صدر زرداری با صلاحیت لیڈر ہیں، دنیا کو حیران کر سکتے ہیں

Posted by on Mar 07, 2012 | Comments Off on صدر زرداری با صلاحیت لیڈر ہیں، دنیا کو حیران کر سکتے ہیں

پاکستان کے مشہورو معروف اعداد و شمار کے ماہر اور روحانی راہنماء پیر میاں غلام محمد نے کہا ہے کہ پاکستان کا مستقبل امریکہ کے نہیں اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن عرصہ دراز سے کچھ نا عاقبت اندیشوں نے اسے یہودونصاریٰ کے رحم وکرم پر چھوڑ رکھا ہے۔
ربِ عظیم نے آصف علی زرداری کو ملک کا سربراہ کسی کٹھ پتلی کھیل تماشے کیلئے نہیں بلکہ ایک خاص مقصد کیلئے بنایا ہے وہ کسی بھی وقت کوئی مثبت قدم اٹھا کر دنیا کو حیران کر دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اگر وہ میری بات سمجھ پائیں اور خوشامدیوں سے ہٹ کر دانشمندی سے عملی قدم اٹھائیں تو وہ اپنے سسر محترم ذوالفقار علی بھٹو سے بھی بڑھ کر دنیا کی مشہور و معروف شخصیت بن سکتے ہیں اور صدا بہار سلطانی ان کا مقدر بن سکتی ہے۔ 2012ء انہیں احتیاط برتنے سے کامیاب ترین لیکن ذراسی لا پرواہی برتنے پر بری طرح ناکام بھی بنا سکتا ہے۔ اس سال کی طلسمی حقیقت نیک و بد دونوں صورتوں کو عروج و انجام دیتی ہے۔
ویسے تو یہود و نصاریٰ نے اپنا مہرہ چن لیا ہے ۔ جو شاید ہمارے لیڈروں یا سیاستدانوں میں سے نہ ہو اور جو کسی بھی وقت ملک کی باگ ڈور سنبھال سکتا ہے لیکن ابھی وقت ہے کہ آصف علی زرداری ان کے گھناؤنے عزائم کو ملیا میٹ کر سکتے ہیں ۔ وہ اور ان کے روحانی مشیر غور وحوض کریں اگر وہ نہ سمجھ پائیں تو ناچیز ان کی راہنمائی کر سکتا ہے ۔
پاکستانی سیاست تو محض ایک کٹھ پتلی کا کھیل تماشا ہے۔ ہمارے لیڈر اور سیاستدان غریب عوام کی جانی و مالی کسی بھی پریشانی کے حل کی پرواہ کئے بغیر انہیں سیاست کی بھینٹ چڑھائے رکھیں گے مگر اس کے برعکس غریب عوام بھوک ، ننگ اور مہنگائی کی چکی میں پس کر بھی اپنے مصائب کے حل کیلئے انہی کے مرہون منت رہیں گے۔ ان کے مقاصد پورے ہوں نہ ہوں وہ سیاستدانوں کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنتے رہیں گے۔ روزمرہ ضرورت کی اشیاء کی قلت اور مہنگائی کا گراف مزید آسمان کی بلندیوں کو چھوئے گا۔
آصف علی زرداری کو اچانک ملک کی سربراہی مل جانا دنیا کیلئے ایک اچنبے کی بات تو تھی مگر رب عظیم کی شفقت سے یہ ان کی صلاحیت کا نتیجہ تھی ۔ وہ زیرو سے ہیرو بننے کی خوب صلاحیت رکھتے ہیں۔ پاکستان میں کوئی بھی ایسا لیڈر یا سیاستدان نہیں جو پاکستان کے مفاد کی خاطر اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دے لیکن اس کے برعکس آصف علی زرداری اپنا سب کچھ تو کیا زندگی بھی داؤ پر لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ عقل کا استعمال وہاں سے کرتے ہیں جہاں سب کی عقل کام کرنا چھوڑ دے۔ قدر ت نے انہیں پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کی بھلائی کیلئے چنا ہے۔
