سیاسی ماحول کی گرمی کم کرنا ہوگی: فضل الرحمان

Posted by on Jun 22, 2012 | Comments Off on سیاسی ماحول کی گرمی کم کرنا ہوگی: فضل الرحمان

وزارتِ عظمٰی کے امیدوار جمیعتِ علمائے کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پیپلزپارٹی کے امیدوار کے حق میں دستبردار ہونے کی مشروط پیشکش کی ہے۔

وزارتِ عظمٰی کے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے کے بعد بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس بات کا فیصلہ پیپلز پارٹی کو کرنا ہے کہ وہ ایسی کیا تجاویز دے سکتے ہیں جس سے ملک میں جمہوریت کا مستقبل محفوظ ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کا مکمل دارومدار پیپلزپارٹی پر ہے کہ وہ ماحول کی گرمی کو کیسے کم کرسکتے ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ ایسی کیا تجاویز ہوسکتی ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ یہ بات پیپلزپارٹی کو سوچنی چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں کہ اگر وہ وزیرِ اعظم بن گئے تو کیا سوئس حکام کو عدالتِ عظمٰی کے فیصلے کے تحت صدر کے خلاف خط لکھیں گے تو ان کا کہنا تھا کہ وہ ذرائع ابلاغ کے اشاروں پر ہرگز نہیں چلیں گے اور جو معاملہ کل پیش آنے والا ہے اس پر پہلے سے تنازع کھڑا کرنا ٹھیک نہیں ہے۔

خود کو وزارتِ عظمٰی کے امیدوار کی حیثیت سے سامنے لانے پر ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ کافی طویل عرصے سے گوشہ نشین تھے تاہم ملک میں موجود تصادم کی صورتِ حال کی وجہ سے ان کے خیال میں خاموش بیٹھنا مناسب نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کو اپنی عددی اکثریت معلوم ہے مگر حکومت اور عدلیہ کے درمیان جاری تصادم کی فضاء میں وہ ایک متبادل آپشن بھی پیش کرنا چاہ رہے تھے۔

“اس بات کا فیصلہ پیپلز پارٹی کو کرنا ہے کہ وہ ایسی کیا تجاویز دے سکتے ہیں جس سے ملک میں جمہوریت کا مستقبل محفوظ ہوسکتا ہے۔”

مولانا فضل الرحمان

حکمران اتحاد میں شامل دیگر جماعتوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ کیونکہ ان کی قیادت پیپلزپارٹی کر رہی ہے اور ان کی پیپلزپارٹی کی قیادت سے ’ہیلو ہائے ‘ بھی ہے اس لیے وہ ان سے رابطے میں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ صدر آصف زرداری نے گزشتہ روز ان سے بات کی تھی اور پیپلزپارٹی کے امیدوار کی حمایت کرنے کے لیے درخواست کی تھی مگر پیپلزپارٹی کی حمایت کرنے سے شاید ملک کی صورتِ حال بہتر نہ ہو اس لیے صدر زرداری سے کہا کہ وہ پہلے بھی غیر روایتی فیصلے کر چکے ہیں تو اس بار بھی غور کریں اور اگر پیپلز پارٹی آمادہ ہوگئی تو پھر باقی اتحادیوں کو مائل کرنا ممکن ہو سکے گا۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ ن لیگ کی قیادت سے بھی رابطے میں ہیں اور انہوں نے جمیعت علمائے اسلام کی تجویز پر غور کرنے کا وعدہ کیا ہے اور اگرچہ ن لیگ نے اپنا امیدوار نامزد کیا کیا ہے تاہم ابھی ان کے پاس کل تک کا وقت موجود ہے اور اگر مفاہمت ہوگئی تو امیدوار سبکدوش بھی ہوسکتا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کے انتخاب میں حصہ لینے سے کیا حزبِ اختلاف کا ووٹ تقسیم نہیں ہوجائے گا تو ان کا کہنا تھا کہ اگر حزبِ اختلاف کا ووٹ تقسیم نہ بھی ہو تب بھی وہ ضرورت سے کم ہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پیپلزپارٹی کے ایک وزیر اعظم کو عدلیہ نے نااہل قراردے دیا ہے اور اب وزارتِ عظمٰی کے دوسرے امیدوار کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ بھی جاری کر دیے گئے ہیں اس لیے اس وقت وہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ سمیت تمام جماعتوں کے لیے ایک متبادل راستہ دکھا رہے ہیں کہ وہ ایک متفقہ امیدوار کی طرف بھی آسکتے ہیں۔ ۔

وزیرِاعظم کی نااہلی کے فیصلے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ جب اصل فریق ہی نے فیصلہ تسلیم کر لیا ہے تو وہ اس پر رائے دینا پسند نہیں کریں گے۔

پارلیمان کی بالادستی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں سوال اٹھائے جا رہے ہیں مگر وہ تفصیلی فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے اور پھر آئینی ماہرین سے مشاورت کی جائے اور اگر پارلیمان پر حرف آیا ہے تو ایک جمہوری شخص ہونے کے ناطے وہ اپنی رائے ضرور دیں گے۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here