خرچ کیے۔

انہوں نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ علما اور مذہبی جماعتیں آگے آئیں اور ناموس رسالت کے قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اقدامات اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک اچھا موقع ہے جو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن کسی وزیر یا عالم دین نے کوئی جواب نہیں دیا۔

قومی اسمبلی میں ایک اور اہم معاملہ جو نکتہ اعتراضات پر زیر بحث رہا وہ اسلام آباد کی مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والی رمشا کو مبینہ طور پر ناموس رسالت کے قانون کے تحت جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کا معاملا شامل ہے۔ حکمران پیپلز پارٹی کی نفیسہ شاہ اور دیگر جماعتوں کے بعض اقلیتی اراکین نے کہا کہ میڈیا اور علما حضرات نے خود تسلیم کیا ہے کہ رمشا کو غلط طریقے سے پھنسایا گیا ہے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here