شہریوں کی ہلاکت کی عدالتی تحقیقات

Posted by on Jun 18, 2012 | Comments Off on شہریوں کی ہلاکت کی عدالتی تحقیقات

 

پاکستان کے صوبہ سندھ کی ضلع جامشورو کے علاقے نوری آباد میں چار عام شہریوں کی پولیس کے ہاتھوں مبینہ ہلاکت کے واقعے کی عدالتی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ جوڈیشل انکوائری کے بعد درج کیا جاتا تو بہتر تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’ اگر جوڈیشل انکوائری میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ پولیس مقابلہ جعلی تھا تو اندارج کیا جاتا اور انکوائری سے قبل بیس اہلکاروں کے خلاف مقدمے کا اندارج غلط روایت ہے‘۔

اس احتجاج کے بعد اتوار کو رات گئے دو ڈی ایس پیز ، ایک ایس ایچ او اور ایک سب انسپکٹر سمیت بیس پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا تھا۔

تاہم ہلاک ہونے والے افراد کے ورثاء اور برادری کے لوگ مقدمے کے اندراج پر مطمئن نہیں تھے اور ان کا مطالبہ تھا کہ واقعہ کے عدالتی تحقیقات بھی کرائی جائے۔

جامشورو کے ایس ایس پی جامشورو وقار ملن نے صحافی علی حسن کو بتایا ہے کہ وزیراعلٰی سندھ نے معاملے کی عدالتی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

ادھر پیر کی صبح کوٹری کے رہائشی چاروں مقتولین کی تدفین کر دی گئی ہے۔ شورو برادری سے تعلق رکھنے والے یہ چاروں افراد آپس میں رشتہ دار بھی تھے۔

ہلاک ہونے والے ایک شخص رجب کے بھائی سہراب کا کہنا ہے کہ ان کے بھائی کی پولیس اہلکاروں کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی تھی۔ انہوں نے دعوٰی کیا کہ’پولیس ان لوگوں سے رقم طلب کر رہی تھی جس پر معاملہ اتنا بڑھ گیا کہ پولیس نے انہیں سامنے کھڑا کر کے گولیاں مار دیں‘ ۔

ہلاکتوں کا یہ واقعہ اتوار کی صبح پیش آیا تھا۔ پولیس نے ایک مقابلے میں ڈاکوؤں کو مارنے کا دعویٰ کیا تھا تاہم ہلاک ہونے والے افراد کے رشتہ داروں اور قبیلے کے افراد نے انہیں عام شہری قرار دیتے ہوئے کراچی حیدرآباد سپر ہائی وے پر دھرنا دے دیا تھا جس کے نتیجے میں چار گھنٹے تک ٹریفک معطل رہی تھی۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here