صدر صالح سعودی عرب روانہ

Posted by on Jun 05, 2011 | Comments Off on صدر صالح سعودی عرب روانہ

یمن میں سفارت کاروں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ صدر علی عبداللہ صالح علاج کے لیے سعودی عرب روانہ ہو گئے ہیں۔

یمن میں صدر صالح کے خلاف تحریک زور پکڑ رہی ہے اور بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق بیرون ملک جانے سے ان کی پوزیشن مزید کمزور ہونے کا خدشہ ہے۔

اس سے پہلے یمن میں حکام نے تصدیق کی تھی کہ جمعے کو صدارتی محل پر ہونے والے حملے میں صدر علی عبداللہ صالح کی حالت جتنی پہلے بتائی گئی تھی اس سے کہیں زیادہ تشویشناک ہے۔

انہیں دل سے صرف چند سینٹی میٹر نیچے زخم آیا ہے جس سے ان کا پھپڑا بھی متاثر ہوا ہے اور انہیں اب آپریشن کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ ان کے سینے اور چہرے پر جلنے کے زخم ہیں۔

یہ افواہیں پہلے ہی سے گردش کر رہی تھی کہ وہ ملک چھوڑ کر سعودی عرب جا رہے ہیں جس کی یمنی حکام نے تردید کی تھی۔ کچھ سعودی حکام کا کہنا تھا کہ وہ علاج کے لیے سعودی عرب جائیں گے لیکن پھر یہ اطلاعات آئیں کہ ڈاکٹروں کی ایک ٹیم ان کا علاج کرنے کے لیے صنعا پہنچی ہے۔

صدر عبداللہ صالح گزشتہ روز دارالحکومت صنعا میں ایک حملے میں زخمی ہوگئے تھے۔

اس سے قبل سرکاری خبر رساں ادارے نے کہا تھا کہ حملے میں زخمی ہونے والے پانچ اعلی عہدیدار بھی ایک طیارے کے ذریعے پڑوسی ملک روانہ ہوچکے ہیں۔

عبداللہ صالح نے جمعہ کو ایک آڈیو پیغام میں کہا تھا کہ وہ خیریت سے ہیں تاہم ان کی صحت کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری رہیں تھیں۔
گذشتہ ایک ہفتے کے دوران ایک سو ساٹھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ یمن خانہ جنگی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔

اپنے پیغام کے دوران ان کی آواز سے نقاہت جھلک رہی تھی جبکہ انہوں نے چند جگہ لمبی سانسیں بھی بھری تھیں۔

انہوں نے حملے کا الزام اپنے دشمن قبیلے کے ان افراد پر لگایا تھا جو قانون کو مطلوب ہیں۔ اِس الزام کو ہاشِد قبیلے کے سربراہ شیخ صادق الاحمر نے مسترد کردیا۔ اِس قبیلے کے جنگجو اور سکیورٹی فورسز نبرد آزما ہیں۔

اس سے پہلے اطلاعات کے مطابق یمن میں رات بھر جھڑپیں تھمی رہیں۔ اِن جھڑپوں میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ایک سو ساٹھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ یمن خانہ جنگی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔

دارالحکومت میں جگہ جگہ چوکیاں قائم کردی گئیں ہیں اور کئی سڑکوں کو بند کردیا گیا ہے۔ چند شہری روزمرہ کی اشیا کے حصول کے لیے سڑکوں پر نظر آ رہے ہیں۔ حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔

امریکہ، یورپی یونین اور خلیجی تعاون کی کونسل نے متحارب گروہوں سے جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here