’صدر پانچ ستمبر تک سیاسی عہدہ چھوڑ دیں‘

Posted by on Jun 28, 2012 | Comments Off on ’صدر پانچ ستمبر تک سیاسی عہدہ چھوڑ دیں‘

لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کو پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کا عہدہ چھوڑنے کے لیے پانچ ستمبر دو ہزار بارہ تک کی مہلت دے دی ہے۔

ہائی کورٹ کے فل بنچ نے یہ حکم بدھ کو صدر زرداری کے سیاسی عہدہ رکھنے کے بارے میں فیصلے پر عملدرآمد کے لیے دائر درخواست پر کارروائی مکمل کرتے ہوئے دیا۔

لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ نے یہ بھی قرار دیا کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں اس توقع کا اظہار کیا تھا کہ صدر آصف علی زرداری ایوان صدر میں سیاسی سرگرمیاں ترک کر دیں گے تاہم اس توقع کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ صدر عدالتی احکامات پر عمل نہ کریں۔

سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس اعجاز احمد چودھری کی سربراہی میں فل بنچ نے گزشتہ سال بارہ مئی کو صدر آصف علی زرداری کے ایک ہی وقت میں دو عہدے رکھنے کے خلاف درخواست پر فیصلہ دیا تھا اور یہ توقع ظاہر کی تھی کہ آصف زرداری ایوان صدر میں سیاسی سرگرمیاں بند کردیں گے۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں قائم تین رکنی فل بنچ نے بدھ کو سماعت کے دوران کہا تھا کہ صدر زرداری کو سیاسی عہدہ چھوڑنے کے لیے مناسب وقت دیا جائے گا۔

فل بنچ کے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد اور صدر زرداری کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے لیے مقامی وکلاء اے کے ڈوگر اور اظہر صدیق نے الگ الگ درخواستیں دائر کی تھیں۔ فل بنچ کے دیگر دو ارکان میں جسٹس اعجازالحسن اور جسٹس منصور علی شاہ شامل ہیں۔

تینیتس صفحات پر مشتمل اس فیصلے میں کہا گیا تھا کہ صدر پاکستان کا عہدہ اس امر کا متقاضی ہے کہ فرائض اور ذمہ داریاں مکمل غیر جانبداری سے اور کسی بھی سیاسی پارٹی کے مفاد سے بالاتر ہو کر انجام دی جائیں۔ لہذا یہ توقع کی جاتی ہے کہ صدر پاکستان قانون کی پاسداری کرتے ہوئے جتنی جلد ممکن ہو سکے اپنے آپ کو سیاسی پارٹی کے عہدے سے الگ کر لیں گے۔

بارہ مئی 2011 کا عدالتی فیصلہ

صدر پاکستان کا عہدہ اس امر کا متقاضی ہے کہ فرائض اور ذمہ داریاں مکمل غیر جانبداری سے اور کسی بھی سیاسی پارٹی کے مفاد سے بالاتر ہو کر انجام دی جائیں۔ لہذا یہ توقع کی جاتی ہے کہ صدر پاکستان قانون کی پاسداری کرتے ہوئے جتنی جلد ممکن ہو سکے اپنے آپ کو سیاسی پارٹی کے عہدے سے الگ کر لیں گے۔

ہائی کورٹ کے فل بنچ نے وفاقی حکومت کی طرف سے وکیل پیش نہ ہونے پر ناراضگی کااظہار کیا جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل عبدالحئی گیلانی نے بتایا کہ انہیں عدالتی نوٹس موصول نہیں ہوئے وہ صرف اخباری اطلاعات کی بناء پر عدالت میں موجود ہیں۔

بدھ کے روز درخواستوں پر سماعت مکمل ہونے کے بعدچیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ صدر آصف علی زرداری کو عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے لیے مناسب وقت دیا جائےگا ۔

فل بنچ نے کہا کہ ہائی کورٹ صوبے کی آئینی عدالت ہے اور آئینی سربراہ مملکت کے بارے میں فیصلہ دیتے ہوئے عدالت مہلت کا تعین کرے گی اور مہلت ختم ہونے کے بعد اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد ہوا یا نہیں۔

فل بنچ کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کرنا ہر ادارے اور شخص پر لازم ہے ۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here