دنیاجانتی ہے کہ ملک پاکستان مسلمانوں نے لا الہ الااللہ محمدؐ رسول اللہ کے نام پر رب عظیم سے حاصل کیا ہے جسے مالک الملک نے دنیا کے انتہائی منفرد بیش قیمت خزانوں سے بھر کر مسلمانوں کو عطا کیا ہے ان خزانوں میں قابل ذکر دنیا کی انتہائی شفاف اور قیمتی معدنیات یورینیم، سونا ، ہیرا، تانبا،زمرد، یاقوت، تیل و گیس وغیرہ شامل ہیں اگر ہم یہ سب وسائل بروئے کار لے آئیں تو پاکستان کا ہر پیدا ہونے والا بچہ دنیا کے امیر ترین لوگوں میں شمار ہوگا لیکن عرصہ دراز سے کچھ خفیہ ہاتھ ہمیں ان وسائل کو بروئے کار لانے سے محروم رکھے ہوئے ہیں ۔
رب عظیم نے اس نادر خزانے کا تحفہ پاکستان یا امت مسلمہ کیلئے ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے فروغ کیلئے عطا فرمایا ہے لیکن بدقسمتی سے ان خزانوں پر یہود و نصاریٰ عرصہ دراز سے للچائی ہوئی نظروں سے اپنے دانت تیز کئے اسے ہڑپ کرنے کا پروگرام بنائے بیٹھے ہیں۔ امریکہ (یورپ گٹھ جوڑ) کی کھلے عام پاکستان میں دہشتگردی بھی ان خزانوں کو ہڑپ کرنے کا ایک مکروہ منصوبہ ہے۔ جسے وہ طالبان یا اسامہ اور القاعدہ گردی کا نام دے رہے ہیں لیکن وہ تا قیامت ان خزانوں کو حاصل نہ کر پائیں گے۔ اور اس کوشش میں وہ ہمیشہ ذلیل و خوار اور ناکام و نامراد رہیں گے اور اپنے ہی ٹکڑے بکھرے کرواتے رہیں گے جیسا کہ سینکڑوں سال قبل رب ذوالجلال نے مکہ میں اپنے مقدس گھر کعبہ پر قبضہ کرنے کیلئے آنے والے ہاتھی والوں پر ابابیل جیسے معمولی پرندوں کے ذریعے ان پر کنکریاں برسا کر ان کا بھرکس نکالا تھا اور انہیں کعبہ پر قبضہ کرنے سے باز رکھا تھا۔ عین اسی طرح وہ لا الہ الااللہ محمدؐ رسول اللہ کے نام پر دئیے گئے پاکستان کو بھی یہود و نصاریٰ اور ہنود کے قبضے سے محفوظ رکھے گا اور اپنے غیر معمولی بندوں کے ذریعے ان کا بھرکس نکال دے گا ۔اب آصف علی زرداری اپنی اس غیر معمولی اہمیت کو سمجھ کر علم و حکمت سے کام لیں۔
راہبرانسانیت حضرت محمدﷺ نے فرمادیا تھا کہ ’’علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین جانا پڑے‘‘ ۔ قدرت پہلے ہی آصف علی زرداری کے ساتھ ہے۔ اگر وہ اپنی صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے علم و حکمت سے کام لیں تو قدرت لا محالہ ان ہی کا ساتھ دے گی اور بازی پلٹ جائے گی اور آج اگر وہ امریکہ کے تابع ہیں تو کل امریکہ ان کے تابع ہوگا۔ پیر میاں غلام محمد نے کہا کہ ان کی باتیں نا سمجھ کیلئے محض پیشن گوئی اور سمجھنے والے کیلئے انسانیت کے فروغ کا پر امن پیغام ہے۔ انہوں نے کہا عرصہ دراز پہلے ایک عالمی شہرت یافتہ اسٹرولوجسٹ نوسٹر ڈیم نے امریکہ کے ٹکڑوں میں بٹ جانے کی نوید سنائی تھی اس کی پیشن گوئیاں دنیا بھر میں مشہور اور وقت کے ساتھ ساتھ حرف بہ حرف پوری ہوئیں اور اب وقت امریکہ کے ٹکڑے ہونے والی پیشن گوئی کا بھی ہوا جا رہا ہے۔ اس نے واضح طور پر کہا تھا کہ ایشیاء سے ایک مسلمان شخص اٹھے گا جو امریکہ کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دے گا۔ نوسٹر ڈیم نے امریکہ کے ٹکڑے ہونے کے وقت اس بات کو سرے سے نظرانداز کر دیا تھا کہ وہ اس وقت کتنا کمزور یا طاقتور ہوگا۔ اور یہ بھی کہ ایشیاء کا مسلمان شخص عام آدمی ہوگا یا پھر کوئی سربراہ مملکت ہوگا ۔ اس بات کو تو کم از کم عقل بھی تسلیم نہیں کرتی کہ وہ عام آدمی ہوگا تو لا محالہ وہ کوئی سربراہ مملکت ہی ہو سکتا ہے ۔ اور ایشیاء میں پاکستان ہی ایک ایسا ملک ہے جس کا سربراہ مسلمان ہوتا ہے ۔ تو واقعی پاکستان ہی ایک ایسا ملک ہے جسے رب عظیم کی قدرت حاصل ہو تو وہ امریکہ تو کیا دنیا کے کسی بھی ملک کا حلیہ بگاڑ سکتا ہے جیسا کہ ماضی میں روس کا بگاڑا تھا۔ دنیا جانتی ہے کہ امریکہ اس وقت کتنا طاقتور اور مضبوط ہے کہ کوئی بھی اس وقت اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہیں دیکھ سکتا ۔ عین اسی طرح جیسے کسی زمانے میں فرعون تھا لیکن رب عظیم نے ہر زمانے میں فرعون کے ساتھ موسیٰ کو پیدا کیا ہے یہی نہیں بلکہ موسیٰ کی پرورش کی رسم بھی فرعون کے ہی ہاتھوں جاری رکھے ہوئے ہے اور یہ سلسلہ ابد تک جاری رہے گا۔ رہا اب سوال امریکہ کے ٹکڑے بکھرے کرنے کا تو آصف علی زرداری اگر علم و حکمت سے کام لیں تو انہیں اس مقصد کیلئے نہ تو کہیں خانہ جنگی کرانی پڑے گی، نہ ہی کہیں کوئی تخریب کاری، اور نہ تو کسی اسامہ یا القاعدہ نامیبھوت سے مدد لینا پڑے گی۔ اور نہ ہی امریکہ کے آگے جھکنا پڑے گا، بس صرف علم و حکمت سے کام لیں ۔ ممکن ہے امریکہ ہی ان کے آگے جھک جائے اور اس کے ٹکڑوں میں بٹ جانے کی بنیاد بھی پڑ جائے بلکہ میں تو دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ امریکہ کو پاکستان یا افغانستان سے تو کیا پورے عالم اسلام سے نکال باہر کھڑا کر دیں گے۔ اور یوں وہ پاکستان کے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے ہیرو بن کر ابھریں گے۔
زندگی اور موت تو اللہ ہی کے اختیار میں ہے لیکن قدر ت ایسے مواقع شاد ر نادر ہی دیتی ہے بار بار نہیں۔ جانے کب حکومت کی باگ ڈور ہاتھ سے نکل جائے اور یہ موقعہ کسی اور کا نصیب بن جائے۔
