شمالی وزیرستان: آپریشن کی ضرورت نہیں

Posted by on Jun 02, 2011 | Comments Off on شمالی وزیرستان: آپریشن کی ضرورت نہیں

پاکستان کے مصیبت زدہ صوبے خیبر پختونخواہ کے کور کمانڈر آصف یاسین ملک نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں فی الحال آپریشن کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

یہ بات انہوں نے بدھ کو قبائلی ایجنسی مہمند کے علاقے مہمند گھٹ میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔ اس بریفنگ کا اہتمام فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے نے کیا اور اسلام آباد سے ملکی و غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو دو ہیلی کاپٹرز میں وہاں لے جایا گیا۔

اس بریفنگ کا مقصد تو مہمند ایجنسی میں فوجی آپریشن کی پیش رفت سے آگاہ کرنا تھا جہاں فوج اور طالبان کی لڑائی کی وجہ سے ہزاروں لوگ نقل مکانی کر کے چلے گئے تھے۔ وہ واپس آئے ہیں اور تباہ حال سکول بحال کر کے وہاں تعلیم کا سلسلہ دوبار شروع کیا گیا ہے۔

لیکن بظاہر اس بریفنگ کا مقصد ایسا لگا کہ شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کے بارے میں امریکی دبا سے متعلق شائع ہونے والی خبروں کا تاثر زائل کرنا ہے۔

انہوں نے شمالی وزیرستان میں آپریشن کی نفی کر کے امریکی فوج کے کمانڈر ایڈمرل مائک ملن کے اس بیان کو ایک لحاظ سے مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان بہت جلد شمالی وزیرستان میں آپریشن کرنے والا ہے۔

انہوں نے تاثر دیا کہ شمالی وزیرستان میں حالات بالکل ٹھیک ہیں۔ پانچ کروڑ ڈالر کی لاگت سے بنوں غلام خان سڑک بن رہی ہے جو اس علاقے کا نیا ٹریڈ کاریڈور ہوگا۔ دو روز قبل رزمک کالج کھلا ہے۔ وہاں ہماری ایک ڈویژن سے زائد فوج موجود ہے۔ ہم اپنے راستے پر ٹھیک چل رہے ہیں۔

تاہم انہوں نے اور ان کے ہمراہ فوجی ترجمان میجر جنرل اطہر عباس دونوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ شمالی وزیرستان میں جب بھی فوجی اعتبار سے اور قومی مفاد میں ضروری ہوا اور حکومت نے فیصلہ کیا تو آپریشن کریں گے۔ لیکن باہر سے کسی کے دبا یا خواہش پر کارروائی نہیں کریں گے۔

مقامی فوجی کمانڈروں کے مطابق مہمند ایجنسی سے نقل مکانی کر جانے والے ہزاروں خاندان واپس آ گئے ہیں اور اب امن کمیٹیاں تشکیل دے کر انتظام سویلین حکام کے حوالے کیا گیا ہے۔

جب کور کمانڈر سے پوچھا کہ شمالی وزیرستان میں حقانی اور حافظ گل بہادر کے نیٹ ورک ایسے ہں جن کے بارے میں امریکہ کو تشویش ہے اور وہ افغانستان میں گھس کر امریکی افواج پر حملے کرتے ہیں تو کور کمانڈر نے کہا کہ نیٹ ورک کے لفظ کا غلط استعمال ہوتا ہے۔ اگر چار لوگ بیٹھتے ہیں تو انہیں نیٹ ورک کا نام دیتے ہیں۔ مہمند کے سامنے افغانستان کے کنڑ صوبے سے یہاں ہم پر حملہ کرتے ہیں کیا میں بھی یہ کہوں کہ وہاں ان کا نیٹ ورک ہے۔

ایک موقع پر انہوں نے کہا کہ کنڑ سے جو شدت پسند پاکستان میں حملے کرتے ہیں ان کے بارے میں امریکہ اور نیٹو افواج کو بتا دیا ہے لیکن وہ شاید اس پیمانے پر کارروائی نہیں کر رہے جس پیمانے پر پاکستان چاہتا ہے۔

ہم نے شمالی وزیرستان سمیت مختلف علاقوں سے شدت پسند گرفتار کر کے افغانستان کے حوالے کیے ہیں اور یہ باہمی بنیاد پر ہوتا ہے۔ میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ کنڑ سے کئی لوگ ہماری افواج پر حملے کرتے ہیں۔ اگر ہم ان سے توقع کرتے ہیں کہ وہ کچھ کریں تو میرا خیال ہے کہ ایسا یہاں بھی کیا جا سکتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں پشاور کے کور کمانڈر نے پاکستان میں امریکہ یا کسی اور کے ساتھ مشترکہ آپریشن کے تاثر کو بھی رد کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی فورسز اپنے علاقوں میں اکیلے کارروائی کرنے کی مکمل طور پر اہل ہیں۔

قبل ازیں مقامی کمانڈرز نے مہمند ایجنسی کے متعلق بریفنگ میں بتایا کہ آٹھ تحصیلوں پر مشتمل اس ایجنسی کی سات تحصیوں سے مکمل طور پر طالبان کو پسپا کر دیا گیا ہے۔ جبکہ صافی تحصیل جو افغانستان کی سرحد سے جڑی ہوئی ہے وہاں بیس فیصد علاقے میں اب بھی گڑ بڑ ہے۔

ان کے بقول باقی علاقوں سے کچھ شدت پسند مارے گئے، کچھ پکڑے گئے، کچھ نے گرفتاری پیش کی اور کچھ بھاگ گئے ہیں۔

مقامی کمانڈرز کے مطابق مہمند ایجنسی سے نقل مکانی کر جانے والے ہزاروں خاندان واپس آ گئے ہیں اور اب امن کمیٹیاں تشکیل دے کر انتظام سویلین حکام کے حوالے کیا گیا ہے۔

صحافیوں کو مہمند ایجنسی کے علاقے جھنڈا میں ایک سکول کا دورہ کرایا گیا جہاں پچیس بچیوں سمیت ساڑھے چار سو طلبا زیر تعلیم ہیں۔ وہاں بعض بچوں نے بتایا کہ طالبان شدت پسندوں نے سکول تباہ کیے اور کئی سال ان کی تعلیم متاثر ہوئی اور اب وہ بارہ سال کی عمر میں بھی تیسری اور چوتھی جماعت پڑھ رہے ہیں۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here