صدر کے خلاف لاہور ہائی کورٹ کا نوٹس

Posted by on Jun 23, 2012 | Comments Off on صدر کے خلاف لاہور ہائی کورٹ کا نوٹس

لاہور ہائی کے چیف جسٹس عمر بندیال نے عدالتی حکم کے باوجود ایوان صدر میں سیاسی سرگرمیاں بند نہ کرنے پر پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔اب اس مقدمے کی سماعت ستائیس جون کو ہو گی۔

گزشتہ سال مئی میں لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ نے فیصلہ دیا تھا کہ صدر پاکستان آصف علی زرداری سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ پاکستان کے صدر کی حیثیت سے ایوان صدر میں کوئی سیاسی سرگرمی نہیں کریں گے۔

اظہر صدیق کے مطابق جمعے کو ہونے والی سماعت میں انہوں نے عدالت کو اپنے دلائل میں بتایا کہ آئین کے آرٹیکل 204 اور توہین عدالت آرڈیننس کے سیکشن تین کے مطابق کوئی بھی حکم ہو اس پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے لیکن صدر اس پر عمل نہیں کر رہے اور نہ ہی صدر نے اس فیصلے کے خلاف کوئی اپیل دائر کی جس پر یہ فیصلہ حتمی ہو گیا۔ اظہر صدیق نے اپنے دلائل میں عدالت سے کہا کہ جہاں تک عدالت نے گزشتہ حکم میں توقع کا لفظ استعمال کیا تھا تو اس سے مراد حکم ہی تھا۔

چند روز قبل لاہور کے ایک وکیل ایڈوکیٹ اظہر صدیق نے عدالت میں صدر آصف علی زرداری کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی جس میں کہا گیا کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے ایک سال بعد تک عدالتی فیصلے کا احترام نہیں کیا گیا اور ایوان صدر میں سیاسی سرگرمیاں جوں کی توں جاری ہیں۔

نامہ نگار مناء رانا سے بات کرتے ہوئے ایڈوکیٹ اظہر صدیق نے کہا کہ ان کی درخواست کی پہلی سماعت پر عدالت نے یہ کہا تھا کہ اس معاملے میں توہین عدالت کی کاروائی نہیں بنتی کیونکہ عدالت نے ایک سال پہلے واضح طور پر حکم نہیں دیا تھا۔

اظہر صدیق کے دلائل کے بعد عدالت نے پرنسپل سیکریٹری کے ذریعے پاکستان کے صدر کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عمر بندیال کے مطابق صدر کے خلاف توہین عدالت کی جو درخواستیں دائر کی گئیں ہیں ان میں ایسے اہم قانونی اور آئینی نکات اٹھائے گئے ہیں جن کےسبب ضروری ہے کہ ان درخواستوں کی سماعت کے لیے بڑا بنچ تشکیل دیا جائے۔

اس مقدمے کی سماعت 27 جون تک ملتوی کردی گئی ہے اور اگلی سماعت پر لارجر بنچ اس کی سماعت کرے گا۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here