پیر میاں غلام محمد نے کہا کہ وہ پروفیشنل اسٹرولوجسٹ یا پیر نہیں ہیں انسانی خدمت کا بے لوث جذبہ اور روحانی راہنمائی انہیں اپنے بزرگوں سے ورثہ میں ملی ہے وہ اپنے بزرگوں کے بتائے ہوئے روحانی علوم اور قرآن کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے آگاہی حاصل کرتے ہیں ۔ پیشے کے اعتبار سے وہ صحافی ہیں اور عرصہ 30سال سے لاہور سے ایک پندرہ روزہ جریدہ شائع کر رہے ہیں جسے اب اسلام آباد سے بھی ماہنامہ شروع کر رہے ہیں ان کے پڑدادا اعلیٰ حضرت الحاج صوفی پیر میاں سکندر خاں قادری ریاست پٹیالہ کے مشہور و معروف صوفی بزرگ اور صنعت کار تھے جنہوں نے اپنے بزرگوں سائیں عنایت شاہ قادری کے حکم پر لاہور سے ہجرت کر کے ہند میں تبلیغ کا سلسلہ شروع کیا ۔ اور ہزاروں لوگوں کو مشرف بہ اسلام کیا ۔ صوبہ پنجاب میں جب لوگ جوق درجوق مسلمان ہونے لگے تو انہیں ان خاندانوں کی کفالت کا بوجھ بھی اٹھانا پڑا۔ تب انہوں نے 1882ء میں ایک فرم سکندر اینڈ کمپنی بنائی جو دنیا بھر میں ملٹری یونیفارم اور ملٹری بینڈ انسٹرومنٹ بنا کر سپلائی کیا کرتی تھی جسکی یورپ کے 12بڑے شہروں میں برانچیں قائم تھیں۔ انگریز نے انہیں سر کا خطاب دیا جو انہوں نے قبول نہ کیا۔ فرم کی آمدن کا 75%پنجاب بھر کے مسلمانوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جاتا تھا۔ 1944ء میں تحریک پاکستان کے اوائل میں تحریک چلانے کیلئے اعلیٰ حضرت الحاج صوفی پیر میاں سکندرخاں قادری اور ان کے ایک روحانی دوست پیر سید جماعت علی شاہ نے حضرت قائد اعظم کو دو ، دو لاکھ روپے نذرانہ دیا تھا اور انکی روحانی راہنمائی بھی کی اور اپنے سینکڑوں مریدوں کو بھی تحریک میں شامل کیا تھا۔ بوقت ہجرت انہوں نے پنجاب بھر سے مسلمانوں کے کئی قافلے پاکستان بھجوائے لیکن جب آخری قافلہ ریاست پٹیالہ سے بذریعہ ٹرین لاہور جانا تھا جس میں اعلیٰ حضرت صوفی پیر میاں سکندرخاں قادری خود بھی شریک تھے اسی رات پٹیالہ کے مہاراجہ بھوپیندر سنگھ نے ایک ذاتی رنجش کی بناء پر ریلوے سٹیشن کے قریب قافلے کے کیمپوں میں یلغار کروائی اور اعلیٰ حضرت کو شہید کروا دیا کیمپوں میں قیام پذیر اور ٹرین میں سوار پاکستان ہجرت کرنے والے تمام مسلمان مردوں ،عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو بھی شہید کروا دیا جس میں سینکڑوں افراد قتل ہوئے ۔جوایشیاء کی سب سے بڑی قتل و غارت تھی۔
پیر میاں غلام محمد نے باقاعدہ پیشن گوئیوں کا آغاز 99ء سے شروع کیا اس سے پہلے 92ء میں میاں نواز شریف کی معزولی پر انہیں مشورہ دیا کہ اگر وہ روضہ رسولﷺ پر حاضری دے کر اپنے پروگرام (اسلامی قانون کے نفاذ) کا اعادہ کر لیں تو انہیں جلد حکومت مل جائے گی۔ لہٰذا اس پر عمل کرنے کے 39ویں روز انہیں پلیٹ میں رکھ کر حکومت دی گئی ۔93ء میں دوبارہ نواز شریف سے کہا کہ وہ خوشامدیوں کے بھنور سے نکل کر اپنے پروگرام کی تکمیل کریں لیکن وہ ایسا نہ کر سکے ۔ نتیجتاً حکومت ہاتھ سے نکل گئی۔ اگست96ء میں پھر انہوں نے میاں نواز شریف کو خوشخبری دی کہ انہیں حکومت ملنے والی ہے لہٰذا 97ء میں دوبارہ انہیں حکومت مل گئی۔ اسی دوران وہ ان کے پولیٹیکل سیکرٹری کی وساطت سے ان کی راہنمائی کرتے رہے لیکن اگست 99ء میں انہوں نے میاں نواز شریف پر واضح کر دیاکہ وہ دوبارہ 92ء والی صورتحال سے دوچار ہو سکتے ہیں لہٰذا وہ ایک بار پھر اپنے پروگرام کی تکمیل پر نظر ثانی کریں اور دوبارہ روضہ رسول ﷺ پر حاضری دیں لیکن میاں نواز شریف حکومت ہائی جیک ہوجانے کے ڈر سے وہاں نہ جا سکے۔ تو پیر میاں غلام محمد نے آٹھ ستمبر99ء میں اخبارات میں باقاعدہ پیشنگوئی کی کہ میاں نواز شریف اگر پہلے کی طرح روضہ رسولﷺ پر حاضری دیں تو شاید ان کی حکومت بچ سکتی ہے ورنہ فوج حکومت پر قابض ہو جائے گی۔ اس پیشن گوئی میں انہوں نے کالی پگڑیوں والوں(طالبان) کے پاکستان میں مداخلت اور راج کرنے کا اشارہ بھی دیا تھا انہوں نے باقاعدہ 9ستمبر99ء کی تاریخ سے محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو مشکلات کی دلدل سے نکلنے کی نوید بھی سنا ئی تھی ۔جبکہ آصف علی زرداری پابند سلاسل تھے دسمبر2000ء کی پیشن گوئی میں انہوں نے میاں نواز شریف کی وطن واپسی سے پہلے مالی و جانی نقصان کی طرف اشارہ کیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ قدرت ان پر ایک بار پھر مہربان ہو جائے گی۔ پرویز مشرف کے عوامی حکومت بنانے کا اشارہ بھی دیا تھا اور محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے ملک بدر ہونے کے امکانات بھی واضح کئے تھے ۔ اسی طرح دسمبر2008ء کی پیشن گوئی میں پرویز مشرف کو اللہ سے معافی مانگنے کا مشورہ دیا تھااور یہ بھی کہا تھا کہ اگر اس نے ایسا نہ کیا تواس کا انجام برا ہوگا اسی دوران اس کے چہیتے لیفٹننٹ نذیر کے ذریعے اس کی روحانی معاونت بھی کی اور اسے پاکستان سے جان بچاکر نکلنے کی تدبیر اختیار کرنے کا مشورہ بھی دیا تھا۔ میاں نواز شریف برادران کو حکومت میں شمولیت کی نوید سنائی اور یہ بھی واضح کیا تھا کہ ان کے پاس اب غلطی کی کوئی گنجائش نہ ہے ملکی حالات کے بارے میں بتایا کہ ایک بڑی طاقت پاکستان میں اندرونی انتشار پیدا کر کے امن و امان کوتہہ بالا کریگی لیکن پاکستانی غیور عوام اسے عراق یا افغانستان نہیں بننے دیں گے اور محترمہ بینظیر بھٹو کو بھی مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنا جانشین مقرر کر لیں۔ 99ء سے 2008ء تک کی پیشن گوئیاں وقت کے ساتھ ساتھ پوری ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اب آصف علی زرداری معاملے کی نزاکت کو سمجھ کر اپنی صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے علم و حکمت سے کام لیں تو وہ امریکہ کے آگے گھٹنے ٹیکنے کی بجائے اسے پاکستان یا افغانستان سے تو کیا پورے عالم اسلام سے باہر نکال کھڑا کر کے عالمی ہیرو بن سکتے ہیں۔
Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here