’شام میں ایک اور قتلِ عام، حما میں 86 افراد ہلاک

Posted by on Jun 07, 2012 | Comments Off on ’شام میں ایک اور قتلِ عام، حما میں 86 افراد ہلاک

شام کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ فوج کو ’دہشتگردوں‘ کے خلاف کارروائی کے بعد کچھ لاشیں ملی ہیں۔

تاہم آزادانہ ذرائع سے دونوں جانب سے ملنے والی اطلاعات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

لگ بھگ دو ہفتے قبل ہی شام میں حولہ نامی قصبے میں ایک سو آٹھ افراد کو ہلاک کر دیا گیا تھا جن میں بڑی تعداد میں بچے شامل تھے۔

اس واقعے کے لیے عینی شاہدین حکومت کی حامی ملیشیا کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ ایسا مسلح گروپ کر رہے ہیں تاکہ شام کے خلاف غیر ملکی فوجی طاقت کے استعمال کا جواز فراہم کیا جا سکے۔

شام میں حزب اختلاف کے کارکنوں کا کہنا ہے کے حکومت کی حامی فورسز نے حما صوبے میں عورتوں اور بچوں سمیت چھیاسی افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔

قبیر کے ایک رہائشی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے خاندان کے چار افراد اس واقعے میں مارے گئے اور جب فوج اور حکومتی ملیشیا گاؤں سے چلی گئیں تو انہوں نے چالیس لاشیں گنیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مرنے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں جنہیں چاقوؤں کے وار کر کے ہلاک کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ملیشیا کے ارکان اپنے ساتھ پینتیس کے قریب لاشیں لے گئے ہیں۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کے ایک نیٹ ورک ’لوکل کوآّرڈینیشن کمیٹی‘ کا کہنا ہے کہ اٹھہتر افراد القبیر میں ہلاک ہوئے جس میں ایک ہی خاندان کے پینتیس افراد شامل ہیں۔ اس گروپ کے مطابق ان ہلاکتوں کو ملا کر صرف بدھ کے روز شام بھر میں ایک سو چالیس افراد ہلاک ہوئے۔

ادھر سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ شام میں قیامِ امن کے لیے کوشاں اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان جمعرات کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیں گے کہ وہ شام میں جاری تشدد کے خاتمے کے لیے سلامتی کونسل کے مستقل ارکان اور خطے کی اہم طاقتوں پر مشتمل نیا رابطہ گروپ تشکیل دے۔

اقوامِ متحدہ میں بی بی سی کی نامہ نگار نادا توفیق کے مطابق کوفی عنان چاہتے ہیں کہ اس معاملے میں ترکی اور ایران جیسے ممالک کو بھی شامل کیا جائے لیکن امریکی وزیرِ خارجہ پہلے ہی کہہ چکی ہیں کہ ان معاملات میں ایران جیسے ممالک کو شامل کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

شام میں حزبِ اختلاف کے اتحاد شامی قومی کونسل کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ قتلِ عام القبیر اور مارزاف نامی دو دیہاتوں میں ہوا ہے اور ہلاک ہونے والوں میں بیس سے زائد بچے اور اتنی ہی تعداد میں خواتین شامل ہیں۔

شام میں قیامِ امن کے لیے کوشاں اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان جمعرات کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیں گے کہ وہ شام میں جاری تشدد کے خاتمے کے لیے سلامتی کونسل کے مستقل ارکان اور خطے کی اہم طاقتوں پر مشتمل نیا رابطہ گروپ تشکیل دے۔”

              سفارتی ذرائع

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here