صحافیوں کی جان اور مال کا تحفظ یقینی بنائیں۔چیئرمین سینیٹ

Posted by on Jun 10, 2011 | Comments Off on صحافیوں کی جان اور مال کا تحفظ یقینی بنائیں۔چیئرمین سینیٹ

پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ کے چیئرمین فاروق ایچ نائیک نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو حکم دیا ہے کہ کوئٹہ اور کراچی کے صحافیوں کو دھمکیاں دینے والوں کو گرفتار کرکے ان پر مقدمہ چلائیں اور صحافیوں کی جان اور مال کا تحفظ یقینی بنائیں۔

یہ رولنگ انہوں نے جمعہ کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں کی پریس گیلریوں سے صحافیوں کے واک آٹ کے بعد دی۔ انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ، بلوچستان اور سندھ کے صوبائی وزرا داخلہ سے سترہ جون تک رپورٹ طلب کی ہے۔

انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ صحافیوں کو تحفظ دینے اور انہیں دھمکیاں دینے والوں کو گرفتار کرکے ان پر مقدمہ چلانے کے بارے میں پیش رفت کے متعلق رپورٹ سترہ جون تک پیش کریں۔

اجلاس ختم ہونے پر وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک اسمبلی پہنچے اور انہوں نے نجی ٹی وی چینل آواز ٹی وی کے کیمرہ مین کو سکیورٹی مہیا کی۔ انہوں نے رینجرز پنجاب کے ایک انسپکٹر کو ان کی سکیورٹی پر تعینات کیا ہے۔

ماضی میں اکثر حکومتی اہلکار صحافیوں کے معاملے میں یقین دہانی کراکے معاملے کو ٹال دیتے ہیں اور یہ پہلا موقع ہے کہ پارلیمان کے کسی ایوان کے سربراہ نے باضابطہ طور پر رولنگ دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو پابند بناتے ہوئے ان سے محدود مدت میں پیش رفت کی رپورٹ طلب کی ہے۔

قبل ازیں پارلیمان کے دونوں ایوانوں قومی اسمبلی اور سینیٹ سے صحافیوں نے تین صحافیوں کو ملنے والی دھمکیوں کے خلاف واک آٹ کیا۔
صحافیوں نے واک آٹ کوئٹہ کے خروٹ آباد میں فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کے ہاتھوں تین خواتین سمیت پانچ چیچن باشندوں کی ہلاکت اور کراچی میں رینجرز اہلکاروں کے ہاتھوں نوجوان سرفراز شاہ کو گولیاں مارنے کا فوٹیج بنانے والے صحافیوں اور کیمرہ مینز کو دھمکیاں ملنے کے خلاف کیا۔

صحافیوں نے یہ واک آٹ کوئٹہ کے خروٹ آباد میں فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کے ہاتھوں تین خواتین سمیت پانچ چیچن باشندوں کی ہلاکت اور کراچی میں رینجرز اہلکاروں کے ہاتھوں نوجوان سرفراز شاہ کو گولیاں مارنے کا فوٹیج بنانے والے صحافیوں اور کیمرہ مینز کو دھمکیاں ملنے کے خلاف کیا۔

جس کے بعد حکمران پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل جہانگیر بدر اور پنجاب کے صدر چوہدری امتیاز صفدر وڑائچ اور مسلم لیگ (ق) کے میاں ریاض حسین پیرزادہ صحافیوں کو منانے کے لیے آئے۔ صحافیوں نے انہیں بتایا کہ کوئٹہ کے صحافی جمال تراکئی، کراچی میں آواز ٹی وی کے کیمرہ مین عبداسلام سومرو اور رپورٹر زاہد کھوکھر کو نامعلوم فون نمبرز سے موصول ہونے والی کالز میں دھمکیاں مل رہی ہیں اور ان کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔

صحافیوں نے ان سے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر متعلقہ صحافیوں کو دھمکیاں دینے والوں کو تلاش کریں کہ خفیہ نمبروں سے کون دھمکیاں دے رہے ہیں اور انہیں گرفتار کیا جائے۔ صحافیوں کے بقول اگر کسی صحافی کو کوئی نقصان پہنچا تو ذمہ داری سیکورٹی فورسز پر عائد ہوگی۔

جس کے بعد جہانگیر بدر کی درخواست پر صحافیوں نے واک آٹ ختم کیا۔ جہانگیر بدر نے ایوان بالا سینیٹ کو صحافیوں کے مطالبات سے آگاہ کیا اور کہا کہ صحافیوں نے ہمیشہ جمہوریت کے لیے قربانی دی ہے اور انہیں تحفظ فراہم کرنا پارلیمان کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا صحافیوں کو نامعلوم نمبروں سے دھمکیاں مل رہی ہے ۔۔۔ آپ سب کو پتہ ہے یہ نامعلوم کون ہوتے ہیں ۔۔۔ ان کا پتہ لگائیں اور ان پر مقدمہ درج کریں۔ میاں رضا ربانی اور بابر اعوان نے بھی جہانگیر بدر کی حمایت کی اور چیئرمین سینیٹ سے کہا کہ وہ احکامات جاری کریں۔

جس پر چیئرمین سینیٹ فاروق ایچ نائک نے باضابطہ طور پر رولنگ دی اور وفاقی وزیر داخلہ، بلوچستان اور سندھ کے صوبائی وزرا داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ پتہ لگائیں کہ کون دھمکیاں دے رہا ہے اور انہیں گرفتار کرکے ان پر مقدمہ چلائیں۔ انہوں نے سترہ جون تک متعلقہ حکام سے پیش رفت کے بارے میں رپورٹ بھی طلب کی۔

چیئرمین کے اس رولنگ کا پورے ایوان نے خیر مقدم کرتے ہوئے بھرپور انداز میں ڈیسک بجائے۔

ادھر قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر سید خورشید شاہ نے صحافیوں کو دھمکیاں ملنے کے حوالے سے کہا کہ اگر ان صحافیوں کو نقصان پہنچا تو ذمہ دار متعلقہ سیکورٹی اہلکار ہوں گے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here