سی این جی کے بعد ایل این جی تشہیر

Posted by on Jun 12, 2012 | Comments Off on سی این جی کے بعد ایل این جی تشہیر

سنہ 1997 میں کمپریسڈ نیچرل گیس یعنی سی این جی کو پٹرول کے متبادل کے طور پر فروغ دیا گیا۔ کہا گیا تھا کہ یہ نہ تو ماحول کو پٹرول کی طرح آلودہ کرتا ہے بلکہ اس سے درآمدات کے بل میں بھی کمی آئے گی اور اس کی تقسیم کے لیے پہلے سے پائپ لائن کا جال موجود ہے۔ صارفین کو اس بات سے قائل کیا گیا تھا کہ یہ پٹرول سے بہت سستا بھی ہے۔

لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تمام عارضی حل ہیں اور جب تک ایران اور ترکمانستان کے ساتھ پائپ لائن کے منصوبے عمل میں نہیں لائے جاتے اس وقت تک ملک کو تباہ کن صورتِ حال کا سامنا ہو گا۔

 قتصادی امور کے صحافی احتشام الحق کا کہنا ہے کہ توانائی کے شعبے میں کوئی بھی درآمد بدعنوانی کی وجہ سے متنازع رہتی ہے۔ ’جب بھی پٹرولیم کی وزارت درآمد کرنے کا منصوبہ بناتی ہے تو اس پر الزامات لگتے ہیں۔ جیسے کہ پٹرولیم کے سابق وزیر نوید قمر پر لگے۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ تک گیا اور ان منصوبوں کو روک دیا گیا۔‘ماہرین کا کہنا ہے کہ گیس کی کمی کو پورا کرنے کے لیے یا تو گیس کے نئے ذخائر دریافت کیے جائیں یا تو ایران اور ترکمانستان کے ساتھ پائپ لائن کو عمل میں لایا جائے۔ لیکن غیاس پراچہ کہتے ہیں کہ یہ موجودہ حکومت کی بس کی بات نہیں ہے۔

چاہے، صحافی ہوں یا توانائی کے شعبے کے ماہر، سب کا کہنا ہے کہ حکومت کی کمزور منصوبہ بندی کی وجہ سے عوام کو قلت کے بحران کا سامنا ہے۔ اگر گیس کو درآمد کیا جاتا ہے تو وہ مہنگی، اگر گیس پائپ لائن کے منصوبوں کا انتظار کیا جاتا ہے، تو اس میں تاخیر۔ کہیں سے عوام کے مسائل کا مستقبل قریب میں حل نظر نہیں آتا۔

’یہ سیاسی حکومت ہے اور انہوں نے دکھانا ہوتا ہے کہ ہم نے بڑے بڑے منصوبے بنائے ہیں۔ تین سال میں تین پالیسیاں بدلی ہیں۔ اسی طرح کبھی کہتے ہیں پاک ایران گیس پائپ لائن مکمل کریں گے، کبھی کہتے ہیں ٹاپی کو مکمل کریں گے۔ صدور ملاقات کرتے ہیں اور اجلاس ہوتے ہیں، مگر کوئی رقم نہیں مختص کی جاتی اور عملی طور پر کوئی کام نہیں ہوتا۔‘

حکومِت پاکستان نے گیس کی مسلسل قلت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے گیس کے متبادل ذرائع کی درآمد جیسے ایل پی جی اور ایل این جی کی مہم چلائی ہوئی ہے۔

لیکن اب ملک میں گیس کی قلت ایسی ہے کہ سی این جی پر لوڈشیڈنگ بھی کی جا رہی ہے اور قیمتوں میں اضافہ بھی۔ تو اتنی بڑی صنعت کا کیا بنے گا؟

حکومت لیکیوفائڈ نیچرل گیس یعنی ایل این جی کو سی این جی کے متبادل کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ 2011 اور 2012 کے اقتصادی سروے کے مطابق گیس کی قلت سے نمٹنے کے لیے ایل این جی کی پالیسی تشکیل دی گئی ہے۔

ایل این جی وہ گیس ہے جس کو ایسے عمل سے گزارا جاتا ہے کہ گیس کو مہلول کی شکل دی جاتی ہے۔ پاکستان میں اس کا گھریلو استعمال ان علاقوں میں زیادہ ہے جہاں گیس پائپ لائن کی رسد نہیں ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گیس کی کمی کو پورا کرنے کے لیے یا تو گیس کے نئے ذخائر دریافت کیے جائیں یا تو ایران اور ترکمانستان کے ساتھ پائپ لائن کو عمل میں لایا جائے

لیکن توانائی کے شعبے کے ماہر اور سابق سیکریٹری پٹرولیم ڈاکٹر گل فراز کا کہنا ہے کہ ایل این جی کی درآمد ایک عارضی حل ہے۔ ’حکومت کی ایل این جی کی مہم ایسی ہے جیسے کہیں آگ لگ چکی ہو تو اس کو جلدی سے مٹی سے بجھایا جائے۔ یہ اس لیے کرنا پڑھ رہا ہے کیونکہ حکومت گیس پائپ لائن کے منصوبوں کو بروئے کار نہیں لاپائی۔ ایک تو ایل این جی مہنگی ہے اور اس کی اتنی مقدار درآمد نہیں ہو سکتی جتنی گیس پائپ لائن کے ذریعے ہوتی ہے۔‘

ڈاکٹر گل فراز کے مطابق ایل این جی کے ساتھ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ اس کی قیمت بین الاقوامی منڈی سے منسلک ہے اور اس میں پٹرول کی طرح اتار چڑھاؤ ہوتا رہے گا

’پورے ملک میں جتنے بھی سی این جی سٹیشن ہیں جو ملک بھر میں تین ہزار چار سو کے قریب ہیں، یہ سات اعشاریہ چھ فیصد گیس استعمال کرتے ہیں۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ گیس کمپنیوں کی آمدنی کا تقریباً تیس فیصد حصہ ہم سے ملتا ہے۔‘

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here