’سوشل میڈیا روایتی میڈیا کا متبادل نہیں‘

Posted by on Jul 15, 2012 | Comments Off on ’سوشل میڈیا روایتی میڈیا کا متبادل نہیں‘

 

سنیچر کو میلے کے شرکاء کو جس سیشن کا بے صبری سے انتظار تھا اسے شاید منتظمین نے دلچسپی برقرار رکھنے کے لیے سب سے آخر میں رکھا تھا۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں سنیچر کو پاک بھارت سوشل میڈیا میلے کا اختتام ہو گیا جس میں سماجی رابطوں سے متعلق کئی اہم موضوعات پر بات ہوئی۔

میلے کے شرکاء کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کو اپنا مقام بنانے میں ابھی وقت لگے گا اور اسے روایتی میڈیا کا متبادل سمجھما درست نہیں ہے۔

اس گفتگو کا موضوع کہ کیا ٹوئیٹر نیا نیوز روم ہے نہ صرف مجھ جیسے صحافیوں کے لیے باعثِ دلچسپی تھا بلکہ مرکزی ہال کو کچھا کچھ بھرا دیکھ کر یہ بات با آسانی کہی جا سکتی تھی کہ میلے میں شریک نوجوان سٹیزن جرنلسٹ یا عوامی صحافی بننا جاننا چاہتے ہیں۔ آیا واقعی سوشل میڈیا روایتی میڈیا کی جگہ لے رہا ہے۔

تمام شرکائے گفتگو نے جہاں ٹوئٹر کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اسے خیالات یا اطلاعات بانٹنے کا ابتدائی ذریعہ تسلیم کیا وہیں وہ اسے روایتی میڈیا کے متبادل تو کیا اس کا ہم پلہ بھی ماننے کو تیار نہیں تھے۔

“اگر آپ مصدقہ خبر کی تلاش میں ہیں تو آپ کو ایسے ذرائع کے پاس جانا چاہیے جو اپنی خبر کی ذمہ داری لینے کو تیار ہوں۔”

سینیئر صحافی اور مصنف محمد حنیف

سینیئر صحافی اور مصنف محمد حنیف اور بھارتی نیوز ویب سائیٹ تہلکہ ڈاٹ کام سے تعلق رکھنے والی کرونا جان اس بات پر متفق نظر آئے کہ ٹوئیٹر کا اطلاعات کی جلد فراہمی کا ذریعہ ہونا اپنی جگہ لیکن اسے خبر كی فراہمی کا بنیادی ذریعہ ماننا درست نہیں ہے۔

محمد حنیف نے بی بی سی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غلط خبر دینے سے صحیح خبر دینا زیادہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہ آج بھی اگر آپ مصدقہ خبر کی تلاش میں ہیں تو آپ کو ایسے ذرائع کے پاس جانا چاہیے جو اپنی خبر کی ذمہ داری لینے کو تیار ہوں۔

کرونا جان کا کہنا تھا کہ ٹوئیٹر صرف ایک ذریعہ ہے جس کے صحیح یا غلط استعمال کا دارومدار اس فرد پر ہے جو اسے استعمال کر رہا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ روایتی میڈیا میں خبر کی تیاری اور اسے نشر کرنے کے بارے میں جن صحافتی اصولوں کا خیال رکھا جاتا ہے وہ ٹوئیٹر پر دکھائی نہیں دیتا اور یہی وجہ ہے کہ بچوں سے متعلق یا دیگر حساس موضوعات پر خبر سامنے لانے کے لیے روایتی میڈیا ہی اب تک صحیح میڈیم ہے۔

“ٹوئیٹر پر پاکستان میں ایسے موضوعات پر بھی بات کی جا سکتی ہے جن پر روایتی میڈیا بات کرنے کو یا تو تیار نہیں یا مختلف وجوہات کی وجہ سے اس کا حوصلہ نہیں رکھتا۔”

صحافی محمل سرفراز

عوامی صحافی نوربرٹ المیڈا کا کہنا تھا کہ ٹوئیٹر اطلاعات کی جلد فراہمی کی وجہ سے ایک کارآمد ذریعہ ہے لیکن اس پر غیر مقصدقہ اطلاعات کی بھرمار اسے صحافیوں کے لیے خبر کے حصول کا ایک مشکل ذریعہ بناتا ہے۔

اس تقریب کے دوران ماہرین کی بات چیت اور شرکائے محفل کے سوال و جواب کے بعد ایک بات جو واضح طور پر ابھر کر سامنے آئی وہ یہ تھی کہ جب تک سوشل میڈیا پر خواہش کو خبر کی شکل دینے کا رجحان موجود رہے گا اسے خبر کے حصول کے ایک قابلِ بھروسہ ذریعے کے طور پر تسلیم کیا جانا ممکن نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹوئیٹر پر صرف حقائق ہی ٹویٹ کیے جانے چاہیں اور ایسا ہوگا تب ہی وہ قابلِ اعتبار بن سکتا ہے۔ نوربرٹ نے ٹویٹس کی مدد سے علاقائی معلومات کی فراہمی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ جہاں ملک کا روایتی میڈیا کسی ایک شہر کے حالات یا ٹریفک کی صورتحال کے بارے میں خبر نہیں دیتا وہاں ٹوئٹر سے ہی کام لیا جاتا ہے۔

دورانِ گفتگو پینل میں شریک لاہور سے تعلق رکھنے والی صحافی محمل سرفراز کا کہنا تھا کہ ٹوئیٹر پر پاکستان میں ایسے موضوعات پر بھی بات کی جا سکتی ہے جن پر روایتی میڈیا بات کرنے کو یا تو تیار نہیں یا مختلف وجوہات کی وجہ سے اس کا حوصلہ نہیں رکھتا۔ بلوچستان میں ہونے والی ہلاکتوں اور احمدی اقلیت کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کی کوریج کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان دونوں معاملات میں پاکستانی سوشل میڈیا کی کارکردگی روایتی میڈیا سے کہیں بہتر رہی ہے۔

 

Advertisement

Subscription

You can subscribe by e-mail to receive news updates and breaking stories.

————————Important———————–

Enter Analytics/Stat Tracking Code Here