’سیاسی سیل ہے بھی تو اب کام نہیں کر سکتا‘

Posted by on Jul 17, 2012 | Comments Off on ’سیاسی سیل ہے بھی تو اب کام نہیں کر سکتا‘

اکستان کی سپریم کورٹ نے خفیہ ادارے آئی ایس آئی یعنی انٹر سروسز انٹیلیجنس کی طرف سے نوے کی دہائی میں سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم سے متعلق ایئرمارشل ریٹائرڈ اصغر خان کی درخواست کی سماعت کے دوران موقف اختیار کیا کہ اس خفیہ ادارے میں اگر کوئی سیاسی سیل ہے بھی تو وہ اب کام نہیں کر سکتا۔

اس درخواست کی سماعت کرنے والے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اٹارنی جنرل عرفان قادر کو حکم دیا کہ آئی ایس آئی میں سیاسی سیل سے متعلق اُس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل اسد درانی نے جو سمری وزارتِ قانون کو بھیجی تھی اُس کا جائزہ لیا جائے اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر وہ سمری سربمہر کر کے عدالت میں پیش کی جائے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ آئی ایس آئی چونکہ وزیر اعظم کے ماتحت ہے، اس لیے اُن کے نوٹس میں بھی لائیں کہ اب اس ادارے میں کوئی بھی سیاسی سیل کام نہیں کر سکتا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ تین نومبر سنہ دو ہزار سات کو سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے اقدامات کے خلاف اکتیس جولائی سنہ دو ہزار نو کا فیصلہ بہت واضح ہے۔

بینچ میں موجود جسٹس خلجی عارف حسین خلجی کا کہنا تھا کہ اس سیل سے متعلق کچھ دستاویزات اٹارنی جنرل کے آفس میں بھی بھیجے گئے تھے، اس لیے اُنہیں وہاں پر بھی تلاش کیا جانا چاہیے۔

اس درخواست کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل عرفان قادر نے عدالت کو بتایا کہ وزارتِ قانون اور کیبنٹ ڈویژن سے بھی سارا ریکارڈ تلاش کیا گیا لیکن اس سیل کا نوٹیفکیشن نہیں مل رہا۔

مرزا اسلم بیگ کا بیان

“سیاست دانوں میں تقسیم کی گئی رقوم فوج کے نہیں بلکہ آئی ایس آئی کے اکاونٹ میں آئی اور اُنہوں نے اُس وقت کے صدر غلام اسحاق خان کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے مختلف بینکوں میں سیاست دانوں کے اکاونٹ کھلوائے اور اُن میں رقوم منتقل کیں”

مرزا اسلم بیگ

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بری فوج کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ مرزا اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کی طرف سے عدالت میں جمع کروائے گئے بیانِ حلفی سے یہ بات طے ہوگئی ہے کہ سیاست دانوں میں رقوم تقسیم کی گئی ہیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اس اہم مقدمے میں ابھی تک وزارتِ دفاع کی جانب سے کوئی پیش نہیں ہوا۔ اس کی وضاحت دیتے ہوئے سیکرٹری دفاع نرگس سیٹھی کا کہنا تھا کہ آئی ایس آئی اور ایم آئی یعنی ملٹری انٹیلیجنس اپنا موقف خود عدالت میں پیش کرنا چاہتے ہیں۔ اس مقدمے کی سماعت دو ہفتوں تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

اُنہوں نے کہا کہ اس بات کا پتہ نہیں چل رہا کہ رقوم کس نے تقسیم کیں اور کس کس سیاست دان کو کتنی رقم دی گئی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کسی کو قومی خزانے سے کسی کی بھی حکومت کو خراب کرنے یا اُس کے خلاف سازش کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

یاد رہے کہ سینیٹ یعنی ایوان بالا میں حکومتی سینیٹر فرحت اللہ بابر کی طرف سے آئی ایس آئی کے اختیارات سے متعلق ایک بل پیش کیا گیا تھا جسے بعدازاں موخر کردیا گیا۔

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here