شہنشاہ ِغزل مہدی حسن انتقال کر گئے

Posted by on Jun 13, 2012 | Comments Off on شہنشاہ ِغزل مہدی حسن انتقال کر گئے

بھارتی ریاست راجستھان کی حکومت نے مہدی حسن کو بھارت میں علاج معالجے کی پیشکش بھی کی تھی اور گزشتہ ماہ ہی ریاست کے وزیراعلیٰ اشوک گہلوت نے بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا سے درخواست کی تھی کہ مہدی حسن اور ان کے اہلِ خانہ کو بھارت آنےکے لیے ویزا دیا جائے۔

چوراسی سالہ مہدی حسن جنھیں شہنشاہ غزل کا خطاب دیا گیا تھا، اٹھارہ جولائی سنہ انیس سو ستائیس کو بھارتی ریاست راجھستان کے ایک گاؤں لونا میں پیدا ہوئے تھے۔

آغا خان ہسپتال کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بدھ کی صبح ساڑھے نو بجے کے قریب ان کی طبیعت اچانک بگڑنا شروع ہوگئی اور بارہ بج کر پندرہ منٹ پر ان کا انتقال ہوگیا۔

وہ پاکستان کے قیام کے بعد راجستھان سے کراچی منتقل ہوگئے تھے جہاں ابتدا میں انہوں نے زندگی کے دشوار ترین دن گذارے، ان دنوں انہوں نے سائیکل پنکچر بنانے کی دکان پر کام کیا جس کے بعد ایک موٹر میکنیک ورکشاپ سے منسلک ہوگئے۔

وہ پچپن سے ہی گلوکاری کے اسرار و رموُز سے آشنا تھے اور اس عرصے میں انہوں نے ریاضت کو جاری رکھا۔ موسیقی کی دنیا میں ان کے سفر کا باقاعدہ آغاز سنہ انیس سو باون میں ریڈیو پاکستان کے کراچی سٹوڈیو سے ہوا اور انہوں نے اپنے کیریئر میں پچیس ہزار سے زیادہ فلمی اور غیر فلمی گیت اور غزلیں گائیں۔

سنہ انیس سو ساٹھ اور ستر کی دہائی میں ان کا شمار عوام کے پسندیدہ ترین فلمی گلوکاروں میں ہوتا تھا۔

حکومت پاکستان ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں تمغۂ امتیازاور تمغۂ حسنِ کارکردگی سے بھی نواز چکی ہے۔

مہدی حسن کی گائیگی بھارت اور پاکستان میں یکساں مقبول ہے اور بھارت کی ممتاز گلوکارہ لتا منگیشکر نے ایک بار مہدی حسن کی گائیگی کو ’بھگوان کی آواز‘ سے منسوب کیا تھا۔

دنیائے غزل اور پاکستانی فلمی صنعت کے چوٹی کےگلوکار مہدی حسن طویل علالت کے بعد بدھ کو کراچی میں انتقال کر گئے ہیں۔

مہدی حسن کافی عرصے سے فالج کے عارضے میں مبتلا تھے اور آغا خان ہسپتال میں داخل تھے جہاں ان کا علاج ہو رہا تھا۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here